29/May/2025

آزاد کشمیر میں شدت پسندوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب! لال مسجد اور افغان رابطوں کا انکشاف

👁️ 124 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آزاد کشمیر میں شدت پسندوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب! لال مسجد اور افغان رابطوں کا انکشاف

آزاد کشمیر میں شدت پسندوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب! لال مسجد اور افغان رابطوں کا انکشاف

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے مرکزی شہر راولا کوٹ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران حسین کوٹ کے جنگلات میں فائرنگ کے شدید تبادلے میں چار مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ آٹھ اہلکار زخمی ہو گئے، جن میں ڈی ایس پی اکمل شریف بھی شامل ہیں۔

مسلح جھڑپ: کارروائی کا پس منظر

پولیس حکام کے مطابق خفیہ اطلاعات ملنے پر پولیس اور اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) نے حسین کوٹ کے جنگلات میں کارروائی کی، جہاں اطلاعات کے مطابق شدت پسند عناصر ایک غار میں چھپے ہوئے تھے۔ فورسز نے جب چھاپہ مارا تو دہشت گردوں نے دستی بم سے حملہ کر دیا اور پھر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

جوابی کارروائی میں زرنوش، جبران اور ان کے دو ساتھیوں سمیت چاروں شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا ہے کہ انہیں علاقے میں شدت پسند عناصر کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس پر حسین کوٹ میں ایک کارروائی کی گئی۔ چھاپے کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے مزاحمت کی گئی اور اسی دوران زرنوش نسیم نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

مقامی رہائشیوں نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ دھماکے کے بعد کچھ دیر تک علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔

پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمیوں کی حالت

کارروائی کے دوران کانسٹیبل طارق اور کانسٹیبل گلفراز ہلاک ہو گئے، جبکہ ڈی ایس پی اکمل شریف سمیت دیگر آٹھ اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر راولا کوٹ کے شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

دہشت گردوں کا پس منظر اور نیٹ ورک

ایس ایس پی پونچھ ریاض مغل نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاک دہشت گرد سجاد ریشم کے قتل کیس میں مطلوب تھے اور کالعدم تحریک طالبان کشمیر (ٹی ٹی کے) سے وابستہ تھے۔ ان دہشت گردوں کو افغانستان میں موجود ڈاکٹر رؤف اینڈ کمپنی کی حمایت حاصل تھی۔

ایس ایس پی کے مطابق یہ گروہ آزاد کشمیر میں داخل ہوکر کسی تھانے یا فوجی تنصیب پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

گزشتہ گرفتاریوں کا پس منظر: ٹی ٹی پی نیٹ ورک کا انکشاف

یاد رہے کہ 15 اپریل کو آزاد کشمیر کی وزارت داخلہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ نو مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ گرفتاریاں وزیر داخلہ کرنل وقار نور اور آئی جی پولیس رانا عبدالجبار کی جانب سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ظاہر کی گئیں۔ حکام کے مطابق گرفتاریاں زرنوش نسیم کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر عمل میں آئیں۔

ثاقب کی گرفتاری اور اعترافات

ان گرفتاریوں میں سب سے اہم پیش رفت 19 مارچ کو آزاد پتن کے علاقے سے ثاقب نامی شدت پسند کی گرفتاری تھی۔ ثاقب نے اپنی ویڈیو بیان میں اعتراف کیا کہ وہ اور اس کے ساتھی فوجی اور سول تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ اسے اس مقصد کے لیے مالی معاونت اور اسلحہ بھی فراہم کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کی لال مسجد اور افغان روابط

ثاقب نے مزید انکشاف کیا کہ اس گروہ کے تعلقات اسلام آباد کی لال مسجد اور مولانا عبدالعزیز سے بھی قائم تھے۔ گروہ کا ایک اور اہم رکن غازی شہزاد تھا، جو اس سے قبل راولا کوٹ جیل سے فرار ہو چکا تھا۔

تمام کارروائیاں مبینہ طور پر زرنوش نسیم کی ہدایت پر انجام دی جا رہی تھیں۔

ریاستی ردعمل اور سیکیورٹی اقدامات

فائرنگ کے تبادلے اور آپریشن کی اطلاع پر وزیراعظم آزاد کشمیر اور آئی جی پولیس فوری طور پر راولا کوٹ پہنچے، جہاں انہوں نے شیخ زید اسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔

پولیس اور سیکیورٹی حکام کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے جبکہ دہشت گردوں کے کسی ممکنہ سہولت کار یا باقی ماندہ نیٹ ورک کے خلاف مزید سرچ آپریشن جاری ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C