09/July/2023

کرم میں زمینی تنازعے کو فرقہ وارنہ رنگ دینے والے عناصر بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہے، مقامی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں زمینی تنازعے کو فرقہ وارنہ رنگ دینے والے عناصر بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہے، مقامی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

کرم میں زمینی تنازعے کو فرقہ وارنہ رنگ دینے والے عناصر بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہے، مقامی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

پاراچنار (م ص) ضلع کرم کے مختلف سیاسی تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ امن و امان قائم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، دو گھرانوں کے مابین زمینی تنازعے کو فرقہ وارنہ رنگ دینے والے عناصر بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہیں، ضلع کرم کے عوام ان عناصر کے خلاف متحد ہوکر ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنائیں۔

پاراچنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک یوتھ موومنٹ کے رہنما میر افضل خان طوری، یونائیٹڈ سٹوڈنٹس کونسل کے رہنما تصور عباس، پی پی پی کے تنویر حسین، ایم ڈبلیو ایم کے قمر عباس بنگش اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور نوجوانوں نے کہا کہ عوام کی جان ومال کی حفاظت اور عوام کے مابین تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ذمہ دار حکام کی نااہلی کے باعث کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی۔

انتظامیہ کی نااہلی کے باعث معمولی تنازعہ ضلع کرم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کا براہ راست فائدہ ان عناصر کو مل رہے ہیں جو ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے حکومت اور ذمہ دار حکام سے فی الفور علاقے میں جھڑپیں بند کروانے اور قیام امن کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

رہنماؤں نے ضلع کرم کے امن پسند عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ علاقے میں امن کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر انتظامیہ اور ذمہ دار حکام نے فی الفور کاروائی نہ کی تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے اور ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیں گے۔

واضح رہے کہ قبائلی ضلع کرم میں اہل تشیع اور اہل سنت سے تعلق رکھنے والے دو قبائل کے دوران تصادم کے نتیجے میں اب تک 12 افراد ہلاک جبکہ 40 ے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس اور ہسپتال ذرائع کے مطابق ضلع کرم کے مختلف علاقوں خار کلی، بالش خیل، پیواڑ، تری مینگل، پاڑہ چمکنی، گرام، بدامہ، کڑمان، وزے، کینڑا کے، وچہ درہ، حومسہ، بغکی اور مخراڑے و گوگانی میں فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ دونوں فریقین کے 12 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

تین روز قبل پاراچنار کے نواحی علاقے بوشہرہ ڈنڈر میں فریقین کے مابین شاملاتی اراضی کے تنازعے پر فائرنگ کا سلسلہ ہوا جو دوسرے روز قبائلی عمائدین، ضلعی انتظامیہ اور فورسز کی کوششوں سے بند ہو گیا جبکہ پیواڑ اور بالش خیل پر شرپسندوں نے میزائل اور راکٹوں سے حملے کئے جس کے بعد وہاں پر بھی فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو کہ تاحال جاری ہے تازہ فائرنگ کے واقعات میں تری مینگل میں شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے جبکہ پیواڑ میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں اور بالش خیل اور خار کلی کے علاقوں میں دو افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے ہیں جس کے بعد تین روزہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 اور زخمیوں کی تعداد 40 سے زائد ہو گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کرم سید سیف الاسلام اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد عمران کا کہنا ہے کہ علاقے میں مکمل فائر بندی اور قیام امن کیلئے قبائلی عمائدین کے ساتھ ملکر ضلعی انتظامیہ اور فورسز کی جانب سے کوششیں جاری ہیں اور جہاں جہاں فائرنگ ہو رہی ہے وہاں پر فائر بندی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C