16/October/2026

یمن : کشیدگی میں اضافہ، حوثیوں کا سعودی جنگی ڈرون گرانے کا دعویٰ، صعدہ پر توپ خانے سے حملے کی اطلاعات

👁️ 59 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن : کشیدگی میں اضافہ، حوثیوں کا سعودی جنگی ڈرون گرانے کا دعویٰ، صعدہ پر توپ خانے سے حملے کی اطلاعات

یمن : کشیدگی میں اضافہ، حوثیوں کا سعودی جنگی ڈرون گرانے کا دعویٰ، صعدہ پر توپ خانے سے حملے کی اطلاعات

صنعا(ڈیلی اردو) یمن میں حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حوثیوں نے صوبہ مأرب میں سعودی ساختہ مسلح جاسوس ڈرون ’’ونگ لونگ ٹو‘‘ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثیوں سے وابستہ ذرائع نے شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں سعودی توپ خانے کی گولہ باری کی اطلاعات بھی دی ہیں۔ دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد نے مشرقی سعودی عرب کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حوثی تحریک کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع کے مطابق، ان کی فورسز نے جمعے کی علی الصبح صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک مسلح جاسوس ڈرون کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون کو گرانے کے لیے موزوں ہتھیار استعمال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس کارروائی کے طریقۂ کار کی وضاحت نہیں کی۔

ادھر حوثیوں سے منسلک خبر رساں ادارے صبا نے رپورٹ کیا کہ سعودی سرحد کے قریب واقع یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے بعض علاقوں پر سعودی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔ ان اطلاعات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یہ پیش رفت عدن میں صدارتی محل پر میزائل حملے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نشانہ عدن میں قائم سعودی فوجی آپریشنز کا مرکز تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی یمن میں سعودی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانے کی پالیسی کا حصہ تھی۔

دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد قرملی نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی تحریک ایران کی حوصلہ افزائی اور معاونت سے حملے کر رہی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ویڈیو بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ ایران حوثیوں کو ہتھیار، تربیت اور دیگر مدد فراہم کر رہا ہے، جو ان کے بقول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

رائد قرملی نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق تہران مسئلے کے حل میں سنجیدہ نہیں اور حوثی بھی مفاہمتی کوششوں میں شریک ہونے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشیدگی کے آغاز پر حوثیوں کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل فریقین کے درمیان آخری رابطہ ہوا تھا۔

سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے بھی ریاض میں یورپی اور افریقی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران حوثیوں کے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا الزام تھا کہ سعودی عرب کی شہری، اقتصادی اور ہوابازی کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت برقرار رکھے گا۔
 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C