27/June/2021

انڈین فضائیہ کے زیر انتظام جموں ايئرپورٹ میں دو بم دھماکے

👁️ 22 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
انڈین فضائیہ کے زیر انتظام جموں ايئرپورٹ میں دو بم دھماکے

انڈین فضائیہ کے زیر انتظام جموں ايئرپورٹ میں دو بم دھماکے

سری نگر (ڈیلی اردو/بی بی سی/وی او اے) انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جموں ایئرفورس کے ٹیکنیکل حصے میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا میں کچھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ دھماکے کسی ڈرون کے ذریعے کیے گئے ہیں تاہم انڈین فضائیہ نے اس جانب کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔

انڈین فضائیہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع دی ہے۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ‘اتوار کی صبح جموں ایئر فورس سٹیشن کے تکنیکی علاقے میں دو کم شدت والے دھماکے ہوئے۔ ایک دھماکے سے ایک عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا جبکہ دوسرا کھلے حصے میں ہوا۔’

فضائیہ نے ایک دوسری ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس واقعے میں کسی سازوسامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور سویلین ایجنسیوں کے ہمراہ جانچ جاری ہے۔

دوسری جانب انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے کرنے کے لیے دو ڈرونز استعمال کیے گئے تھے۔ اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ اس حادثے میں دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

ایجنسی نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واقعے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نائب ایئر چیف، ایئر مارشل ایچ ایس اروڑا سے بات کی ہے۔ ایئر مارشل وکرم سنگھ صورتحال کا جائزہ لینے جموں پہنچ رہے ہیں۔

انڈیا کے معروف صحافی شیکھر گپتا نے اے این آئی کی نیوز کو شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ‘جموں میں انڈین ايئرفورس کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز سے بم گرائے گئے یہ انڈیا میں اس قسم کا پہلا حملہ ہے۔’

بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکے رات 2 بجے ٹیکنیکل ایریا میں ہوئے جسے انڈین فضائیہ استعمال کرتی ہے۔

صحافی موہت کندھاری نے بتایا ہے کہ جموں ایئر پورٹ کی ہوائی پٹی اور ہوائی ٹریفک کنٹرول انڈین فضائیہ کے کنٹرول میں ہے جسے عام مسافروں کی پرواز کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ فرانزک ٹیم نے موقع کی تفتیش کی ہے اور وہاں سے کچھ نمونے اکٹھے کیے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے جوگل پروہت کے مطابق اس حملے کے بارے میں تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا لیکن چونکہ فضائیہ نے اپنی ٹویٹ میں تکنیکی علاقے کا ذکر کیا ہے اس لیے یہ باعث تشویش ہے۔

جوگل کا کہنا ہے کہ اس معنی میں یہ اہم ہے کہ ٹیکنیکل ایریا فضائیہ کا مرکز ہے یا بجائے یہ کہ سب سے اہم علاقہ ہے کیوں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تمام آلات، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز رہتے ہیں۔ اسی جگہ پر تمام ہارڈ ویئرز رکھے گئے ہیں۔ کسی فضائیہ کے اڈے پر دو اہم حصے ہوتے ہیں، ایک تکنیکی علاقے اور دوسرا انتظامی علاقہ۔ اس لحاظ سے یہ حملہ بہت سنگین ہے۔ اسے صرف دو چھوٹے دھماکوں کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

جوگل پروہت پٹھان کوٹ حملے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب حملہ ہوا تو وہاں کے اعلی افسران نے کہا کہ ہم ایئر فورس ہیں اور ہمیں اپنے علاقوں کو فضائی حملوں سے بچانا ہے۔

جوگل کا کہنا ہے کہ ابھی جو خبریں کچھ جگہوں سے آرہی ہیں اور ان میں کہا جارہا ہے کہ یہ ڈرون حملہ ہے، اگر ایسا ہے تو یہ بہت گمبھیر معاملہ ہے۔

واضح سیکیورٹی لیپس

سرکردہ صحافی ارون جوشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دھماکے ڈرونز کی مدد سے کیے گئے ہیں یا یہ داخلی سبوتاژ کے نتیجے میں پیش آئے ہیں، دونوں صورتوں میں یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں ایئر اسٹیشن بھارت اور پاکستان کی سرحد سے صرف چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے 24 گھنٹے سخت پہرے میں رہتا ہے۔ ان کے بقول یہ واضح طور پر ایک سیکیورٹی لیپس ہے۔

ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ نروال علاقے میں جس مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، اُس کاتعلق جموں سے ہے اور وہ اس علاقے میں مشکوک حالت میں گھوم رہا تھا۔ جموں و کشمیر پولیس کے ایک عہدیدار ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل مُکیش سنگھ نے بتایا کہ اس شخص کے ہاتھ میں ایک تھیلہ تھا۔ جس میں موجود تقریبا پانچ کلو گرام کی کوئی مشتبہ چیز برآمد کر لی گئی ہے۔ جو دھماکہ خیز مواد ہوسکتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہے اور مشتبہ شخص سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C