02/February/2025

حزب اللہ کا حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تدفین 23 فروری کو کرنے کا اعلان

👁️ 91 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حزب اللہ کا حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تدفین 23 فروری کو کرنے کا اعلان

حزب اللہ کا حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تدفین 23 فروری کو کرنے کا اعلان

بیروت (ڈیلی اردو/اے ایف پی/رائٹرز) ایران کی حمایت یافتہ لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے گزشتہ سال اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے سربراہان سید حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کے جنازے اور تدفین کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے موجودہ سربراہ نعیم قاسم نے اعلان کیا کہ تنظیم کے رہنما حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کا جنازہ اور تدفین بروز اتوار 23 فروری کو کی جائے گی۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری شدید جنگ کے دوران سیکیورٹی حالات کے باعث گزشتہ 2 ماہ کے دوران تدفین نہیں کی جاسکی، وہ صورتحال اب ختم ہوگئی ہے اس لیے حزب اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ 23 فروری کو حسن نصر اللہ کی تدفین کے سلسلے میں بڑا عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھاکہ حسن نصر اللہ کی تدفین بیروت میں ہی ہوگی جبکہ ہاشم صفی الدین کی تدفین ان کے آبائی علاقے دیر قانون النھر میں ہوگی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ ’حسن نصر اللہ 27 ستمبر کو ایک اسرائیلی حملے میں اس وقت مارے گئے جب حالات مشکل تھے، یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ کو ان کی مذہبی روایات کے مطابق عارضی طور پر تدفین کرنا پڑی تھی۔‘

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائربندی کا معاہدہ گذشتہ سال نومبر میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گذشتہ برسوں میں ہونے والی مہلک ترین جھڑپ کا خاتمہ ہوا۔

یاد رہے کہ حزب اللہ نے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کے ٹھیک 2 ماہ بعد 27 نومبر کو عوامی سطح پر نماز جنازہ کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا جب کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان ہوگیا تھا۔

حسن نصراللہ کو اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے 27 ستمبر کو ان کے ہیڈکواٹر میں دیگر رہنماؤں سمیت ہلاک کر دیا تھا، ان کی عوامی سطح پر نماز جنازہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے التوا میں چلی آرہی تھی۔

حزب اللہ نے اسرائیلی حملے میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کی 28 ستمبر کو تصدیق کی تھی جب کہ اس سے ایک روز قبل یعنی 27 ستمبر کو اسرائیل نے بیروت حملوں میں ان کے علاوہ دیگر سینئر رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس وقت کی غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینت نصراللہ نے بھی ماری گئیں جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے کئی اہم کمانڈر بھی اس حملے میں مارے گئے تھے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیروت پر اسرائیلی فوج نے 5،5 ہزار پاؤنڈ کے بم برسائے، ایف 35 لڑاکا طیاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا، 7 گھنٹے تک وقفے وقفے سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ مہینوں میں جنوبی لبنان میں اس کے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے کئی سرکردہ رہنما مارے گئے ہیں، جس سے گروپ کی کاروائیوں میں خلل پڑا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C