19/December/2022

ایران میں پاسداران انقلاب کے افسر سمیت 4 اہلکار ہلاک

👁️ 23 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں پاسداران انقلاب کے افسر سمیت 4 اہلکار ہلاک

ایران میں پاسداران انقلاب کے افسر سمیت 4 اہلکار ہلاک

تہران (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) ایران کے جنوب مشرق میں پاکستانی سرحد کے قریب واقع علاقے میں کیے گئے ایک حملے میں پاسداران انقلاب کے ایک افسر سمیت چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ’دہشت گردانہ‘ حملہ بدامنی کے شکار صوبے سیستان بلوچستان میں کیا گیا۔

ایرانی دارالحکومت تہران سے پیر انیس دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق حکام نے ایران میں اس حملے کو ‘دہشت گردی کی مجرمانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ جس صوبے میں یہ حملہ کیا گیا، وہاں مسلسل حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں اور اس ایرانی خطے میں انتہا پسند بھی کافی سرگرم ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے چاروں سکیورٹی اہلکار ایران کی محافظین انقلاب کور کے ارکان تھے، جو صوبے سیستان بلوچستان کے شہر سراوان میں کیے گئے ایک ‘دہشت گردانہ‘ حملے میں مارے گئے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد اس ایرانی صوبے سے متصل ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا نے بتایا کہ جس مقام پر یہ خونریز حملہ کیا گیا، وہاں سکیورٹی دستوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کےباعث حملہ آوروں کے گروہ کے ارکان فرار ہو کر پاکستانی علاقے کی طرف چلے گئے۔

بلوچ نسل کی سنی مسلم اقلیتی آبادی والا ایرانی صوبہ

سیستان بلوچستان کا صوبہ ایران کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں بلوچ نسلی اقلیت کے ارکان آباد ہیں۔ یہ بلوچ اقلیت مذہبی طور پر سنی مسلم عقیدے کی حامل ہے جبکہ باقی ماندہ ایران میں شیعہ عقیدے کی حامل مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔

ایران کے اس علاقے میں ماضی میں منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے مجرموں کے منظم گروہوں اور سرکاری دستوں کے مابین کئی مرتبہ بڑی خونریز جھڑپیں بھی دیکھی جا چکی ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے سیستان بلوچستان میں بلوچ نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے باغیوں اور سنی مسلم عسکریت پسندوں کے مابین بھی کئی بار مسلح تصادم دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

تین ماہ سے جاری عوامی مظاہرے

ایرانی حکام کے مطابق سیستان بلوچستان میں موجودہ بدامنی اور حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز 30 ستمبر کے روز اس وقت ہوا تھا، جب وہاں کئی افراد مارے گئے تھے۔

مجموعی طور پر سیستان بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت زاہدان میں ان مظاہروں میں درجنوں افراد مارے گئے تھے، جن میں کم از کم چھ سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

مقامی حکام کے مطابق زاہدان میں یہ عوامی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے تھے جب ایک مقامی ٹین ایجر لڑکی کو ایک پولیس افسر نے مبینہ طور پر ریپ کیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C