09/April/2025

یوکرین میں روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے دو چینی باشندے گرفتار، صدر زیلنسکی

👁️ 92 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یوکرین میں روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے دو چینی باشندے گرفتار، صدر زیلنسکی

یوکرین میں روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے دو چینی باشندے گرفتار، صدر زیلنسکی

کییف (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی) یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینی فوج نے دو ایسے چینی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے جو مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے اور مزید چینی باشندوں کی روسی فوج میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کییف سے 9 اپریل بروز بُدھ موصول ہونے والی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی فوج نے ایسے دو چینی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے، جو مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں روسی فوج کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے تھے۔ فوج نے مزید کہا کہ اُس کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں، جن کے مطابق روس کی فوج کے ساتھ مل کر یوکرین میں جنگ لڑنے والے چینی باشندوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس امر کا اعلان خود یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے منگل کو کیا تھا۔ تاہم چین کی طرف سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

بیجنگ کی لاعلمی

اس الزام کے بارے میں کہ یوکرین میں چین نے روس کو ہتھیار یا فوجی مہارت فراہم کی ہے، بیجنگ کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مذکورہ چینی باشندے اپنے طور پر لڑائی میں شامل ہوئے تھے۔ روس اور یوکرین دونوں ہی غیر ملکیوں کو اپنی فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔

دریں اثناء یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے اعلیٰ سفارت کار کو ”فوری طور پر بیجنگ سے اس بارے میں رابطہ کرنے کو کہا ہے۔‘‘ زیلنسکی نے کہا کہ چین، ایران اور شمالی کوریا کے بعد روس کی فوج کو امداد کی پیشکش کرنے والا تیسرا ملک ہوگا۔

زیلنسکی کے مطابق ایران نے روس کو حملہ آور ڈرون فراہم کیے ہیں اور امریکہ اور جنوبی کوریا کے بقول شمالی کوریا نے روس کو اپنے فوجی فراہم کیے ہیں۔

فروری 2022ء میں جب سے روس نے اپنے پڑوسی یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا، تو چین نے روس کو مضبوط سفارتی حمایت فراہم کی۔ بیجنگ نے توانائی اور صارفین کی اشیاء کی تجارت کے ذریعے روس کو اقتصادی لائف لائن کی پیشکش بھی کی ہے۔

ڈونیٹسک میں چینی فوجیوں کے ساتھ تصادم

یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈونیٹسک کے قریب واقع تاراسیوکا اور بلوہوریوکا کے گاؤں میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جہاں 6 چینی فوجی اہلکاروں نے یوکرینی فوجیوں کو مصروف رکھا اور اس دوران دو چینی پکڑے گئے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ اندری سیبیہا نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی وزارت نے چین کے چارج ڈی افیئرز کو طلب کر لیا ہے اور ان سے اس بارے میں تفصیلات پیش کرنے کو کہا ہے کہ ”چینی شہری روس کی حملہ آور، قابض فوج کا حصہ کیونکر بنے اور اس کی طرف سے کیسے لڑ رہے ہیں۔‘‘

یوکرین کے وزیر خارجہ نے ایکس پر شائع کیے گئے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یوکرین میں قیام امن کے لیے چینی کردار پر سوال کھڑا ہو گیا ہے جبکہ اس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن کے طور پر چین کی ساکھ بھی مجروح ہو گی۔

چین کا محتاط رویہ

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن ژیان نے کہا ہے کہ چین یوکرین کے ساتھ متعلقہ معلومات کی تصدیق کر رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا، ”چینی حکومت نے ہمیشہ اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مسلح تصادم والے علاقوں سے دور رہیں (اور) کسی بھی شکل میں مسلح تصادم میں ملوث ہونے سے گریز کریں۔‘‘

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی طرف سے روس کے ساتھ لڑنے والے دو چینی شہریوں کی گرفتار سے متعلق بیان سامنے آنے کے بعد ُبدھ کو چین نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ تنازعات والے علاقوں میں جانے اور جنگوں میں حصہ لینے سے گریز کریں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C