28/March/2025

کرم میں ساڑھے پانچ ماہ بعد بھی حالات معمول پر نہ آسکے، اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر

👁️ 94 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں ساڑھے پانچ ماہ بعد بھی حالات معمول پر نہ آسکے، اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر

کرم میں ساڑھے پانچ ماہ بعد بھی حالات معمول پر نہ آسکے، اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ خیبر پختونخوا کے شورش زدہ قبائلی ضلع کرم میں ساڑھے پنچ ماہ بعد بھی حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ پاڑہ چنار کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کے کانوائے میں بھی مکمل سامان نہیں پہنچ رہا جبکہ لوئر کرم میں لوگ اپنے مطالبات پر عمل درآمد کے انتظار میں ہیں۔

اپر کرم کے علاقے پاڑہ چنار کے لیے اشیائے خورد و نوش کے 200 سے زائد ٹرکوں کا قافلہ گزشتہ روز پہنچا دیا گیا تھا جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق بڑی تعداد میں ٹرک نا معلوم وجوہات کی بنا پر واپس کر دیے گئے تھے۔

ٹرکوں کی واپسی پر تاجروں اور عمائدین نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنوائی کے نام پر لوگوں کو مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔

تاجر رہنما نذیر احمد کا کہنا تھا کہ طویل انتظار کے بعد گزشتہ روز امید تھی کہ ماہ رمضان اور اب عید کے لیے سامان پہنچ جائے گا لیکن بڑی تعداد میں گاڑیوں کو چھپری سے پہلے روک کر واپس کر دیا گیا ہے۔

پاڑاچنار میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سماجی راہنما مسرت بنگش اور ملک زرتاج کا کہنا تھا کہ جہاں رمضان المبارک کے موقع پر سحری و افطاری کے لیے سامان موجود نہیں تھا اور دیر سے کنوائیوں کی وجہ سے لوگ خوراک و علاج سے محروم رہے۔

وہاں عید کے موقع پر لایا جانے والا سامان بھی نہ پہنچ سکا جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر آمدورفت کے راستے نہ کھولے گئے تو عید کے بعد وہ ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی باعث کنوائی میں شامل کچھ گاڑیوں کو واپس کیا گیا ہے اور انھیں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ادھر لوئر کرم سے تعلق رکھنے والے افراد کا پشاور پریس کلب کے سامنے دھرنا دو روز پہلے ختم کر دیا گیا ہے اور انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ پشاور میں لوئر کرم کے لوگوں کا دھرنا 32 دن تک جاری رہا۔

ان دھرنا منظمین کا کہنا تھا کہ حکومت نے عید کے بعد لوئر کرم کے علاقے بگن میں 22 نومبر کو حملے سے نقصانات کا معاوضہ دینے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کا کہا ہے۔

ادھر لوئر کرم کے علاقوں سے آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی اب تک واپسی نہیں ہو سکی۔

بگن، اچت، مندوری اور دیگر علاقوں سے لوگوں کو نقل مکانی کا کہا گیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ قریبی اضلاع میں کیمپوں اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C