23/September/2026

پزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، ایران مذاکرات کیلئے تیار مگر دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا

👁️ 91 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، ایران مذاکرات کیلئے تیار مگر دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا

پزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، ایران مذاکرات کیلئے تیار مگر دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا

نیویارک(ڈیلی اردو) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے اور مسائل کے حل کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم تہران کو دھمکیوں یا طاقت کے ذریعے اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک روز قبل اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں اور دباؤ سے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کیلئے تیار نہیں اور امریکی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں امریکی کارروائیوں کے حوالے سے ایران کو درپیش نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی پیش کیں۔ انہوں نے ایران کو دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دینے کے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود دہشتگردی اور حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، تاہم جوہری سائنس اور پرامن ٹیکنالوجی کے حصول سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری علم کو چند ممالک تک محدود رکھنے کا تصور قابل قبول نہیں۔

ایرانی صدر نے اسرائیل کے جوہری پروگرام اور ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بھی عالمی برادری پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو جوہری سرگرمیوں پر سخت نگرانی اور پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بین الاقوامی رویہ مختلف ہے۔

بحری سلامتی کے معاملے پر پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے سمندری حقوق اور جہاز رانی کی آزادی سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ساحلی ریاستوں کی سلامتی کو متاثر کرکے خطے میں بحری آمدورفت کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔

ایرانی صدر نے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی ملک تنہا مکمل سلامتی حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو مشترکہ سلامتی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، بصورت دیگر عدم تحفظ کا سامنا سب کو کرنا پڑے گا۔

یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید فوجی کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کے امکانات دوبارہ پیدا ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق ان کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی حکام سے تقریباً تین گھنٹے ملاقات کی، جسے انہوں نے مثبت قرار دیا۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایرانی وفد سے بات چیت کی، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکراتی عمل میں شریک رہے۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت بعض معاملات پر پیش رفت چاہتا ہے، جبکہ تہران امریکی پابندیوں، بحری دباؤ اور دیگر اقدامات میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دونوں جانب سے سخت بیانات کے باوجود سفارتی رابطے جاری رہنے سے مذاکراتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C