02/October/2026

کرم فرقہ وارانہ کشیدگی میں سرگرم ٹی ٹی پی کاظم گروپ کا کمانڈر قطر میں گرفتار

👁️ 86 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم فرقہ وارانہ کشیدگی میں سرگرم ٹی ٹی پی کاظم گروپ کا کمانڈر قطر میں گرفتار

کرم فرقہ وارانہ کشیدگی میں سرگرم ٹی ٹی پی کاظم گروپ کا کمانڈر قطر میں گرفتار

دوحہ(ڈیلی اردو) قطر کی پولیس نے مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کاظم گروپ سے وابستہ ایک مقامی کمانڈر پارچوکی افغانی کو گرفتار کرلیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی اور مسلح تنازعات سے بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پارچوکی افغانی کرم میں شیعہ اور سنی قبائلی گروہوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے دوران سرگرم رہا اور مبینہ طور پر بعض واقعات میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اس کے مخصوص کردار اور کارروائیوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق قطر میں گرفتاری کے بعد متعلقہ حکام کو ٹی ٹی پی کے کاظم گروپ کے روابط، سرگرمیوں اور ممکنہ نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم قطر کے حکام کی جانب سے گرفتاری کی وجہ، قانونی دفعات، ممکنہ مقدمے یا آئندہ قانونی کارروائی کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی گزشتہ چند برسوں کے دوران سنگین صورت اختیار کرتی رہی ہے۔ یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ گزینوں کے مطابق 2024 میں ضلع کرم میں فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات ریکارڈ ہوئے، جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی سال صوبے میں ریکارڈ ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات کا بڑا حصہ کرم میں پیش آیا۔

مئی 2026 میں بھی کرم کے علاقے مناتو میں ٹی ٹی پی سے وابستہ مبینہ دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس لڑائی میں ٹی ٹی پی اور اس کے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار کے جنگجو ایک دوسرے کے خلاف لڑے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

کرم کی صورتحال صرف مقامی فرقہ وارانہ تنازعات تک محدود نہیں رہی بلکہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یورپی یونین کی تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بدستور سیکیورٹی کے لیے اہم چیلنج ہیں، جبکہ کرم سمیت قبائلی اضلاع میں مختلف نوعیت کے مسلح واقعات ریکارڈ ہوتے رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی سیکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے وہاں کی سرزمین استعمال کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر 2026 میں سرحدی کشیدگی اور دہشتگردی کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔

پارچوکی افغانی کی قطر میں گرفتاری سے متعلق مزید تفصیلات، بشمول اس کے خلاف ممکنہ مقدمے، حوالگی کے امکانات یا قطر میں عدالتی کارروائی، سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی قانونی حیثیت واضح ہوسکے گی۔ فی الحال گرفتاری اور کرم میں اس کے مبینہ کردار سے متعلق معلومات مقامی ذرائع کے دعووں تک محدود ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C