یوکرین روس جنگ: یورپ میں جوہری خطرات کی واپسی
👁️ 36 بار دیکھا گیا
یوکرین روس جنگ: یورپ میں جوہری خطرات کی واپسی
پیرس (ڈیلی اردو/ ڈوئچے ویلے) جوہری ہتھیار سرد جنگ کا ایک نشان قرار دیے جاتے ہیں۔ حالیہ روسی دھمکی سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ایک مرتبہ پھر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس صورتِ حال میں یورپ کے پاس جوابی کارروائی کا سامان کیا ہے؟
یوکرینی جنگ سے قبل روسی صد ولادیمیر پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کو الرٹ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس اعلان سے سارا یورپ ششدر رہ گیا تھا۔ اوائل مارچ میں پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کی حامل آبدوزیں اور موبائل میزائل دستوں کو بھی فوجی مشقوں کا حصہ بنا دیا تھا۔ کیا یہ کسی جوہری حملے کی دھمکی تھی؟
روس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ ان کی تعداد چھ ہزار تین سو بتائی جاتی ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں امریکہ سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور ان کی تعداد پانچ ہزار آٹھ سو ہے۔ فرانس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا حجم تین سو ہے جبکہ برطانیہ دو سو پندرہ ایسے ہتھیار رکھتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ ان ہتھیاروں کی حامل اقوام اس بابت معلومات خفیہ رکھتی ہیں۔
جوہری حملے میں یورپ کا تحفظ
بظاہر یورپ کو امریکہ کی جانب سے جوہری چھتری میسر ہے لیکن اس کے باوجود یورپ کسی جوہری حملے کو روکنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسا بھی گمان ہے کہ امریکی چھتری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی بھی ملک مغربی دفاعی اتحاد کے رکن ملک پر جوہری حملے کی جرات نہیں کر سکتا اور ایسی صورت میں جارح کو بھی جوابی حملے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نیٹو کی جوہری قوت جوابی دھمکی یا ڈیٹرینس دینے کے مفروضے پر قائم ہے۔ فرانس اور برطانیہ کم از کم ڈیٹرینس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس جوہری حملے کا جواب دینے کی صلاحیت تو کم از کم موجود ہے اور بقیہ یورپی ممالک کا انحصار امریکہ پر ہے۔
دوسری جانب امریکا کا ڈیٹرینس جوہری ہتھیاروں پر ہی منحصر ہے اور ان ہتھیاروں کی قوت بھی کم کی جا چکی ہے۔ امریکی عسکری ماہرین محدود جوہری جنگ کے ممکن ہونے کا مفروضہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔
قانونی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی شہری علاقے پر بھاری اثرات کے حامل جوہری ہتھیاروں کا استعمال انٹرنیشنل ہیومینٹیرین قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی ڈیٹرینس میں جرمن حصہ
اگر یورپی جوہری ڈیٹرینس میں جرمن حصے کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف جرمن ایئر فورس کے زیرِ استعمال ٹورنیڈو جنگی جہاز ہیں۔ یہ جنگی جہاز جرمن ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں قائم بیوشل ایئر بیس پر کھڑے ہیں۔
کسی ہنگامی صورت حال میں یہ جنگی ہوائی جہاز امریکی جوہری ہتھیاروں کو لے کر ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی مشق ٹورنیڈو جنگی جہاز سالانہ بنیاد پر جعلی بم پھینک کر بھی کرتے ہیں۔
نیدرلینڈز، بیلجیم اور اٹلی بھی نیٹو کے ایسی مشقوں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ اس وقت ایک سو سے ایک سو پچاس جوہری ہتھیار یورپ میں ہتھیاروں کے مختلف گوداموں میں رکھے ہوئے ہیں تا کہ بوقت ضرورت جرمن طیارے انہیں ہدف کی جانب لے جا سکیں۔
برلن میں قائم جرمن انسٹیٹیوٹ برائے انٹرنیشنل اسٹدیز (SWP) اور سکیورٹی افیئرز کے پولیٹیکل سائنٹسٹ پیٹر روڈولف کا کہنا ہے کہ یہ بم گئے زمانوں کی یادگاریں ہیں اور ان کی فوجی اہمیت آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے بموں کے استعمال سے قبل دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ختم کرنا بھی اہم ہے، جو مناسب صلاحیت سے ممکن ہے۔
جرمن چانسلر اولاف شولس کا کہنا ہے کہ جوہری ڈیٹرینس میں جرمنی کے حصہ کو زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اسی دوران جرمن وزیر دفاع کرسٹینے لامبریشٹ نے کہا ہے کہ جرمن ایئر فورس کے عمر رسیدہ ٹورنیڈو طیاروں کی جگہ ان کا متبادل امریکی ساختہ ایف پینتیس جنگی ہوائی جہازوں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ امریکی جہاز بھی جوہری ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت کون دے گا؟
امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جرمنی، اٹلی، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں واقع گوداموں میں رکھے امریکی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے سکتے ہیں۔ پہلے وہ ان ہتھیاروں کو گودام سے نکالنے کی اجازت دیں گے اور پھر انہیں جنگی طیارے سے ہدف پر گرانے کی رضامندی ظاہر کریں گے۔ اس مناسبت سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا اصولی فیصلہ بھی درکار ہو گا۔
فرانس کی جانب سے اسی قسم کی کسی کارروائی کا اختیار فرانسیسی صدر کے پاس ہے اور برطانوی وزیر اعظم بھی ایسا اختیار رکھتے ہیں۔ ان تین ملکوں کے ڈیٹرینس کی وجہ سے دشمن یا مخالف قوت اس کا احساس نہیں کر سکے گی کہ نیٹو کس سمت سے حملہ کرے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پشاور: سی ٹی ڈی کی کاروائی، جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر خودکش حملے کا مرکزی ملزم ہلاک
12/September/2026 👁️ 85 بار دیکھا گیا
بھارت: اعظم گڑھ میں القاعدہ کے نظریات سے متاثر 19 سالہ نوجوان گرفتار
12/September/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
بھارتی عدالت نے حافظ سعید کے خلاف دو ماہ میں دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیا
12/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : دفعہ 144 نافذ، وانا سمیت متعدد شاہراہوں پر آمدورفت بند
12/September/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
بنوں کے بکاخیل میں کواڈ کاپٹر حملہ، 2 شہری زخمی
12/September/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
دہشتگردی میں اضافہ ، خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع ہارڈ ایریاز قرار
12/September/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26288 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15533 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11820 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9122 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7411 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5144 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C