14/April/2023

یمنی حکومت اور حوثیوں کے مابین قیدیوں کا تبادلہ شروع

👁️ 34 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمنی حکومت اور حوثیوں کے مابین قیدیوں کا تبادلہ شروع

یمنی حکومت اور حوثیوں کے مابین قیدیوں کا تبادلہ شروع

صنعا (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/بی بی سی) یمن کے تنازع میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے سلسلے میں قیدیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی حوثی باغیوں اور حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی زیرقیادت اتحاد کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا انتظام کر رہی ہے۔ اس تبادلے کا آغاز جمعے کو باغیوں کے زیر قبضہ صنعا سے ہوا اور پہلا طیارہ قیدیوں کو لے کر حکومت کے زیر کنٹرول عدن کے لیے روانہ ہوا۔

آنے والے دنوں میں دونوں فریق تقریباً 900 قیدیوں کو رہا کر دیں گے۔

قیدیوں کا تبادلہ گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہوا ہے۔ مزید قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے متحارب فریقوں کے درمیان مئی میں دوبارہ ملاقات ہونے والی ہے۔

سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان آٹھ برسوں سے جاری تنازعے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران بھی قرار دیا ہے، جس میں تقریباً 80 فیصد آبادی زندہ رہنے کے لیے غذائی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ اس تنازع کو بڑے پیمانے پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان پراکسی جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یمن تنازع سال 2014 میں شروع ہوا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ عُمان جس کے سعودی عرب اور یمن کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں، اس نے یمن میں برسوں میں جاری جنگ کو بند کرانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

چین کی مدد سے سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے کے بعد یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ یمن میں جنگ کے خاتمے کی امیدیں اس وقت بڑھ گئیں جب سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے مابین مذاکرات ہوئے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C