16/January/2020

جمہوریت اور ہمارے سیاست دان…! (میر افضل خان طوری)

👁️ 100 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جمہوریت اور ہمارے سیاست دان…! (میر افضل خان طوری)

جمہوریت اور ہمارے سیاست دان…! (میر افضل خان طوری)

ہمارے سیاست دان جب تخت اسلام آباد پہ براجمان ہوجاتے ہیں تو وہ پانچ سال کیلئے اپنے ضمیر کو گہری نیند سلا دیتے ہیں۔ وہ اپنے احساس کو مفاد پرستی، لالچ، عیش و نشاط اور ہوا و ہوس کے قبرستان میں دفن کر دیتے ہیں۔ اس وقت ان کو نا تو جمہوریت کی فکر لاحق ہوتی ہے اور نہ ہی مظلوم مفلس عوام کی۔ دروران اقتدار انکو نا تو ظلم نظر آ رہا ہوتا ہے اور نہ ہی زیادتی۔ اس وقت وہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے سے بے نیاز ہو کر اقتدار مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ ان کو عوام کا دکھ درد اور تکلیف صرف اپوزیشن میں نظر آجاتا ہے۔ انکا سویا ہوا ضمیر صرف اپوزیشن میں جاگ جاتا ہے۔ پھر ان کو اپنے ملک میں بھوک بھی نظر آرہی ہوتی ہے اور افلاس بھی۔ ان کو شرم بھی آ رہی ہوتی ہے اور حیا بھی۔ مگر جب تک ایوان اقتدار میں رہتے ہیں انکی آنکھیں بصارت سے قاصر رہتی ہیں۔ جونہی اقدار سے الگ ہوجاتے ہیں تو ان کی قوت بصارت واپس آجاتی ہے اور وہ پورا سچ اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر وہ ملک کے اداروں اور جرنیلوں پر الزامات کی بارش کردیتے ہیں۔ وہ عوام کو یہ دکھا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا تو کوئی قصور ہی نہیں یہ سب کچھ کو فوج اور اداروں کا کیا دھرا ہے۔

یہ وہ بے ضمیر مخلوق ہے کہ دروران اقتدار جرنیلوں اور اداروں کے ساتھ مل کر ملک اور عوام کا ستیاناس کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ مل کر ملک کو دونوں ہاتھوں سے کھا رہے ہوتے ہیں مگر اقتدار سے الگ ہونے کے بعد صرف فوج اور آئی ایس آئی کو گالیاں بکنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان اس ملک کو برباد کرنے میں سب سے بڑے زمہ دار ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ صرف اپنے اقتدار اور مفاد پرستی کو عزیز رکھا۔ انھوں نے کبھی بھی صوبوں اور عوام کے مفادات کو مدنظر نہیں رکھا۔ انھوں نے ہمیشہ جرنیلوں کے ہاں میں ہاں ملایا اور ڈالر بٹورتے رہے۔ انھوں نے کبھی بھی دوران اقتدار انکے غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کی کھل کر مخالفت نہیں کی۔ ہمیشہ کسی نہ کسی ڈیکٹیٹر کے حکومت کا حصہ بنے رہے۔ انکے تمام ناجائز ، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو جسٹفائی کرتے رہے۔ ان کیلئے قسمیں کھاتے رہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ دوران اقتدار جمہوریت کا خون کرتے رہے ہوتے ہیں مگر جونہی اقتدار سے الگ ہوجاتے ہیں تو ان کو جمہوریت یاد آجاتی ہے۔

کوئی کہتا ہے کہ “جمہوریت بہترین انتقام ہے” ، کوئی نعرہ لگاتا ہے کہ “ووٹ کو عزت دو” اور ہم جیسے سادہ لوح انسانوں کو جمہوریت کے نام پر دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت کا گلہ دبانے میں سب سے بڑا کردار ان بے ضمیر سیاستدانوں کا ہی ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر میاں محمد نواز شریف تک سب کے سب غیر جمہوری قوتوں کی پیداوار ہیں۔ انھوں نے اپنے اقتدار کیلئے اس ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔ آج ہمارے پاسپورٹ کی گرتی ہوتی عزت ان ہی کی مرہون منت ہے۔ آج ہمارا ملک بنگلہ دیش بھی بھی پیھچے رہ چکا ہے۔ آج بھی ہماری آدھی آبادی تعلیم سے محروم ہے۔ آج بھی پاکستانی عوام کی اکثریت غربت کے لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آج بھی اس ملک میں ملاوٹ اور کرپشن عام ہے۔ چور اور لٹیرے دن دھاڑے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔

ہماری میڈیا ملک کے بنیادی عوامی مسائل کے بجائے میاں محمد نواز شریف کی آنے ، جانے اور کھانا کھانے پر مباحثوں میں لگی ہوئی ہے۔ مجھے اس وقت سخت افسوس ہوتا ہے جب ہمارے ملک کے چینلز کے بڑے بڑے انکرز انتہائی بے کار اور غیر ضروری مسائل کو ڈسکس کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری میڈیا اور سیاست دان نوجوان نسل کو صرف ایک دوسرے کی برائی کرنا سکھا رہے ہیں ۔ ہمارے ٹی چینلز سے ہمارے بچے کیا سیکھیں گے؟ حق بات کرنے سے تو ان کے پر جل جاتے ہیں۔ سارا دن جہل کے سومنات پر درشن دینا ان کے روز معمول بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل بد بختی کے گرداب میں ڈوبتی جا رہی ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C