11/February/2025

غزہ میں ‘قحط میں اضافے‘ کا خدشہ

👁️ 76 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ میں ‘قحط میں اضافے‘ کا خدشہ

غزہ میں ‘قحط میں اضافے‘ کا خدشہ

نیو یارک (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے پی/اے ایف پی) اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر امداد کے سربراہ نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگرچہ فائر بندی کے بعد غزہ میں امداد کے اضافے سے قحط بڑی حد تک ٹل گیا ہے تاہم فائر بندی کا خاتمہ قحط کے خطرے کو تیزی سے واپس لا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے غزہ کے دو روزہ دورے کے بعد اتوار کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ”میرے خیال میں قحط کا خطرہ بڑی حد تک ٹل گیا ہے۔ بھوک کی شدت اب اس سطح پر نہیں، جہاں فائر بندی سے پہلے تھی۔ لیکن اگر فائر بندی ختم ہو جاتی ہے، تو یہی خطرہ جلد واپس آ سکتا ہے۔‘‘

انیس جنوری کو شروع ہونے والی فائربندی کے بعد سے روزانہ سینکڑوں ٹرک امدادی سامان لے کر غزہ پہنچ رہے ہیں۔

ٹام فلیچر کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فائر بندی کے تسلسل سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں اور اس کے زیادہ پیچیدہ دوسرے مرحلے پر بات چیت ہونے والی ہے۔ چھ ہفتے کی فائر بندی کا پہلا مرحلہ اپنے نصف کو پہنچ چکا ہے۔

فائر بندی کے معاہدے کے تحت اسرائیل نے روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا جو کئی ماہ کی تاخیر اور سکیورٹی خدشات کے بعد ایک نمایاں بہتری ہے۔

فریقین سے معاہدے پر کاربند رہنے کی اپیل

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کے دفتر کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 12,600 سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔

فلیچر نے حماس اور اسرائیل دونوں پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے پر کاربند رہیں جس نے ”بہت سی جانیں بچائی ہیں۔‘‘

تاہم انہوں نے کہا، ”حالات اب بھی بہت خراب ہیں، لوگ اب بھی بھوکے ہیں۔ اگر فائر بندی ختم ہو گئی تو قحط جیسی صورت حال دوبارہ بہت جلد واپس آ جائے گی۔”

بین الاقوامی طور پر قحط کا تعین کرنے کا معیار یہ ہے کہ ہر 10 ہزار افراد میں سے روزانہ کم از کم دو افراد بھوک سے مر جاتے ہوں۔

موجودہ فائر بندی سے پہلے کئی ماہ تک غذائی تحفظ کے ماہرین، اقوام متحدہ کے حکام اور دیگر تنظیمیں غزہ میں، خاص طور پر شمالی حصے میں قحط کے خطرے سے خبردار کرتے رہے تھے جو سولہ ماہ کی جنگ کے ابتدائی ہفتوں سے تقریباً باقی حصوں سے کٹ چکا تھا۔ تاہم فائر بندی کے دوران لاکھوں فلسطینی شمالی غزہ واپس لوٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

غزہ کی بیشتر آبادی بے گھر ہو چکی ہے، فلیچر

فلیچر نے کہا کہ 20 لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل غزہ کی آبادی، جس میں سے زیادہ تر افراد بے گھر ہو چکے ہیں، کو مزید خوراک اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلنے کے خدشے کا اظہار کیا اور اس علاقے میں فوری طور پر مزید خیمے اور پناہ گاہیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ”ہمیں ہزاروں خیمے فوری طور پر پہنچانا ہوں گے تاکہ جو لوگ واپس آ رہے ہیں وہ سخت موسم کی مار سے بچ سکیں۔‘‘

فلیچر نے غزہ میں تباہ شدہ علاقوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد کہا، ”تباہی کے باعث وہاں یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ کون سی عمارت اسکول تھی، کون سا ہسپتال تھا، اور کون سا گھر تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے لوگوں کو اپنے گھروں کی باقیات تلاش کرتے اور ملبے میں دبے اپنے پیاروں کی لاشیں نکالتے دیکھا۔ یہاں تک کہ کچھ کتوں کو بھی ملبے میں لاشوں کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے پایا گیا۔

فلیچر کا کہنا تھا، ”یہ کسی ہولناک فلم جیسا منظر ہے۔ یہ ایک بھیانک حقیقت ہے جو بار بار دل توڑ دیتی ہے۔ آپ یہاں میلوں سفر کریں لیکن ہر طرف یہی کچھ نظر آتا ہے۔‘‘

فلسطینی عوام عالمی برادری کے رویے سے ناراض

فلیچر نے تسلیم کیا کہ فلسطینی عوام عالمی برادری کے رویے سے ناراض ہیں۔

انہوں نے کہا، ”وہاں مایوسی اور غصہ موجود ہے اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ دنیا پر ان کا غصہ کیوں ہے، کیونکہ یہ سب کچھ ان کے ساتھ ہوا ہے۔ لیکن میں نے ایک مزاحمتی جذبہ بھی دیکھا۔ لوگ کہہ رہے تھے، ”ہم اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔ ہم ان جگہوں پر واپس جائیں گے جہاں ہم نسلوں سے رہ رہے ہیں اور ہم انہیں دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C