15/October/2026

آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل بحال کرنے کے لیے امریکہ اور ایران میں چند ہفتوں کے اندر معاہدہ ضروری، اقوام متحدہ کا غذائی بحران سے متعلق انتباہ

👁️ 109 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل بحال کرنے کے لیے امریکہ اور ایران میں چند ہفتوں کے اندر معاہدہ ضروری، اقوام متحدہ کا غذائی بحران سے متعلق انتباہ

آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل بحال کرنے کے لیے امریکہ اور ایران میں چند ہفتوں کے اندر معاہدہ ضروری، اقوام متحدہ کا غذائی بحران سے متعلق انتباہ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران نے آئندہ چند ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے راستے کھاد کی ترسیل بحال کرنے کے منصوبے پر اتفاق نہ کیا تو ایشیا اور افریقہ کے بعض علاقوں کو سنگین غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق معاہدے میں تاخیر سے کاشت کا اہم موسم متاثر ہونے اور زرعی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل خورخے موریرا دا سلوا نے بنکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بتایا کہ کھاد کی محفوظ ترسیل کے لیے اقوام متحدہ نے مارچ 2026 میں ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا تھا، تاہم اس کا تیار کردہ طریقۂ کار ابھی تک نافذ نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق ہونے کی صورت میں یہ نظام 7 سے 10 روز کے اندر فعال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چند ہفتوں میں معاہدہ نہ ہوا تو کاشت کا موسم ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق مجوزہ منصوبے میں عمان میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک رابطہ مرکز قائم کرنے کی تجویز شامل ہے، جہاں سے کھاد لے جانے والے بحری جہازوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور محفوظ گزرگاہ کے انتظامات کیے جاسکیں گے۔ منصوبے کے تحت روزانہ پانچ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا بھی زیر غور ہے، تاکہ کم از کم ضروری کھاد کی ترسیل جاری رکھی جاسکے۔ جہازوں کی نگرانی کے ساتھ ضرورت پڑنے پر ان کے سامان کی اضافی جانچ بھی کی جاسکتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً ایک تہائی یوریا اور سمندر کے راستے منتقل ہونے والی تقریباً نصف گندھک آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔ یہ دونوں زرعی کھادوں کی تیاری میں اہم خام مال ہیں۔ تنازع کے باعث خلیجی خطے سے کھاد کی ترسیل چھ ماہ سے زائد عرصے سے بڑی حد تک معطل ہے، جس کے اثرات زرعی پیداوار اور عالمی غذائی رسد پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی چیمبر آف کامرس کے حوالے سے روئٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھاد کی فراہمی میں طویل رکاوٹ کی صورت میں اناج کی قیمتوں میں 81 فیصد اور خوردنی تیل سے متعلق فصلوں کی قیمتوں میں 66 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس سے کم آمدنی والے ممالک اور درآمدی کھاد پر انحصار کرنے والے کسانوں پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہزاروں تجارتی جہازوں کی مدد کی ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکہ اس آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی متاثر کرنے کی ایرانی کوششوں کے خلاف اقدامات جاری رکھے گا۔ وائٹ ہاؤس اور بنکاک میں ایرانی سفارت خانے نے خبر رساں ادارے کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

روئٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز کا بحران عالمی غذائی رسد کو متاثر کرنے والے دیگر عوامل کے ساتھ شدت اختیار کررہا ہے۔ بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحیرۂ احمر کے اہم سمندری راستے پر حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے بھی عالمی تجارت اور خوراک کی فراہمی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کھاد کی ترسیل بحال کرنے کے لیے فوری معاہدہ زرعی موسم اور غذائی تحفظ کے حوالے سے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C