اسٹریٹجک ڈیپتھ کا المیہ: جب خواب راکھ ہوئے اور حقیقت نے گریبان پکڑ لیا
👁️ 349 بار دیکھا گیا
اسٹریٹجک ڈیپتھ کا المیہ: جب خواب راکھ ہوئے اور حقیقت نے گریبان پکڑ لیا
تحریر: محمد عامر حسینی
اگست دو ہزار اکیس کے تپتے ہوئے دنوں میں جب کابل کی فضاؤں میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی آخری پروازیں گونج رہی تھیں اور افغان طالبان فاتحانہ انداز میں صدارتی محل کے دالانوں میں داخل ہو رہے تھے، تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے اقتدار کے ایوانوں میں ایک غیر معمولی، مسحور کن فتح کا جشن منایا جا رہا تھا۔ ریاست کے اعلٰی ترین منصب داروں نے سینہ تان کر اس پیش رفت کو غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے سے تعبیر کیا اور عسکری و تزویراتی حلقوں میں بغلیں بجائی گئیں کہ بالآخر نصف صدی پر محیط قربانیوں، نادیدہ جنگوں اور اربوں ڈالرز کے تزویراتی جوئے کا پھل مل گیا ہے۔ یہ تاثر عام کیا گیا کہ جس گروہ کو دہائیوں تک اپنا برین چائلڈ اور مجاہد بھائی بنا کر پالا گیا، اب اس کی حکومت کے زیر سایہ پاکستان کی مغربی سرحد ہمیشہ کے لیے محفوظ، پرامن اور دوستانہ بن جائے گی اور بھارت کے اثر و رسوخ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔
مگر آج محض چند سال کے مختصر وقفے کے بعد اسی سرحد کی طرف نگاہ دوڑائیں تو فتح کا وہ نشہ ایک بھیانک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس افغان طالبان حکومت کو پاکستان کے تزویراتی اور معاشی مستقبل کی بنیاد قرار دیا گیا تھا، آج اسی حکومت کے ساتھ ہمارے تعلقات سفارتی سرد مہری سے گزر کر عملاً حالت جنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔ آئے روز سرحدوں پر توپ خانے کی گھن گرج سنائی دیتی ہے، چوکیوں پر گولہ باری ہوتی ہے، فضائی حملے کیے جاتے ہیں اور بے گناہ فوجی و عام شہری جنازوں کی صورت اس سراب کا تاوان بھر رہے ہیں۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان معمول کی ناچاقی نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی ریاست کے اس تاریخی فلسفے کا حتمی، عبرتناک اور مکمل انہدام ہے جسے دہائیوں تک تقدیس کا درجہ دے کر اسٹریٹجک ڈیپتھ کا نام دیا گیا تھا۔
اس تاریخی سانحے کی بنیاد ان فکری کجیوں اور بنیادی مغالطوں پر رکھی گئی تھی جن پر ہماری سلامتی کے منصوبہ ساز عشروں سے تکیہ کیے بیٹھے تھے۔ سب سے پہلا اور بنیادی مغالطہ افغان سماج، تاریخ اور افغان قوم پرستی کی فطرت کو سمجھنے میں ناکامی تھا۔ ہمارے پالیسی سازوں نے یہ سمجھنے میں تاریخی غلطی کی کہ مذہبی یکسانیت اور نظریاتی ہم آہنگی جغرافیائی اور نسلی حقیقتوں کو نگل سکتی ہے۔ افغان طالبان چاہے اپنی فکری بنیاد میں کتنے ہی سخت گیر، قدامت پسند اور مذہبی کیوں نہ ہوں، ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون بنیادی طور پر افغان اور پشتون قوم پرستی سے لبریز ہے۔ افغان تاریخ کا ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ احمد شاہ ابدالی سے لے کر ظاہر شاہ تک، سردار داؤد سے لے کر ڈاکٹر نجیب اللہ تک، اور اشرف غنی سے لے کر موجودہ طالبان قیادت تک، کسی بھی افغان حکمران نے ڈیورنڈ لائن کو ایک مستقل بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ کابل کا تخت سنبھالتے ہی طالبان نے اپنے پہلے ہی بیانات اور اقدامات سے واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر راولپنڈی کے ماتحت یا جی حضوری کرنے والے کارندے بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ خود کو ایک خودمختار ریاست کا نمائندہ سمجھتے ہیں جس کی انا تاریخی افغان روایات سے جڑی ہوئی ہے۔
