بلوچستان: ژوب فوجی چھاونی پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 فوجی اہلکار ہلاک، 15 زخمی
👁️ 53 بار دیکھا گیا
بلوچستان: ژوب فوجی چھاونی پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 فوجی اہلکار ہلاک، 15 زخمی
کوئٹہ (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) صوبہ بلوچستان کے پشتون قبائلی علاقے ژوب میں فوجی چھاونی پر پاکستانی طالبان کے ایک حملے میں 9 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں مقامی شہری بھی شامل ہیں۔
حملے کی ذمہ داری حال ہی میں منظر عام پر آنے والی شدت پسند تنظیم تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے۔ ٹی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں تنظیم کے خودکش حملہ آوروں نے حصہ لیا ہے اور پاکستانی فوجی چھاونی کا ایک حصہ بدستور ان کے قبضے میں ہے۔
پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ ژوب چھاونی پر ہونے والے حملے میں ملوث تین حملہ آور اب تک ہلاک کیے گئے ہیں اور دیگر روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، ’’فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں نے آج علی الصبح حملہ کیا اور وہ چھپ کر چھاؤنی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا گیا ہے۔‘‘
خودکش حملہ آوروں کا ہدف کیا تھا؟
کوئٹہ میں تعینات ایک سینیئر انٹیلی جنس اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور فوجی چھاونی کے مرکزی حصے اور موجود تنصیبات تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’ژوب میں فوجی چھاونی پر حملے میں ملوث عسکریت پسند میس کی طرف سے داخل ہوئے۔ حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ یہ ایک غیر متوقع حملہ تھا اور ملزمان چھاؤنی کے مرکزی اور سب سے حساس حصے تک پہنچ کر اسے تباہ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔‘‘
انٹیلی جنس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی لاشیں سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔ ان کے بقول، ’’ہلاک عسکریت پسندوں کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ہلاک شدگان غیرمقامی ہیں۔‘‘
حملے کے حوالے سے عینی شاہدین کا مؤقف
ایک عینی شاہد، لال محمد کہتے ہیں کہ حملے کے دوران شدید فائرنگ کی زد میں آکر مقامی شہر ی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ علاقہ بہت حساس ہے۔ یہاں جب اچانک فائرنگ شروع ہوئی تو علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ کے دوران یہاں سے گزرنے والی ایک بس اور دو دیگر گاڑیوں میں بھی گولیاں لگیں جس کے باعث ایک خاتون سمیت متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے۔‘‘
ژوب چھاونی سے متصل دیہات میں مقیم سید جلال کہتے ہیں مقامی انتظامیہ اگر لوگوں کو بروقت مطلع نہ کرتی تو حملے کے دوران دوطرفہ فائرنگ سے بڑے پیمانے پر مقامی لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہوسکتی تھیں۔
ڈی ڈبلیو کو حملے کاانکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’فائرنگ اتنی شدید تھی کہ کئی لوگوں کے گھروں کے باہر بھی گولیاں لگیں۔ ہمیں انتظامیہ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ فائرنگ چھاؤنی کے حدود میں ہو رہی ہے اس لیے احتیاطی تدابیر کے تحت ہمیں گھروں سے باہر نکلنے کی فی الوقت اجازت نہیں۔‘‘
بلوچستان کے پشتون قبائلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی شورش
سکیورٹی امور کے تجزیہ کار، میجر (ر) عمر فاروق کہتے ہیں کہ بلوچستان کے بلوچ علاقوں کے بعد پشتون اکثریتی علاقوں میں بڑھتی ہوئی حالیہ شورش خطے کو غیرمستحکم کرنے کی ایک بڑی سازش ہے: ’’بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں اس وقت ایک منظم پلان کے تحت بدامنی پھیلائی جار ہی ہے۔ شدت پسند اور ملک دشمن عناصر مختلف ناموں سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ اس خدشے کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو حالات مزید گھمبیر شکل اختیار کر سکتے ہیں۔‘‘
عمر فاروق کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہےکہ حکومت قیام امن کے لیے سب سے پہلے مقامی قبائل کو اعتماد میں لے: ’’اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہاں بدامنی غیرملکی سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہے لیکن حکومت کو جو بھی اقدامات کرنے ہیں وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر سود مند ثابت نہیں ہوسکتے۔ پاک افغان سرحدی علاقے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اکثر اوقات شدت پسند مقامی قبائلی کے کور میں روپوش ہوتے ہیں۔ قبائل کے تعاون سے شدت پسندوں کے عزائم ناکام بنائے جا سکتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ژوب چھاؤنی پر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری جس نئی تنظیم تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے وہ اس سے قبل، قلعہ سیف اللہ اور ضلع سبی میں ہونے والے دو دیگر بڑے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرچکی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی سکیورٹی الرٹ جاری
20/September/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
شام میں سابق اسد دور کے ریپبلکن گارڈ کے اعلیٰ افسر گرفتار
20/September/2026 👁️ 58 بار دیکھا گیا
بحیرہ کیریبین میں امریکی کارروائی، کشتی میں سوار 4 افراد ہلاک
20/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان ہر حد تک جائے گا، افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنا طالبان کی ذمہ داری : ڈی جی آئی ایس پی آر
20/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
قلات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک، 23 مغوی بازیاب
20/September/2026 👁️ 61 بار دیکھا گیا
یمن : تعز، لحج اور مارب کے محاذوں پر شدید لڑائی، بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور نقصانات کی اطلاعات
19/September/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26319 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15563 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11847 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9159 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7443 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5214 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C