12/January/2020

بنوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کا بڑا جلسہ

👁️ 53 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کا بڑا جلسہ

بنوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کا بڑا جلسہ

بنوں (ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی و پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے مرکزی رہنما محسن داوڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم ہی کی وجہ سے آج پشتونوں کو حکومتی اداروں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اوراُن کے مسائل عالمی سطح پر اجاگر ہورہے ہیں جس کا ثبوت راؤ انوار پر عالمی پابندیاں ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کو بنوں میں پی ٹی ایم کے جلسے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ تنظیم نے اس طرح کا اجتماع کوئی سات ماہ کے وقفے کے بعد کیا۔ منظور پشتین نے جلسے سے اپنے خطاب میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا یہ خیال تھا کہ اب پی ٹی ایم بڑا جلسہ کرنے کے قابل نہیں رہی لیکن اس جلسے نے انہیں غلط ثابت کر دکھايا۔

انہوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگ مایوس نہیں ہوں گے ۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کہا کہ وہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر پشتونوں کے حقوق کی بات کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کسی کام نام لئے بغیر کہا کہ ’پی ٹی ایم کو اگر کوئی گالی بھی دے، جو مرضی الزام لگائے لیکن ہم پھر بھی ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پشتونوں کے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ میرے ساتھ وعدہ کریں کہ ہم سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے پاس جرگہ لے کر جائیں گے تاکہ ہم مل کر پشتونوں کے حقوق کی بات کر سکیں چاہے وہ اسفندیار ولی خان ہوں، محمود خان اچکزئی ہوں، مولانا فضل الرحمن ہوں یا آفتاب شیرپاؤ، ہم ان کے پاس جائیں گے۔

دیگر سیاسی پارٹیوں پر تنقید اور ان کے سربراہان کے خلاف باتیں کرنے کے حوالے سے منظور پشتین کا کہنا تھا کہ اس مجمعے میں اگر کوئی کسی بھی سیاسی لیڈر کے خلاف کچھ بھی کہتا ہے تو وہ اس کا ذاتی فعل ہوگا اوروہ پی ٹی ایم کا موقف بالکل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ ہیں چاہے اس کا تعلق کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے ہو۔ ہم اس کے لئے آواز اٹھائیں گے اور اس کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

اپنے خطاب کے آخر میں انھوں نے پی ٹی ایم کے یوم تاسیس کے سلسلے میں دو فروری کو کوئٹہ میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جلسوں کا یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے اور اس کے بعد مردان، چارسدہ سمیت دیگر مختلف اضلاع میں جلسے منعقد کریں گے۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کا وقت ختم ہو چکا ہے لیکن اس جلسے نے ان کے دعوے کو غلط ثابت کیا۔ علی وزیر نے جلسے سے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کے نمائندے اسمبلی میں عوامی جذبات کی ترجمانی نہیں کرتے۔

پی ٹی ایم کی رہنما ثناء اعجاز نے کہا، ”قبائلی علاقوں میں ملٹری آپریشن ہوئے اور کہا گیا کہ یہ علاقے دہشت گردوں سے پاک ہو گئے ہیں لیکن کچھ عرصے سے ان علاقے کے لوگ نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔ ہم اس جلسے کے ذریعے حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب پشتون خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘

پی ٹی ایم کی جانب سے سات ماہ کے بعد ضلع بنوں میں جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں تنظیم کے سربراہ منظور پشتین سمیت ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ، علی وزیر اور صوبائی اسمبلی کے رکن میر کلام وزیر کے بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ پی ٹی ایم نے ماضی میں ریاستی اداروں پر مختلف الزامات لگائے ہیں جن میں لاپتہ افراد کا معاملہ سر فہرست ہے۔ پی ٹی ایم کا موقف رہا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے ریاستی اداروں کی جانب سے لوگوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے اور کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔

تاہم پی ٹی ایم کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کی تردید پاکستان کے ریاستی اداروں اور حکومتی وزرا نے مختلف مواقعوں پر کی ہے۔

جلسے میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ سٹیج پر بھی پشتون لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب تصاویر اور پلے کارڈز لیے بیٹھے رہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C