پاکستان میڈیا اتھارٹی بل کے خلاف صحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیدیا
👁️ 157 بار دیکھا گیا
پاکستان میڈیا اتھارٹی بل کے خلاف صحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیدیا
اسلام آباد (ڈیلی اردو) صحافیوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سخت قوانین پر مشتمل پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔
Joined today's sit-in outside Parliament called by PFUJ against the draconian PMDA, where hundreds of journalists have gathered from across Pakistan to defend freedom of the press. These people are the first line of defence for our democracy. PMDA must be resisted at all costs. pic.twitter.com/LGeMuxmNu4
— Ammar Rashid (@AmmarRashidT) September 12, 2021
اسلام آباد میں ملک بھر سے صحافی تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں نے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے خلاف احتجاج کیا اور پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے دیا ہے۔
صحافیوں کے احتجاج اور دھرنے میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور خطاب کیا، اس کے علاوہ وکلا، برطرف سرکاری ملازمین، انسانی حقوق کے کارکن اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی دھرنے میں شریک ہیں۔
میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام اور آزادی اظہار رائے کے خلاف حکومتی پالیسیوں پر صحافیوں، برطرف سرکاری ملازمین، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسلام آباد پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک ریلی نکالی۔
Big Big Big…
Unbelievable 1000,s of journalist Protest Against Imran khan Regime + Pakistan Media Development Authority. pic.twitter.com/35LuRqiiK5— Haider Sherazi (@ImHaiderSherazi) September 12, 2021
مظاہرے کے شرکا نے حکومت کی پالیسیوں کو مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔
احتجاج میں شامل مظاہرین سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا اور حکومت کی یک طرفہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
علاوہ ازیں مظاہرے کے شرکا نے متنازع قوانین واپس لینے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
خیال رہے کہ صحافی تنظیموں کے رہنماؤں نے پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران بھی احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
https://twitter.com/OfficialPfuj/status/1436959041138438149?s=19
یاد رہے کہ حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے نیا قانون متعارف کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں میڈیا اداروں اور صحافیوں کے حوالے سے سخت قوانین تجویز کیے گئے ہیں۔
گزشتہ ماہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے تحت ٹی وی چینلز پر 25 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جہاں اس سے قبل موجودہ قوانین کے تحت چینلز پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل براڈ کاسٹرز کے ساتھ ایک نشست میں وفاقی وزیر نے نشاندہی کی تھی کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ایک امیر ادارہ تھا لیکن بدقسمتی سے اس نے اپنے قیام سے اب تک صحافیوں کی تربیت، تحقیق اور ڈیجیٹل میڈیا پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے والے سات قوانین موجود ہیں، سوشل میڈیا کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، پریس کا انتظام پریس کونسل کے پاس ہے، الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا دیکھتا ہے، لیبر ریگولیشنز پر عمل درآمد کو ٹریبیونل برائے اخبارات ملازمین (آئی ٹی این ای) دیکھتا ہے جبکہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن(اے بی سی) اخبار کی رجسٹریشن کے امور پر نظر رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح طور پر کہا تھا کہ تمام قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی جگہ ایک اتھارٹی یعنی پی ایم ڈی اے لے سکے۔
فواد چوہدری نے مزید کہا تھا کہ مجوزہ قانون میں مجرمانہ ذمہ داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے تحت 25 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
دوسری جانب میڈیا انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں اور ایسوسی ایشنز نے مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کو مسترد کرتے ہوئے اس کو کالا قانون قرار دے دیا تھا۔
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (اے ای ایم ای این ڈی) نے اس حوالے سے مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔
مشترکہ بیان میں قانون پر تنقید کی گئی تھی اور ایک سے زیادہ مرکزی ادارے کی تشکیل کے ذریعے میڈیا کے تمام حصوں پر ریاستی کنٹرول نافذ کرنے کی طرف اٹھایا جانے والا قدم قرار دیا گیا تھا اور کہا تھا کہ بظاہر پی ایم ڈی اے کا مقصد آزادی اظہار اور پریس کو دبانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک پلیٹ فارم سے میڈیا پر وفاقی حکومت کا کنٹرول سخت کرنے کی کوشش ہے لیکن اس میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا الگ الگ حصے ہیں اور ان کی اپنی الگ خصوصیات ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایک ادارے کے ذریعے تمام اقسام کے میڈیا اداروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کا اقدام آمرانہ سوچ کی نشاندہی کرتا ہے جس کی جمہوری طور پر منتخب حکومت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیموں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اراکین پر زور دیا تھا کہ وہ مجودہ ادارے کو مکمل طور پر مسترد کردیں۔
حکومت کی تجویز کے مطابق پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ملک میں پرنٹ، براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ریگولیشن کی مکمل طور پر ذمہ دار ہوگی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 227 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 267 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 513 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 457 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 205 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 323 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3467 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C