دوسرا سنگین مغالطہ تحریکِ طالبان پاکستان کے حوالے سے پالیسی سازوں کی ضرورت سے زیادہ خوش فہمی تھی۔ ہمارے حلقے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ کابل فتح ہوتے ہی افغان طالبان اپنے ان پاکستانی بھائی بندوں کی گردنیں دبوچ لیں گے جنہوں نے بیس سال تک امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف ان کے شانہ بشانہ جنگ لڑی تھی۔ یہ توقع کرنا خود فریبی کی بدترین مثال تھی۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی محض اتحاد کے بندھن میں نہیں بندھے ہوئے بلکہ ان کا رشتہ ایک ہی خندق میں لڑنے، نظریاتی بیعت، مسلکی قرابت داری اور قبائلی رشتہ داریوں سے جڑا ہوا ہے۔ کابل کی قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر انہوں نے پاکستان کے کہنے پر ٹی ٹی پی کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تو ان کی اپنی صفوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور ٹی ٹی پی کے جنگجو بڑی تعداد میں ان کے شدید حریف داعش خراسان میں شامل ہو جائیں گے۔ چنانچہ طالبان قیادت نے اسلام آباد کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنے ان اتحادیوں کو محفوظ پناہ گاہیں، اخلاقی تائید اور جدید امریکی ہتھیاروں تک رسائی فراہم کی۔
جب یہ طلسم ٹوٹا اور ریاست کو معلوم ہوا کہ کابل سے کوئی تحفہ ملنے والا نہیں تو ردعمل میں ایک اور حماقت کا ارتکاب کیا گیا۔ سیکیورٹی اور عسکری تنازع کو حل کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی ہی معیشت کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا۔ بارڈر پر جب بھی کوئی کشیدگی ہوئی، ردعمل کے طور پر طورخم، چمن، غلام خان، انگور اڈہ اور خرلاچی کے تجارتی راستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا۔ ویزا کے پیچیدہ ترین قوانین لاگو کر دیے گئے، کسٹم کے من مانے ضوابط مسلط کیے گئے اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے راستے میں ایسی دیواریں کھڑی کر دی گئیں جس سے تجارتی مال کے قافلے ہفتوں اور مہینوں سرحد پر سڑنے لگے۔
اس احمقانہ حکمت عملی نے افغان طالبان پر کتنا اثر ڈالا یہ بعد کی بات ہے، لیکن اس نے پاکستان کی اپنی زراعت اور صنعت کے پاؤں تلے سے زمین ضرور کھینچ لی۔ خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے ان گنت کسان، باغبان اور تاجر جو تازہ پھل، سبزیاں، کنو، چاول، گندم، مرغی اور ڈیری مصنوعات افغانستان برآمد کرتے تھے، راتوں رات دیوالیہ ہو گئے۔ پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری، جس کی کھربوں روپے کی ادویات بغیر کسی مقابلے کے افغان مارکیٹ میں کھپتی تھیں، راستوں کی بندش سے شدید بحران کا شکار ہو گئیں۔ سیمنٹ کے کارخانے، لوہے اور سریے کے مینوفیکچررز، ٹیکسٹائل اور فوڈ اینڈ بیوریج کے برآمد کنندگان سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ایک ایسی معیشت جو زرمبادلہ کی ایک ایک پائی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ کے دروازے پر کاسہ گدائی لیے کھڑی ہے، اس نے اپنی جغرافیائی برتری اور روایتی علاقائی منڈی کو اپنے ہی ہاتھوں سے قربان کر دیا اور اربوں ڈالر کے یقینی زرمبادلہ پر لات مار دی۔
اب ذرا پاکستان کے طرزِ عمل کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کیجیے۔ دنیا دیکھے کہ جدید سفارت کاری، حقیقت پسندی اور عملی جیو اکنامکس کسے کہتے ہیں۔ ایران کو دیکھیے جس کے افغان طالبان کے ساتھ فکری، مذہبی اور جغرافیائی اختلافات پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے اور تاریخی نوعیت کے ہیں۔ ایران میں شیعہ آبادی کے حقوق کے معاملات ہیں، دریائے ہلمند کے پانی کی تقسیم پر بندوقیں تنی رہیں، سرحدی جھڑپوں میں ایرانی سرحدی محافظ مارے گئے اور تہران پر افغان مہاجرین کا ناقابلِ برداشت بوجھ پڑا۔ مگر تہران کی زیرک قیادت نے اپنے اصولی اختلافات اور سیکیورٹی تنازعات کو کبھی اپنی تجارت اور معیشت کی قیمت پر حل کرنے کی غلطی نہیں کی۔
