14/April/2026

گلگت بلتستان: چلاس میں پولیس ٹیم پر فائرنگ، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

👁️ 208 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
گلگت بلتستان: چلاس میں پولیس ٹیم پر فائرنگ، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

گلگت بلتستان: چلاس میں پولیس ٹیم پر فائرنگ، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی

گلگت (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں نامعلوم افراد کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک ڈی ایس پی سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

 

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر کے مطابق پولیس اہلکار اس علاقے میں پوست کی فصل تلف کرکے واپس آ رہے تھے جس وقت ان پر یہ حملہ ہوا۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں پوست کی فصل کو تلف کرنے کا سلسلہ گزشتہ چند روز سے جاری ہے۔

 

یہ واقعہ سوموار کے روز کی دوپہر ایک بج کر 50 منٹ پر چلاس کے علاقے ’تھور سری‘ میں پیش آیا۔ گلگت بلتستان حکومت کے مطابق پولیس اہلکار اس علاقے میں پوست کی فصل تلف کرکے واپس آ رہے تھے کہ جب پانچ سے چھ افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جانب سے مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔

 

اس واقعے کے بعد دیامر سے پولیس حکام موقع پر پہنچے جو حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے قائم ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس ٹیم پر حملے کے واقعے کی مذمت کی ہے اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

 

چلاس کے علاقے میں پولیس پر حملے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آچُکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں مسلح گرہ موجود ہیں جو اپنے آپ کو مسلح تنظیموں سے جوڑتے ہیں۔ اس علاقے میں سرکاری گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

 

دیامر پولیس کی جانب سے گزشتہ روز ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکاروں کو پوست کی فصل تلف کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’تھور ویلی‘ میں پوست کی کاشت کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

 

تھور ویلی کے مقامی رہائشی جعفر فیصل نے برطانوی خبر رساں ادارے  بی بی سی کو بتایا کہ ’جس جگہ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا وہ ہمارے گھر سے چند کلومیٹر دور ہے اور وہ اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے کہ ایک فون کال پر ہمیں یہ بتایا گیا کہ ویلی میں کوئی مسئلہ ہوا ہے جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں پولیس اہلکاروں کی لاشیں پڑی تھیں۔‘

 

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سے پہلے بھی کچھ مقامی لوگ وہاں پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال پہنچا چکے تھے۔ ہم نے ایک لاش کو اٹھایا اور پیدل روانہ ہو گئے۔ اس علاقے میں حالات کی وجہ سے کوئی گاڑی دستیاب نہیں تھی۔‘

 

جعفر فیصل نے بتایا کہ ’کچھ پولیس اہلکار اس وقت وہاں مسجد میں موجود تھے انھیں بھی ہم اپنے ساتھ لے کر ہسپتال آئے۔‘

 

تھور کا ہسپتال جائے وقوعہ سے کوئی 20 یا 30 منٹ پیدل مسافت پر واقع ہے۔ تھور ہسپتال سے پھر زخمیوں کو چلاس ہسپتال گاڑیوں میں منتقل کیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C