14/July/2023

افغانستان سے کرم پر میزائل حملہ تشویشناک ہے، پاکستان

👁️ 47 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان سے کرم پر میزائل حملہ تشویشناک ہے، پاکستان

افغانستان سے کرم پر میزائل حملہ تشویشناک ہے، پاکستان

اسلام آباد (ش ح ط) پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان اپنے وعدے اور ذمہ داریاں پوری کرنے اور یقینی بنائے کہ ان کی سرزمین ہمارے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، افغانستان سے قبائلی ضلع کرم کے شیعہ اکثریتی علاقے پاراچنار پر میزائل فائر ہونا تشویشناک ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے اور ذمہ داریاں پوری کرے اور یہ یقینی بنانا افغانستان کی ذمہ داری ہے کہ اس کی زمین پاکستان نے خلاف استعمال نہ ہو۔افغانستان سے کرم پر میزائل فائر ہونا ایک مقامی مسئلہ ہے، اسکو مقامی انتطامیہ دیکھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو اپر کرم کے علاقے بوشہرہ اور ڈنڈار کے درمیان شیعہ سنی قبائل کے مابین ایک زمینی تنازع اس وقت شروع ہوا جب شاملاتی زمین پر ایک قبیلے کی جانب سے شروع کیے گئے تعمیراتی کام کو دوسرے قبیلے کے افراد نے روکنے کی کوشش کی اور یوں مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

بعد ازاں یہ تنازع مذہبی تصادم اور فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرگیا اور فریقین ایک دوسرے پر ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران سے امداد طلب کرنے کے الزام عائد کرتے رہے۔

ادھر محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے مطابق کرم، کوہاٹ، اورکزئی اور ہنگو کے جرگہ اراکین نے قیام امن میں کردار اداکیا جب کہ صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پاک فوج کی کوششوں سے امن معاہدہ طے پایا۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق ضلع کرم میں امن و امان کی صورتحال معمول پر آنے تک وہاں فوج تعینات رہے گی۔

صوبائی محکمہ داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ کے پی حکومت اپنے شہریوں کے لیے دیرپا امن کی کوششیں جاری رکھے گی۔

صوبائی محکمہ داخلہ نے کرم کے عوام سے اپیل کی ہے کہ تنازع کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’کئی ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ شرپسند عناصر اسے فرقہ وارانہ تصادم کا رنگ دے رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔ ایسے تمام شرپسندوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تنازع کے خاتمے کے لیے لینڈ کمیشن نے گزشتہ ماہ دو مرتبہ ضلع کرم کا دورہ کیا تھا جبکہ لینڈ کمیشن کا رواں ہفتے تیسرا دورہ کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔

خیال رہے کہ ضلع کرم میں 7 روز سے زمین کے تنازع پر شیعہ سنی قبائل کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، قبائلی جھڑپوں کے دوران فائرنگ کے واقعات میں 13 افراد ہلاک اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

ضلع کرم میں اس سال مئی میں پانچ شیعہ اساتذہ سمیت آٹھ افراد کے قتل کے بعد حالات کشیدہ رہے ہیں۔ واقعات کچھ یوں رپورٹ ہوئے تھے کہ ایک گاڑی پر فائرنگ سے محمد شریف نامی استاد کو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کیے گئے تھے کہ شیعہ اکثریتی علاقے میں سنی استاد کو قتل کر دیا گیا ہے جس کے بعد گورنمنٹ تری منگل سکول کے سٹاف روم میں موجود شیعہ اساتذہ سمیت سکول کا عملہ موجود تھا جن پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کردی تھی۔

ان واقعات کے بعد علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جہاں سکول کالج اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C