ایران نے اسلام قلعہ اور میلک کے بارڈر کو کبھی طویل عرصے کے لیے بند نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی غصے کی بھینٹ اپنے کسانوں اور تاجروں کو نہیں چڑھنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ جب پاکستان نے کراچی پورٹ پر افغان تاجروں پر کسٹم کے بے جا شِکنجے کسے اور طورخم پر کنٹینرز روک کر کھڑے کیے تو ایران نے چابہار پورٹ کو سرخ قالین بچھا کر افغان تاجروں کے لیے کھول دیا۔ بندر عباس اور چابہار سے افغان تاجروں کو سستی ٹرانزٹ دی گئی، ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی اور خواف تا ہرات ریلوے لائن کے منصوبے کو برق رفتاری سے مکمل کر کے افغانستان کو تہران، ترکی اور یورپ کے ریل نیٹ ورک سے جوڑ دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو باہر دھکیل کر ایران چند ہی برسوں میں افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا اور آج کابل کی مارکیٹوں میں پاکستانی اشیاء کے بجائے ایرانی مصنوعات کا راج ہے۔
یہی کمال وسطی ایشیائی ریاستوں، بالخصوص ازبکستان اور ترکمانستان نے دکھایا۔ ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف نے ماضی کے تمام تر نظریاتی اختلافات کو ایک طرف رکھا اور کابل حکومت کے ساتھ برابری کی سطح پر بیٹھ کر بزنس پارٹنرشپ کا آغاز کیا۔ انہوں نے ترمذ کے سرحدی علاقے میں ایک وسیع و عریض بین الاقوامی تجارتی مرکز قائم کیا جہاں افغان تاجروں اور عام شہریوں کو پندرہ دن تک بغیر کسی ویزے کے داخلے، خریداری اور کاروبار کی اجازت دی گئی۔ ازبکستان نے کابل کو مسلسل بجلی فراہم کی اور ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ترکمانستان نے اپنے کڑوڑوں ڈالر کے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے تحفظ کے لیے کوئی عسکری مہم جوئی نہیں کی بلکہ طالبان کو ٹرانزٹ فیس کا حصہ دار بنا کر اپنے منصوبے کی سیکیورٹی خرید لی۔ روس نے تمام تر سیکیورٹی خدشات کے باوجود طالبان کے ساتھ سفارتی چینلز مکمل طور پر کھلے رکھے اور چین نے اپنی سمارٹ معاشی پالیسی کے تحت افغانستان کے تیل، لیتھیم اور تانبے کی کان کنی کے معاہدوں پر دستخط کر کے کابل سے اپنے معاشی مفادات کی حفاظت کا وعدہ لے لیا۔
خطے کے تمام ممالک نے کابل کی عبوری حکومت کو ایک زمینی حقیقت تسلیم کیا، ان کے ساتھ برابری کی سطح پر لین دین کی بنیاد رکھی اور تجارتی مفادات کو سیکیورٹی الزامات سے الگ رکھا۔ اس کے برعکس پاکستان کا رویہ ایک ایسے مایوس اور ناراض سرپرست کا رہا جو ہر وقت اپنے پرانے احسانات کا پلندہ بغل میں دبائے یہ طعنہ دیتا پھرتا ہے کہ ہم نے تمہاری خاطر کیا کیا قربانیاں نہیں دیں۔ ریاست نے یہ نہ سوچا کہ بین الاقوامی تعلقات جذباتی طعنوں، احسان جتانے اور غیر مشروط وفاداری کے مطالبوں پر نہیں چلتے بلکہ وہ ٹھوس باہمی مفادات اور برابری کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔
اب قوم کی عدالت میں سب سے تلخ اور کڑوا سوال یہ کھڑا ہے کہ دہائیوں کی اس ہمہ جہت، تاریخی اور تباہ کن ناکامی کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
کیا اس کی ذمہ داری وہ سیکیورٹی اور عسکری پالیسی ساز ادارے اور بااختیار شخصیات قبول کریں گی جنہوں نے دہائیوں تک ملکی خارجہ پالیسی کو پارلیمان اور دفتر خارجہ کی عمارت سے اغوا کر کے راولپنڈی کے مخصوص کمروں میں محبوس رکھا؟ وہ بااختیار منصوبہ ساز جنہوں نے غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کو خارجہ پالیسی کا ہتھیار بنانے کی وہ خطرناک ڈاکٹرائن تراشی جس نے بالآخر خود پاکستان کے سینے پر زخم لگائے۔ جب کابل کے حالات ان کی من چاہی خواہشات کے برعکس نکلے تو متبادل منصوبہ بندی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ تاریخی طور پر جب بھی کسی پالیسی کا ایسا حشر ہوتا ہے تو پالیسی ساز اپنی ناکامیوں کی تلافی کرنے اور غلطیوں کا ادراک کرنے کے بجائے سارا ملبہ سازشوں، بدلتے ہوئے عالمی حالات اور افغانوں کی نام نہاد نمک حرامی پر ڈال کر خود کو دودھ کا دھلا قرار دے دیتے ہیں۔ پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ یہاں پالیسی فیل ہونے پر احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا کوئی رواج ہی نہیں۔
