29/March/2025

کرم میں شیعہ سنی قبائل کے درمیان 8 ماہ کا امن معاہدہ طے

👁️ 96 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں شیعہ سنی قبائل کے درمیان 8 ماہ کا امن معاہدہ طے

کرم میں شیعہ سنی قبائل کے درمیان 8 ماہ کا امن معاہدہ طے

پشاور (ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شیعہ اور سنی قبائل کے درمیان 8 ماہ کے لیے امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کئی ماہ سے بند قومی شاہراہوں کو کھولنے اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

جرگہ ممبران حاجی کمال اور حاجی اصغر کے مطابق، لور کرم میں قلعہ عباس علمدار کے مقام پر فریقین کے عمائدین کا جرگہ منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر، سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی۔ جرگہ ممبران کا کہنا ہے کہ “یہ امن معاہدہ 8 ماہ کے لیے کیا گیا ہے، تاہم جو بھی فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف معاہدۂ کوہاٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔”

ڈپٹی کمشنر ضلع کرم اشفاق احمد نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ “قبائلی عمائدین قیامِ امن میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جلد دیرپا امن قائم ہو سکے۔”

واضح رہے کہ ضلع کرم میں فائرنگ کے واقعات اور جھڑپوں کے باعث گزشتہ تقریباً 6 ماہ سے مرکزی قومی شاہراہیں بند تھیں، جس کی وجہ سے مقامی افراد کو اشیائے خورد و نوش، روزمرہ استعمال کی اشیا اور ادویات کی قلت کا سامنا تھا۔ یہ صورتحال علاقے کے لوگوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بنی تھی اور ان کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہوئے تھے۔

سماجی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین کا ردعمل

سماجی رہنما میر افضل خان طوری کا کہنا ہے کہ “امن معاہدے کے بعد علاقے میں جلد قیامِ امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی اور ضلع کرم کے عوام بھی آزادی کے ساتھ عید منا سکیں گے۔” انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدہ علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرے گا اور لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرے گا۔

قبائلی رہنما حاجی سلیم خان اور حاجی ضامن حسین نے حکومت کے قیامِ امن کے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ علاقے میں پائیدار امن کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ معاہدہ نہ صرف کرم کی عوام کے لیے بلکہ پورے خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔”

پس منظر : کرم میں شیعہ سنی تصادم کی تاریخ

ضلع کرم، جو افغانستان کے صوبوں خوست، ننگرہار اور پکتیا کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، ماضی میں شیعہ اور سنی قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار رہا ہے۔ یہاں شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان زمینوں کے تنازعات اور دیگر مسائل وقتاً فوقتاً مسلح جھڑپوں کا باعث بنتے رہے ہیں۔ جولائی 2023 میں بوشہرہ اور ڈنڈار کے علاقوں میں زمین کے تنازعات پر شروع ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

نومبر 2024 میں ضلع کرم میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات نے علاقے کی سماجی و اقتصادی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا تھا، جس کے بعد اس امن معاہدے کو علاقے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ان واقعات کے پیش نظر، حالیہ امن معاہدہ علاقے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف شیعہ اور سنی قبائل کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ پورے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

مستقبل کی امیدیں

ضلع کرم میں امن معاہدہ کے بعد، مقامی عوام اور حکومت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے قبائلی عمائدین کو ایک ساتھ لانے کے لیے مزید جرگوں اور مذاکرات کی پیشکش کی جا سکتی ہے تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایسی مزید پیش رفتیں علاقے کے عوام کو مزید پائیدار امن فراہم کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، اور اس سے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی امن کی فضاء قائم ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C