03/May/2025

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب مدارس بند، سیاحوں کے داخلے پر پابندی

👁️ 99 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب مدارس بند، سیاحوں کے داخلے پر پابندی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب مدارس بند، سیاحوں کے داخلے پر پابندی

مظفرآباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے پیش نظر کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں موجود دینی مدارس کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ خطے کے دیگر حصوں میں بھی کم از کم ایک ہزار مدارس کو دس روز کے لیے بند کیا گیا ہے۔ حکومتی ہدایت کے باوجود تعلیمی ادارے، بشمول سکول، کالج اور یونیورسٹیاں، بدستور کھلے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق، مدارس کی بندش کی نگرانی مقامی پولیس اور سول حکام کر رہے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک واقع ہیں۔ حکومتی احکامات میں سیاحوں کے خطے میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے وادی نیلم جیسے سیاحتی مقامات خالی ہو گئے ہیں۔

ممکنہ خطرات کے پیش نظر فیصلہ

ضلع پونچھ کے علاقے ہجیرہ میں واقع جامعہ مدینہ عربیہ مدرسے کے مہتمم مولوی غلام شاکر کے مطابق، انہیں مقامی حکام نے مطلع کیا کہ مدارس انڈیا کی کسی ممکنہ کارروائی میں آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ مدارس میں ہاسٹل میں مقیم طلبا کی بڑی تعداد اور حساس محل وقوع کے باعث خطرات زیادہ ہیں۔

دفاعی اقدامات اور ایمرجنسی تیاری

کشیدگی میں اضافے کے بعد مظفرآباد میں ایمرجنسی فنڈ قائم کر دیا گیا ہے جبکہ ایل او سی سے ملحق دیہات میں خوراک، پانی اور طبی سامان بھیجا جا چکا ہے۔ سول ڈیفنس اور دیگر ادارے مقامی آبادی کو ہتھیاروں کے استعمال، فرسٹ ایڈ اور سیلف ڈیفینس کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ ہلال احمر کی سربراہ گلزار فاطمہ کے مطابق، کسی بھی ممکنہ نقل مکانی کے پیش نظر 500 افراد کے لیے ریلیف کیمپ بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

سیاحت متاثر، ہوٹل بکنگ منسوخ

وادی نیلم کے معروف سیاحتی مقام تاوبٹ میں سیاحوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محمد یحییٰ شاہ، صدر تاوبٹ ہوٹل اینڈ گیسٹ ہاؤس ایسوسی ایشن، کے مطابق، مئی کے لیے بیشتر ہوٹل پہلے ہی پچاس فیصد تک بُک ہو چکے تھے، مگر اب تمام سیاحتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔

حکومتِ کشمیر کا مؤقف

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ترجمان پیر مظہر سعید شاہ نے کہا کہ انڈیا کی ممکنہ جارحیت کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سکول اور کالج بدستور کھلے ہیں، کچھ مدارس کو بند کیا گیا ہے اور باقی کے بارے میں فیصلہ زیر غور ہے۔ ان کے مطابق، 27 اور 28 اپریل کو 1250 سے زائد سیاح وادی نیلم میں داخل ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں خوف کی کیفیت نہیں، صرف احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

حالیہ تناؤ کا پس منظر

یہ اقدامات 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد کیے گئے ہیں، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اگرچہ انڈیا نے پاکستان پر باضابطہ الزام نہیں لگایا، تاہم کئی پاکستان مخالف اقدامات کیے گئے ہیں۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی نے گھروں میں بنکرز بنانا شروع کر دیے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C