11/August/2025

امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

👁️ 582 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

واشنگٹن (ش ح ط) امریکی محکمہ خارجہ نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق بی ایل اے کو 2019 میں عالمی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا جبکہ مجید بریگیڈ اس کا ایک ذیلی گروپ ہے۔

 

اعلامیہ میں کہا گیا کہ بی ایل اے نے 2024 میں کراچی ایئرپورٹ اور گوادر میں خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی، اور 2025 میں جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کی بھی، جس میں 31 افراد ہلاک اور 300 سے زائد یرغمال بنائے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عزم کا مظہر ہے۔

 

مجید بریگیڈ کا پس منظر

 

مجید بریگیڈ کی بنیاد 17 مارچ 2010 کو اسلم بلوچ نے بی ایل اے کے ایک دھڑے کے طور پر رکھی۔ اس کا نام "مجید جونیئر" کے نام پر رکھا گیا، جو اسی روز کوئٹہ میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوا تھا۔ یہ مجید، 1974 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر ناکام حملہ کرنے والے "مجید سینیئر" کا رشتہ دار تھا۔

2011 میں کوئٹہ کے قریب مجید جونیئر کا بھائی بھی ایک حملے میں مارا گیا، جس کے بعد دونوں بھائیوں کے نام پر یہ بریگیڈ قائم ہوئی۔ اس کے بعد یہ گروہ 2011 میں کوئٹہ میں سابق وزیر نصیر مینگل کے بیٹے شفیق مینگل کے گھر پر شدید خودکش حملے میں ملوث رہا، مگر پھر ایک طویل خاموشی رہی۔

 

اہم حملوں کی تفصیلات

 

30 دسمبر 2011: کوئٹہ، شفیق مینگل کے گھر پر خودکش کار بم دھماکا، 10 ہلاک، 23 زخمی

 

11 اگست 2018: دالبندین، چاغی، چینی انجینئرز کی بس پر خودکش حملہ، 3 چینی انجینئرز اور 5 زخمی

 

23 نومبر 2018: کراچی، چینی قونصل خانے پر حملہ، 4 ہلاک، 3 حملہ آور مارے گئے

 

11 مئی 2019: گوادر، پرل کنٹینینٹل ہوٹل پر حملہ، 5 ہلاک، 3 حملہ آور مارے گئے

 

29 جون 2020: کراچی، اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، 7 ہلاک (4 حملہ آور سمیت)

 

2 فروری 2022: نوشکی، پنجگور، ایف سی کیمپوں پر بیک وقت حملے، متعدد ہلاک

 

26 اپریل 2022: کراچی یونیورسٹی، چینی اساتذہ کی وین پر خاتون خودکش حملہ، 4 ہلاک، 3 زخمی

 

جون 2023: تربت، سیکیورٹی قافلے پر خاتون خودکش حملہ

 

29-30 جنوری 2024: مچھ، تھانے پر مسلح و خودکش حملہ، 11 ہلاک (3 خودکش بمبار شامل)

 

20 مارچ 2024: گوادر، پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ، ہلاکتوں کی تفصیلات موصول نہیں

 

26-27 اگست 2025: لسبیلہ، سیکیورٹی فورسز کمپاؤنڈ پر خاتون خودکش حملہ، معلومات محدود

 

مارچ 2025: جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ، 31 ہلاک، 300 سے زائد یرغمال

 

خواتین خودکش حملہ آور اور مجید بریگیڈ

 

مجید بریگیڈ نے پہلی بار خواتین خودکش حملہ آوروں کو اپریل 2022 میں استعمال کیا، جب کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد جون 2023 اور اگست 2025 میں تربت اور لسبیلہ میں مزید خواتین نے خودکش حملے کیے۔

 

پاکستان میں خواتین خودکش حملوں کی تاریخ

 

پاکستان میں خواتین خودکش حملہ آوروں کی تاریخ 2000 سے قبل کی ہے۔ نومبر 2000 میں کراچی میں روزنامہ نوائے وقت کے دفتر پر پہلا خودکش حملہ ایک خاتون نے کیا۔ 2005 میں لشکر جھنگوی کے لیے خودکش حملہ آوروں کی تربیت میں دو بہنیں گرفتار ہوئیں۔

 

2010 میں باجوڑ میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے مقام پر خاتون حملہ آور نے دھماکا کیا، جس میں 43 افراد ہلاک ہوئے۔

 

2011، 2012 اور 2013 میں ڈیرہ اسماعیل خان، مومند ایجنسی اور کوئٹہ میں خواتین خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C