07/May/2022

وادی پنجشیر میں تین اضلاع کا قبضہ طالبان سے واپس لے لیا، قومی مزاحمتی محاذ کا دعویٰ

👁️ 23 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
وادی پنجشیر میں تین اضلاع کا قبضہ طالبان سے واپس لے لیا، قومی مزاحمتی محاذ کا دعویٰ

وادی پنجشیر میں تین اضلاع کا قبضہ طالبان سے واپس لے لیا، قومی مزاحمتی محاذ کا دعویٰ

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی مزاحمتی محاذ نامی مقامی مزاحتمی ملیشیا (این آر ایف) نے صوبہ پنجشیر میں طالبان کیخلاف مزاحمتی حملوں کا اعلان کردیا۔ سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے مسلح بغاوت میں حملوں کی قیادت کررہے ہیں، احمد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان سے لڑائی کے دوران تین شمالی اضلاع کا قبضہ واپس لے لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) نے کہا ہے کہ وادیِ پنجشیر میں کارروائی طالبان فورسز کے خلاف پہلی مسلح جارحیت ہے۔

قومی مزاحمتی فورسز نے گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کیخلاف آخری بار مزاحمت کی تھی مگر وہ امریکا کے حمایت یافتہ سرکاری فوجیوں کے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے چند ہفتے کے بعد ستمبر میں وادیِ پنج شیر میں پسپا ہوگئی تھیں اور طالبان نے ان کی جگہ پہلی بار وادی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

این آر ایف کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی نزاری نے اے ایف پی کو بتایا کہ کل رات (جمعہ کو) احمد مسعود نے اپنی فورسز کو جارحانہ مزاحمت شروع کرنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد سے پنج شیر میں 3 بڑے اضلاع کو آزاد کرالیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این آر ایف نے ان اضلاع کی مرکزی شاہراہوں، چوکیوں اور دیہات کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ضلعی صدر دفاتر میں طالبان جنگجوؤں کا محاصرہ کرلیا ہے۔

علی نزاری نے دعویٰ کیا کہ ’’بہت سے طالبان جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالنے کیلئے وقت مانگا ہے اور دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ این آر ایف کی مسلح جارحانہ کارروائی افغانستان کے ان 12 شمالی صوبوں میں جاری رہے گی جہاں اس کی فورسز موجود ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکومت نے قومی مزاحمتی محاذ کے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنج شیر یا ملک کے کسی اور حصے میں کوئی ’’فوجی واقعات‘‘ نہیں ہوئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ذرائع ابلاغ میں کچھ باغیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ہیں جبکہ وادیِ پنج شیر کے مکینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ رات کے وقت شدید لڑائی ہوئی ہے۔

ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ لوگ لڑائی کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ایک اور افغان نے بتایا کہ این آر ایف کے جنگجوؤں نے طالبان کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی ہے۔

طالبان کے ایک مقامی کمانڈر داد محمد بطار نے تصدیق کی ہے کہ ان کی این آر ایف جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی ہورہی ہے لیکن ہمیں گھیرا گیا ہے اور نہ ہی گھات لگا کر ہم پر کوئی حملہ کیا گیا ہے۔

وادیِ پنج شیر 1980ء کی دہائی میں سوویت افواج کے خلاف مزاحمت کے مقام کے طور مشہور ہوئی تھی۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں سابق وزیر دفاع احمد شاہ مسعود کے زیرقیادت شمالی اتحاد کے جنگجوؤں نے طالبان کی پہلی حکومت کی بھی شدید مزاحمت کی تھی اور اس کی عمل داری کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

احمد شاہ مسعود کو ’’پنجشیر کا شیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ انھیں گیارہ ستمبر کے حملوں سے دو دن قبل 9 ستمبر2001ء کو القاعدہ نے ایک خودکش بم حملے میں قتل کردیا تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے نے ان کے زیرقیادت فورسز کی کمان سنبھال لی تھی۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق وہ دیگر جلاوطن افغان رہنماؤں کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کو منظم کررہے ہیں۔این آر ایف نے کئی بار طالبان کی مذمت کی ہے اور ان کی حکومت کو’’ناجائز‘‘ قرار دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C