20/December/2019

بھارت: متنازع شہریت قانون کیخلاف پُرتشدد مظاہرے جاری، تشدد اور فائرنگ سے 17 افراد ہلاک

👁️ 49 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت: متنازع شہریت قانون کیخلاف پُرتشدد مظاہرے جاری، تشدد اور فائرنگ سے 17 افراد ہلاک

بھارت: متنازع شہریت قانون کیخلاف پُرتشدد مظاہرے جاری، تشدد اور فائرنگ سے 17 افراد ہلاک

نئی دہلی (ڈیلی اردو) بھارت میں امتیازی قانون شہریت کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا جہاں مشتعل مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

اس مسلم کش قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج پر 1200 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اتر پردیش میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ دہلی میں 12 پولیس اسٹیشنوں کے علاقوں کو ممنوعہ علاقہ قراردے دیا گیا ہے۔ جبکہ مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

ادھر بھارتی حکام نے آج ملک کے شمالی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کو بند کردیا ہے اورجنوبی منگلور شہر میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کرگیا، مختلف شہروں میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 ہوگئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست آسام میں 5، ریاست کرناٹکا میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے، منگلورو میں بھی 3 افراد مارے گئے تھے جبکہ جھڑپوں میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 4 افراد کی لاشیں میرٹھ کے ہسپتال لے جانے کی تصدیق ہوئی ہے، 2 شہری ضلع مظفر نگر میں زندگی کی بازی ہار گئے۔

کرناٹکا، اُتر پردیش، بنگلورو اور بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی پابندیاں شہریوں کو احتجاج سے نہ روک سکیں، دہلی کے لال قلعہ، حیدر آباد اور تلنگانہ سے مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا جب کہ معروف بھارتی مورخ اور دانشور رام چندر بھی احتجاج کے دوران گرفتار ہو گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرٹانکا کے شہر منگلور میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی لیکن اس کے باوجود مظاہرین کا احتجاج جاری رہا تو پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 4 افراد زخمی ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق منگلور میں کرفیو نافذ جب کہ انٹرنیٹ سروس معطل ہے، آسام میں 21 دسمبر سے بند انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر لکھنئو سمیت اُتر پردیش کے متعدد شہروں میں بھی انٹرنیٹ اور میسجز سروس بند ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی میں احتجاج مارچ کے پیشِ نظر انتظامیہ نے 2 میٹرو اسٹیشنز بھی بند کردیئے ہیں۔

اسی ضمن میں وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے متنازع ایکٹ پرریفرنڈم کرانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

شہریت کے متنازع قانون کے خلاف لالوپرساد کی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل نے کل بہار میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی بھی شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بول پڑیں، سوشل میڈیا پیغام میں اداکارہ نے حکومت کو مظاہرین کو روکنے کے بجائے ان کی بات سننے کا مشورہ دے دیا۔

دوسری جانب اداکار فرحان اختر بھی مظاہرین کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور اس دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کرنا کافی نہیں ہے، شہری سڑکوں پر نکلیں اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔

متنازع شہریت قانون کیا ہے؟

متنازع شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کروایا گیا تھا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دیدی تھی۔

بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان زیریں (لوک سبھا) میں 12 گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔

ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھی اس متنازع بل کو کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔

متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C