04/July/2023

امام بارگاہ پر خودکش حملے میں ملوث چار سعودی شہریوں سمیت 5 افراد کو سزائے موت دیدی گئی

👁️ 64 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امام بارگاہ پر خودکش حملے میں ملوث چار سعودی شہریوں سمیت 5 افراد کو سزائے موت دیدی گئی

امام بارگاہ پر خودکش حملے میں ملوث چار سعودی شہریوں سمیت 5 افراد کو سزائے موت دیدی گئی

ریاض (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) سعودی عرب کی حکومت نے رواں برس پہلی بار اجتماعی طور پانچ افراد کو ایک ساتھ موت کی سزائیں دی ہیں۔ پانچوں پر ایک شیعہ عبادت گاہ میں خودکش حملہ کرنے کا الزام تھا، جنہیں دہشت گردی کے جرم میں موت کی سزا دی گئی۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مشرقی ریجن الاحساء کی مسجد میں خودکش دھماکہ اور فائرنگ کرنے والے پانچ قصورواروں کو تین جولائی پیر کے روز سزائے موت دے دی گئی۔ رواں برس ملک میں سزائے موت پر اجتماعی عمل درآمد کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔

جن پانچ افراد کو موت کی سزا دی گئی اس میں سے چار سعودی عرب کے شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق مصر سے تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق دہشتگردوں میں مصری طلحہ ہشام محمد عبدہ سمیت سعودی شہری احمد بن محمد، نصار بن عبداللہ، حمد بن عبداللہ اورعبداللہ بن عبدالرحمن شامل ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے یہ نہیں بتایا کہ موت کی سزا کس طرح دی گئی، تاہم ملک میں ماضی میں سر قلم کرنے کی روایت رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جن افراد کو گزشتہ روز موت کی سزا دی گئی، ان پر ایک عبادت گاہ کے اندر حملہ کرنے کا مقدمہ چلایا گیا تھا، جس میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم سعودی پریس ایجنسی نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کا جو بیان شائع کیا ہے، اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حملہ کب ہوا تھا یا کس قسم کی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سعودی عرب میں موت کی سزاؤں میں اضافہ

اس واقعے کے ساتھ ہی رواں برس سعودی عرب میں اب تک سزائے موت پانے والوں کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی سے متعلقہ جرائم میں مئی کے اوائل سے اب تک 20 سے زیادہ افراد کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔

مئی کے اواخر میں حکام نے دہشت گردی کے مرتکب بحرین کے دو شہریوں کو موت کی سزا دی تھی۔ اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ یہ مقدمہ ”تشدد کے ذریعہ حاصل کردہ اعترافات” پر مبنی تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ برس سعودی عرب نے مجموعی طور پر 147 افراد کو پھانسی دی تھی، جو کہ سن 2021 کے مقابلے میں دو گنی تعداد ہے، سن 2021 میں 69 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی۔

گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی سے متعلق جرائم کے لیے مارچ میں ایک ہی روز 81 افراد کو موت کی سزائیں دی گئی تھیں۔

سعودی عرب میں مجرموں کو سزائے موت دیے جانے کے واقعات میں حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت پر دیکھا جا رہا ہے، جب شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں یہ قدامت پسند بادشاہت متنوع سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کے ذریعے اپنے تاثر کو نرم اور ترقی پسندانہ بنا کر پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ مملکت سعودی عرب نے موت کی سزا سے ”چھٹکارا” حاصل کر لیا ہے اور اب یہ سزا صرف قتل کے مقدمات میں دی جائے گی یا پھر جب کسی شخص نے ”بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو ایک ساتھ خطرے میں ڈالا ہو۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C