کرم میں دہشت گردوں نے دو شیعہ مسافروں کو ذبح کردیا
👁️ 84 بار دیکھا گیا
کرم میں دہشت گردوں نے دو شیعہ مسافروں کو ذبح کردیا
واشنگٹن (ش ح ط) افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع کرم کے علاقے بگن اوچت میں دو شیعہ مسافروں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ بروز اتوار کو اس وقت پیش آیا جب طویل انتظار کے بعد حالات سے تنگ آکر دونوں مسافر ہنگو سے پاراچنار جا رہے تھے کہ انہیں مسلح دہشت گردوں نے اغواء کرکے نہایت بے دردی سے قتل کردیا ہے۔
پولیس حکام نے قتل کے بعد دونوں مسافروں کے سر کاٹ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلوں نے قتل کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں لاشوں کے اردگرد کھڑے لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں اور ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری وائرل ویڈیو میں موجود لوگ لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تیسری ویڈیو میں مسلح دہشت گرد دونوں مسافروں کو اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ ذبح کر کے سر تن سے جدا کرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق مسافروں کی شناخت وسیم عباس اور اسحاق حسین کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اور ہلاک شدگان کا تعلق شیعہ طوری قبیلے سے بتایا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ہلاک مسافروں کا تعلق پاراچنار سے بتایا جا رہا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ جس مقام پر ان دو مسافروں کو گولی مار کر قتل کیا گیا ہے، اسی مقام پر 21 نومبر کو مسافر گاڑیوں پر فائرنگ سے 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ایم این اے حمید حسین نے اس صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان حالات میں محصور شہریوں سے اسلحہ جمع کرنے کی حکومتی ضد ناانصافی پر مبنی ہے، اسلحہ جمع کرنے سے بہتر ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل سے حکومت ہمیں مار دے۔
کرم سے تعلق رکھنے والے ایم این اے و پارلیمانی لیڈر ایم ڈبلیو ایم حمید حسین اور طوری بنگش قبائل کے سربراہ جلال حسین بنگش نے اس واقعے کی شدید مذمت کی، اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو پکڑ کر سنگین سزا دی جائے۔ امن و امان کیلئے پچھلے 15 دنوں سے کوششیں جاری ہیں اور عین وقت پر اس طرح واقعہ ہونا افسوناک ہے۔
راہنماوں نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے واقعات سے بچنے اور پاراچنار کے لوگوں کو بحالی کیفیت سے بچانے کے لئے حکومت مسلے کو غیر ضروری طول دینے کی بجائے مین شاہراہ کھول کر محفوظ بنائیں۔
یاد رہے ضلع کُرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی نئی لہر رواں برس اکتوبر میں اُس وقت شروع ہوئی تھی جب سُنّی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے قافلے پر ہونے والے ایک حملے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسی طرز کا ایک حملہ شیعہ مکتبہ فکرِ سے تعلق رکھنے والے افراد کی گاڑیوں کے قافلے پر ہوا تھا جس میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
ان حملوں کے بعد متعدد علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے جن میں 150 افراد اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
شیعہ اور سُنی قبائل کے درمیان جھڑپوں کے سبب پشاور سے پاراچنار جانے والی سڑک تقریباً گذشتہ دو مہینوں سے بند ہے جبکہ ہزاروں افراد محصور ہو رہ گئے تھے۔
کرم میں ایک جانب امن و امان کی صورتِ حال مخدوش ہے تو دوسری جانب سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ یہاں کے رہنے والوں کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے۔
سڑکوں کی بندش اور کشیدگی کے باعث نقل و حمل میں آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے کرم میں گیس کے سلینڈر اور جلانے والی لکڑیوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
پاراچنار کے تحصیل مئیر مزمل حسین نے ڈیلی اردو کے ساتھ فون پر بات چیت میں کہا کہ گزشتہ اکتوبر سے اہم شاہراہ کی بندش کے نتیجے میں اپر کرم میں حالات بہت خراب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بازاروں میں خوردنی اشیا، گیس سلینڈر، ایندھن اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
تحصیل میئر کے مطابق سخت سردی میں ایک طرف گیس سلینڈر نایاب ہیں اور دوسری طرف جلانے کی لکڑی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے شورش زدہ ضلع کرم کے شہر پاراچنار میں راستوں کی بندش کے باعث ادویات کی حالیہ قلت کی وجہ سے کم از کم 50 بچے ہلاک کر چکے ہیں۔
