19/October/2026

نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام

👁️ 69 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام

نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام

تہران(ڈیلی اردو) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی مشکلات سے توجہ ہٹانے اور ممکنہ عدالتی سزا سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور فوجی تصادم کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا فیصلہ واشنگٹن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

عراقچی نے اتوار کی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ مرتبہ امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی کے ذریعے معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کے بقول ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا۔ انہوں نے امریکی قیادت کو دوبارہ ایسا قدم اٹھانے کا چیلنج دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تہران کی جانب سے بھی کچھ معاملات ابھی نامکمل ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ ردعمل ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایران کے خلاف مشترکہ حکمت عملی میں اہم اتحادی قرار دیا اور اشارہ دیا کہ اگر اسرائیلی ووٹرز نے کسی دوسرے رہنما کا انتخاب کیا تو واشنگٹن کو ایران سے متعلق بعض معاملات خود نمٹانا پڑ سکتے ہیں۔

عراقچی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اسرائیل اور امریکہ پر ممکنہ جنگ کے اثرات کی پروا کیے بغیر امریکی حکومت کو نئے تصادم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ تاہم، یہ نیتن یاہو کے سیاسی مقاصد کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ کا الزام ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔ نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا انحصار انتخابی نتائج اور حکومت سازی کے امکانات پر ہوگا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی ٹرمپ کی حمایت کا خیرمقدم کیا اور ایران کے خلاف دونوں ممالک کے تعاون کو اپنی انتخابی مہم کا اہم نکتہ بنایا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کے وقت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان مشاورت جاری رہی، تاہم فوجی کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی کوششیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تجویز واشنگٹن کے سامنے رکھی ہے، لیکن پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی انتخابی سیاست بھی خطے کی صورت حال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ انتخابی نتائج کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے بارے میں اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کریں گے یا نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C