12/March/2025

چین، ایران اور روس کے مابین بیجنگ میں جوہری مذاکرات

👁️ 69 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چین، ایران اور روس کے مابین بیجنگ میں جوہری مذاکرات

چین، ایران اور روس کے مابین بیجنگ میں جوہری مذاکرات

بیجنگ (ڈیلی اردو/رائٹرز/ڈی پی اے) چین کی وزارت خارجہ کے مطابق جمعے کو بیجنگ میں روس، ایران اور چین جوہری مذاکرات کریں گے، جن میں روس اور ایران کے نائب وزرائے خارجہ حصہ لیں گے۔

بیجنگ سے بدھ 12 مارچ کو موصولہ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ جمعے کو ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ بیجنگ میں ان سہ فریقی مذاکرات میں حصہ لیں گے، جن میں ”جوہری مسائل‘‘ پر بات چیت ہو گی۔

2022ء میں یوکرین کی جنگ کے آغاز سے ہی ایران اور روس کے تعلقات گہرے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوری میں اسٹریٹیجک تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ ایران اور روس دونوں کے چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

اجلاس کی تفصیلات

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ 14 مارچ کو بیجنگ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کی صدارت چینی نائب وزیر خارجہ ما چاؤشو کریں گے۔ جمعے کو ہی نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں ایک اجلاس بھی ہوگا، جس میں ایران کے تقریباﹰ ہتھیاروں کے درجے کے قریب پہنچ چکے یورینیم کے ذخیرے میں ممکنہ توسیع کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔

گزشتہ ہفتے اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد کہ روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایران کے ساتھ رابطہ کاری میں مدد پر رضامندی ظاہر کی ہے، روس نے کہا تھا کہ اس کے نائب وزیر خارجہ سیرگئی ریابکوف نے ایرانی جوہری پروگرام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے بارے میں روس میں تعینات ایرانی سفیر کاظم جلالی سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ایرانی جوہری پروگرام اور بین الاقوامی خدشات

تہران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار سازی کی اپنی مبینہ خواہش سے انکار کرتا آیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے IAEA نے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات میں یورینیم کی افزودگی کو ”ڈرامائی طور پر 60 فیصد تک‘‘ بڑھا رہا ہے، جو جوہری ہتھیار سازی کے لیے استعمال ہونے والے 90 فیصد تک افزودہ یورینیم کی شرح سے بہت دور نہیں ہے۔

ایران نے 2015ء میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ جامع پلان آف ایکشن پر اتفاق کیا تھا، جس کے بدلے میں تہران کے خلاف عائد پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔ لیکن واشنگٹن نے 2018ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں امریکہ کی ایران کے ساتھ اس جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔

اسی دوران چین نے کہا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ میں ایران کی حمایت کرتا ہے اور ایرانی جوہری مذاکرات کے جلد از جلد دوبارہ شروع کیے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C