یا پھر اس کا ملبہ ان روایتی سیاسی رہنماؤں، حکمران اشرافیہ اور پارلیمانی نمائندوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے بزدلی، ذاتی مفادات اور اقتدار کے جھوٹے تحفظ کی خاطر خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی کو ہمیشہ انہی طاقتور حلقوں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا؟ ہماری پارلیمان نے کبھی یہ جرأت نہ کی کہ وہ افغان پالیسی پر دو ٹوک اور بااختیار بحث کروائے۔ جب جب سیاسی قیادت کے سامنے سوال آیا، انہوں نے سویلین بالادستی اور آئینی نگران کے کردار سے دستبردار ہو کر محض ایک ربر اسٹیمپ کا کردار ادا کیا۔ سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہیں یا حزب اختلاف میں، انہوں نے اپنے ماتھے پر پسینہ نہ آنے دیا اور جب سرحدوں پر آگ لگی اور کسانوں کے باغات اجڑے تو وہ سب شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن چھپا کر بیٹھ گئے۔
ہماری ریاست نے زبان کی حد تک جیو پولیٹکس سے نکل کر جیو اکنامکس کی طرف منتقلی کے بلند و بانگ دعوے تو کیے، کاغذوں پر خوبصورت دستاویزات اور پالیسی پیپرز تو لکھوائے، مگر عملاً ریاست کا پورا ڈھانچہ آج بھی اسی فرسودہ، عسکری اور سیکیورٹی زدہ چشمے سے دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ اگر ہمسایوں کے ساتھ سرحدیں بند کرنا، باہمی تجارت کا گلا گھونٹنا اور تزویراتی ناکامیوں کا بوجھ عام شہری پر لادنا ہی جیو اکنامکس ہے تو پھر اس سے بڑی ریاستی منافقت اور کیا ہو سکتی ہے؟
جب تک اس ملک کی افغان پالیسی کو سیکیورٹی بیرکوں سے نکال کر منتخب پارلیمان، آزاد تھنک ٹینکس اور وزارتِ خارجہ کے سپرد نہیں کیا جاتا، جب تک ریاست اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو کسی سیکیورٹی ایجنسی کا اثاثہ سمجھنے کے بجائے خودمختار ریاستوں کی برابری اور خالص معاشی شراکت داری کے تحت نہیں دیکھتی، اور جب تک ماضی کی سنگین حماقتوں کا کھل کر سویلین احتساب نہیں ہوتا، اس وقت تک نہ تو ہماری مغربی سرحد پر کبھی حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی لٹی ہوئی معیشت اور کھوئی ہوئی منڈیاں کبھی دوبارہ بحال ہو سکتی ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 8 مبینہ دہشتگرد گرفتار، دھماکہ خیز مواد اور دستی بم برآمد
17/October/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا، تین مسافر اور ڈرائیور رہا
17/October/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد نے پنکئی پولیس چوکی کی عمارت گرا دی
17/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے قریب فائرنگ، 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک
17/October/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر راکٹ حملہ، ایک ہی علاقے میں دو واقعات رپورٹ
17/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
ایران سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازع کے سیاسی حل میں تعاون کے لیے تیار
17/October/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15616 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11911 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9261 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7518 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5466 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C