07/October/2026

7 اکتوبر کے بعد ایران کا علاقائی اثر و رسوخ، ’’وحدتِ محاذ‘‘ کا تصور شدید دباؤ کا شکار

👁️ 95 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
7 اکتوبر کے بعد ایران کا علاقائی اثر و رسوخ، ’’وحدتِ محاذ‘‘ کا تصور شدید دباؤ کا شکار

7 اکتوبر کے بعد ایران کا علاقائی اثر و رسوخ، ’’وحدتِ محاذ‘‘ کا تصور شدید دباؤ کا شکار

تہران / تل ابیب / واشنگٹن / غزہ (ڈیلی اردو) 7 اکتوبر 2023 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان رابطہ، باہمی تعاون اور تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کے تصور کو نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ غزہ سے شروع ہونے والی جنگ لبنان، شام، عراق، یمن اور بعد ازاں ایران تک پھیلنے کے باعث یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ ایران کے زیر اثر مختلف مسلح گروہ کسی ایک مربوط عسکری حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہیں یا ہر محاذ اپنے مقامی مفادات اور حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔

رائٹرز کے تجزیوں کے مطابق ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں حماس، حزب اللہ، عراق کی بعض مسلح تنظیموں، شام میں بشار الاسد کی حکومت اور یمن کے حوثی گروہ سمیت مختلف اتحادی قوتوں کے ذریعے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ اس نیٹ ورک کو عموماً ’’محورِ مزاحمت‘‘ کہا جاتا رہا، تاہم 7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی کارروائیوں نے اس نیٹ ورک کی کئی اہم قوتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

حماس اور حزب اللہ کو بڑے نقصانات

غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں حماس کی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ لبنان میں حزب اللہ بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں آئی۔ رائٹرز کے مطابق حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا اور اس کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کو قیادت اور فیصلہ سازی کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے نے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کو ایک اور اہم دھچکا پہنچایا۔

تاہم عالمی تجزیوں میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ان گروہوں کی صلاحیتیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ حماس، حزب اللہ، عراق میں ایران نواز مسلح گروہ اور حوثی مختلف سطحوں پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی طاقت، حکمت عملی اور ایران کے ساتھ عملی تعلقات ایک جیسے نہیں ہیں۔

کیا ’’وحدتِ محاذ‘‘ واقعی ایک متحد عسکری کمان ہے؟

اس تصور کے ناقدین کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان سیاسی و نظریاتی قربت تو موجود ہے، لیکن انہیں ایک ہی فوجی کمان کے تحت کام کرنے والا متحد محاذ قرار دینا مشکل ہے۔

رائٹرز سے بات کرنے والی مشرقِ وسطیٰ کی ماہر حنین غدار کے مطابق مختلف گروہ اپنے حالات اور مفادات کے مطابق الگ الگ فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ بحران نے واضح کیا کہ یہ پورا نیٹ ورک ایک متحد تنظیم نہیں بلکہ مختلف قوتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو بعض معاملات میں ایران کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، مگر ہر گروہ کی اپنی ترجیحات بھی موجود ہیں۔

یمن کے حوثیوں کی مثال بھی اسی فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، تاہم ان کی مذہبی و سیاسی ساخت حزب اللہ یا بعض عراقی گروہوں سے مختلف ہے اور ان کے فیصلوں میں یمن کے داخلی معاملات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

7 اکتوبر کے فیصلے میں ایران کا کردار، اب بھی اختلاف برقرار

7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی اور ایران کے کردار کے حوالے سے بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق حماس نے یہ کارروائی اپنی سطح پر تیار کی، جبکہ بعض حلقے ایران کی طویل عرصے سے جاری مالی، عسکری اور سیاسی حمایت کو اس وسیع تر علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہیں۔

رائٹرز نے 2023 میں ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حماس کی قیادت نے ایران کو حملے سے پہلے تفصیلی اطلاع نہیں دی تھی اور تہران نے براہِ راست جنگ میں داخل ہونے کے بجائے سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حماس نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا تھا۔ اس لیے حملے کی منصوبہ بندی میں ایران کے براہِ راست کردار کا سوال اب بھی متنازع ہے۔

ایران نے اتحادیوں کو کس حد تک متحرک کیا؟

7 اکتوبر کے بعد حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیل کے خلاف محاذ کھولا، عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں نے امریکی اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جبکہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک یا اس کی جانب جانے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور اسرائیل کی جانب میزائل و ڈرون بھی داغے۔

اس کے باوجود تمام گروہوں کی کارروائیوں میں یکساں شدت یا تسلسل نظر نہیں آیا۔ رائٹرز کے مطابق 2026 میں ایران اور اسرائیل کے براہِ راست تنازع کے دوران بھی حزب اللہ، عراقی گروہوں اور حوثیوں کے رویوں میں نمایاں فرق دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے علاقائی اتحادی اپنی الگ حکمت عملی اور حالات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔

حوثی اب بھی اہم علاقائی قوت

ایران کے علاقائی نیٹ ورک میں حوثیوں کی اہمیت گزشتہ عرصے میں مزید نمایاں ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2026 میں حوثیوں کی فوجی پیش قدمی اور بحیرۂ احمر و باب المندب کے اطراف ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے سعودی عرب کے لیے بھی نئے سکیورٹی چیلنج پیدا کیے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں حوثیوں کی کارروائیوں نے ایران کو خطے کے اہم سمندری راستوں پر اضافی تزویراتی اثر فراہم کیا ہے۔

رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس سے یمن ایک بار پھر ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان وسیع تر کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے۔

حزب اللہ کو ایران کی مالی مدد جاری

حزب اللہ کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود ایران کی جانب سے حمایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ رائٹرز نے 7 اکتوبر 2026 کو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو تقریباً 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے ہیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ سے متاثرہ لبنانی خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے 2025 میں بھی حزب اللہ کو تقریباً ایک ارب ڈالر فراہم کیے تھے، اگرچہ تہران نے اس مالی معاونت کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی۔

مستقبل میں ایران کا علاقائی نیٹ ورک

تجزیوں کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد ایران کے علاقائی نیٹ ورک کو شدید نقصانات ضرور اٹھانا پڑے ہیں، لیکن اسے ختم شدہ نیٹ ورک قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق حزب اللہ، حماس اور دیگر اتحادی گروہوں کو نقصان پہنچنے کے باوجود ایران کے لیے یہ گروہ اب بھی علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔

یوں ’’وحدتِ محاذ‘‘ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایران اپنے کمزور ہونے والے اتحادی نیٹ ورک کو کس حد تک دوبارہ منظم کر پاتا ہے اور حماس، حزب اللہ، حوثیوں اور عراق کے مسلح گروہ مستقبل میں تہران کی ترجیحات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ رہتے ہیں۔ موجودہ شواہد یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک شدید دباؤ میں ہے، مگر مختلف محاذوں پر موجود گروہوں کی صلاحیتیں اور سیاسی اثر اب بھی برقرار ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C