کرم میں 3000 سے زائد شیعہ سنی افراد کے نام ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل
👁️ 124 بار دیکھا گیا
کرم میں 3000 سے زائد شیعہ سنی افراد کے نام ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل
واشنگٹن (ش ح ط) محکمۂ داخلہ خیبر پختونخوا نے قبائلی ضلع کرم میں شیعہ سنی فسادات اور کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری کے الزام میں 3000 ہزار سے زائد افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دئیے ہیں۔
ڈیلی اردو کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق مختلف فرقہ ورانہ گروہوں سے تعلق رکھنے والے 3000 سے زائد افراد کو فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل کیاگیا۔ 300 میں سے 350افراد کا تعلق شعیہ مکتب فکرسےہے۔ جبکہ 2000 سے زائد افراد کا تعلق اہلسنت سے ہے۔
لسٹ میں انجمن حسینیہ پاراچنا، مرکز اور انجمن فاروقیہ کرم کے عہدے دار بھی شامل ہیں۔
لسٹ میں کالعدم ‘زینبیون بریگیڈ’ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ پاکستان سے وابستہ افراد کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔




سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے ان افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جن کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق درجنوں افراد روپوش ہیں اور کچھ بیرون ممالک فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
فورتھ شیڈول کیا ہے
فورتھ شیڈول پاکستان کے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کا ایک حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جس کے ذریعے حکومت ان افراد یا تنظیموں کی نگرانی کر سکتی ہے جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ کسی دہشت گرد تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں یا ان سے کسی قسم کا تعلق رکھتے ہیں یا ان کے نظریات و سرگرمیاں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
فورتھ شیڈول کی فہرست میں ایسے افراد شامل کیے جاتے ہیں، جن پراینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997کے تحت دہشت گردی یا فرقہ ورانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہوتاہے۔ قابلِ اعتماد انٹلیجنس معلومات کے مطابق جن افراد کے نام کسی صوبے کی وزارت داخلہ کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل کیےجاتے ہیں ان پرسفرکرنے، تقریر کرنے اور کاروبار کرنے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
فورتھ شیڈول کے طور پران افراد کے نام مقامی تھانوں یا قانون نافذ کرنےوالی ایجنسیوں کو بھی دیئےجاسکتےہیں۔ کسی بھی ایسے شخص کا نام جس کاکبھی کالعدم تنظیم سے تعلق رہاہو، اس کا نام فورتھ شڈول کے لیے تجویز کیاجاسکتاہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہےکہ عام طور پر فورتھ شیڈول میں کوئی بھی نام تین سال کیلئے شامل کیاجاتاہے۔ تین سال مکمل ہونے پر اس عرصے میں توسیع کی جاسکتی ہے۔
وزارت داخلہ فورتھ شیڈول میں شامل شخص کے بینک اکائونٹس منجمند کرتی ہے۔ حکومت ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرتی ہے۔ مزیدبرآں فورتھ شیڈول میں شامل شخص کو متعلقہ ایس ایچ او کی اجازت کے بغیر اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم فورتھ شیڈول میں شامل افراد الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔
کرم میں پرتشدد واقعات
ضلع کرم میں گذشتہ پانچ ماہ سے تشدد جاری ہے اور جھڑپوں کے باعث زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مخالف دھڑوں سے امن جرگے کے مذاکرات کے بعد بھی جنگ بندی پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ علاقے میں مواصلات کے رابطے منقطع ہیں اور بڑی تعداد میں لوئر کرم کے متاثرہ علاقوں سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ تشدد کی تازہ لہر میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ سال اکتوبر 2024 میں کنج علیزئی کے مقام پر ایک مسافر گاڑی پر حملے میں اہل سنت قبائل کے 15 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل اگست 2024 کے مہینے میں زمین کے تنازع سے شروع ہونے والا واقعہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کر گیا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک اور لگ بھگ 150 زخمی ہوئے تھے۔