پاراچنار کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں موجود ماہر اطفال ڈاکٹر ذوالفقار علی نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ آج شہر میں 51 بچے ادویات کی قلت سے جان کی بازی ہار گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اکسیجن اور حرارتی آلات نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہورہی ہے۔
دریں اثنا سماجی رہنما فیصل ایدھی نے اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاراچنار کے ہسپتالوں میں 50 سے زائد بچے علاج کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔
ضلع کُرم کا علاقہ پارا چنار افغانستان کے دارالحکومت کابُل سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے اور جب نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تو وہاں سے لوگوں نے کُرم میں بھی نقل مکانی کی۔ جب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سنہ 2000 کے وسط میں ٹی ٹی پی کا قیام عمل میں آیا تو ان علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
پاکستان کی مرکزی حکومت اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت سکیورٹی صورتحال کو بہتر اور پاڑہ چنار جانے والی سڑک کو کھلوانے کی کوشش تو کر رہی ہیں لیکن اب تک انھیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
ضلع کرم میں امن و امان کے لیے قائم امن جرگے نے فریقین میں جنگ بندی تو کرا دی لیکن دو ماہ سے بند راستے کھلوانے میں بدستور ناکام ہے۔
دو ماہ سے محصور شہریوں کو ادویات کی فراہمی اور زخمیوں کی منتقلی کے لیے بدھ کو فلاحی ادارے ایدھی کی ایئر ایمبولینس پارا چنار کے ایئر پورٹ پر پہنچی اور زخمیوں کو پشاور منتقل کرنے کا آغاز کیا گیا۔
پاکستان ہلال احمر کے صوبائی چیئرمین حبیب ملک اورکزئی کہتے ہیں کہ رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے کرم میں پسنے والے تمام قبائل کی زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے۔
کرم سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر ساجد طوری کہتے ہیں کہ امن جرگہ ڈیڈ لاک کا شکار ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسے مطالبات کیے جا رہے ہیں جو زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے قابلِ عمل نہیں ہیں۔
ساجد طوری کا کہنا تھا کہ کرم کے قبائلی لوگوں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات کافی عرصے سے ہو رہے ہیں۔ تاہم حالیہ واقعات میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے کالعدم شدت گروہ بھی ملوث ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ایسے ماحول میں جب ریاست دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں کرم کے عوام کی حفاظت میں ناکام رہی ہے اسلحے کی حوالگی کی شرط رکھنا بہت غیر مناسب ہے۔
ساجد طوری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے راستے کھلوائے، زخمیوں اور مریضوں کو منتقل کریں تاکہ اعتماد بحال ہو جس کے بعد اسلحے کی حوالگی پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ضلع کرم جاوید محسود کا کہنا ہے کہ کوہاٹ میں ملتوی ہونے والا گرینڈ جرگہ دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے اور مشکلات میں کمی لانے اور راستے کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہے۔
ضلع کرم میں گزشتہ دو ماہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ ان پرتشدد حملوں کی وجہ تنازعہ زمین کا ٹکڑا ہوتا ہے جو بڑھ کر فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ کارروائیاں اور حملے کسی ایک گاؤں یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ پانچ سے چھ ایسے مقامات ہیں جہاں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں سے حملے ہوتے ہیں۔
کرم کی سرحدیں افغانستان کے صوبوں خوست ،ننگرہار اور پکتیاکے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی اور شمالی وزیرستان سے ملتی ہیں۔
قبائلی علاقوں میں کرم وہ پہلا علاقہ ہے جہاں پر سب سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات کے نام پر سنی اور شیعہ آبادی کے درمیان بدترین لڑائیوں کی ابتدا ہوئی۔ خیبر پختونخوا صوبے کا یہ واحد ضلع ہے جہاں شیعہ آبادی بڑی تعداد میں آباد ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 173 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 129 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 167 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 175 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8831 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4563 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3275 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2453 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2096 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1900 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C