رواں برس اگست میں فرقہ وارانہ لڑائی کے باعث اپر اور لوئر کرم کا درمیانی راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مقامی جرگے کی کوششوں کے بعد گزشتہ ہفتے ہی سڑک کو کھولا گیا تھا جس کے بعد مسافروں کو کانوائے کی شکل میں لے جایا جاتا تھا۔ تاہم پے در پے واقعات کے بند راستے پھر سے بند ہوگئے۔
21 نومبر 2024 کو اپر کرم سے پشاور اور پشاور سے اپر کرم اور صوبے کے دیگر علاقوں کو جانے والی شیعہ گاڑیوں کے قافلے پر مقامی لوگوں نے شدت پسندوں کے ساتھ ملکرحملہ کیا تھا جس میں ابتدائی طور پر تو 44 افراد ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں زخمی گئے تھے۔
اس کے بعد اگلے روز اپر کرم کے علاقے علیزئی سے لوئر کرم کے علاقے بگن اور قریبی دیہات میں شیعہ مسلح افراد نے حملہ کیا اور بازار میں دکانوں اور مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ اس جھڑپ میں 32 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ضلع کرم میں حالت اُس وقت سنگین صورتحال ختیار کرگئےتھے جب شیعہ مسافر قافلوں پر پے در پے حملوں کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے نتیجے میں مزید درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور درجنوں گاڑیوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کیے گئے۔
قبائلی اختلافات
ضلع کرم میں تین ڈویژنز ہیں، بالائی، وسطی اور زیریں۔ پاراچنار بالائی ڈویژن میں واقع ہے اور یہاں شیعہ مکاتب فکر کے ماننے والوں کی اکثریت آباد ہے۔ پاراچنار کی زیادہ تر آبادی طوری اور بنگش قبائل پر مشتمل ہے۔ وادی کے گرد پہاڑی چوٹیوں پر سنی قبائل آباد ہیں۔
انتہا پسند تنظیموں کی مداخلت سے دو قبائل کے درمیان جھگڑے کے بڑے مسئلے کی صورت اختیار کرلینے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ گزرتے سالوں میں آنے والی سماجی اور آبادیاتی تبدیلیاں جیسے ایرانی انقلاب، سنی افغان پناہ گزینوں کی آمد اور افغان جہاد کے دوران ہتھیاروں کی اس علاقے میں ترسیل وہ عوامل ہیں جو فرقہ وارانہ پُرتشدد واقعات میں شدت لانے کا سبب بنے۔
ضلع میں ہر کچھ سال بعد اس طرح کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جبکہ پاراچنار ان کا مرکز ہوتا ہے۔ ان میں 2007ء کا سال نمایاں ہے کہ جب علاقے میں خوفناک جھڑپیں ہوئیں جن میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 50 دیہات نذرِ آتش کیے گئے۔ ان فسادات کے بعد سیکڑوں رہائشی بے گھر ہوگئے تھے۔
اس وقت پاراچنار کی جانب جانے والی سڑک بھی کئی روز تک منقطع رہی اور رہائشیوں کو اس علاقے میں داخلے کے لیے کابل سے پاکستان میں دوبارہ داخل ہونا پڑتا تھا۔ جب بھی حالات خراب ہوں، یہ مسئلہ پیش آتا ہے۔
کرم ضلع میں اس طرح کے پُرتشدد فسادات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال مئی 2023 بھی اسی طرح کے تصادم میں کم از کم پانچ اساتذہ سمیت 25 افراد جان سے گئے۔
واقعات کچھ یوں رپورٹ ہوئے تھے کہ ایک گاڑی پر فائرنگ سے محمد شریف نامی استاد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کیے گئے تھے کہ شیعہ اکثریتی علاقے میں سنی استاد کو ہلاک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ایک سکول کے سٹاف روم میں موجود اساتذہ سمیت سکول کا عملہ موجود تھا جن پر اہل سنت قبائل نے فائرنگ کردی تھی۔
ان واقعات کے بعد علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جہاں سکول کالج اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے تھے۔
نوٹ: یہ ابتدائی خبر ہے جس میں تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 134 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 174 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 132 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 168 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 176 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8831 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4565 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3275 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2455 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2096 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1900 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C