حماس کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کا اعلان نہیں کیا، افغان طالبان کی تردید
👁️ 41 بار دیکھا گیا
حماس کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کا اعلان نہیں کیا، افغان طالبان کی تردید
کابل (ڈیلی اردو/وی او اے) افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی میں حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طالبان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کی جانے والی اس تحریر کی تردید میں بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق افغان طالبان اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جھڑپوں میں حصہ لینے کے لیے وہاں جانا چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اس پوسٹ نے طالبان کو مشکل سے دو چار کردیا ہے کیوں کہ اس کی تردید کرکے انہوں نے حماس کی عملی حمایت سے دوری اختیار کی ہے جو ان کے اپنے حامی علاقوں میں برہمی کا باعث بن سکتی ہے۔
ایک نقشے کے ساتھ تحریر اتوار کو سوشل میڈیا پر ’طالبان پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ‘ نامی اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں ایکس پر اس اکاؤنٹ کا نام ’فری فلسطین‘ کر دیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ پوسٹ 25 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی گئی اور بعض خبر رساں اداروں نے اس میں دی گئی معلومات کو رپورٹ بھی کیا۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی آفس کے سربراہ سہیل شاہین نے صحافیوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں اس خبر کو غلط قرار دیا۔
انہوں نے طالبان کا حماس کے جنگجوؤں کا ساتھ دینے کے لیے جانے سے متعلق اس خبر کو غلط، افواہ اور غیر مصدقہ قرار دیا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے پر طالبان وزارتِ خارجہ اپنا بیان جاری کر چکی ہے اور وہی ہمارا مؤقف ہے۔
طالبان وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ غزہ کے حالیہ واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ امارتِ اسلامیہ افغانستان فسلطینی لوگوں کی آزادی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات یا مزاحمت کو ان کا حق سمجھتی ہے۔
ہفتے کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل اور فلسطینی عسکری گروپ کے درمیان تصادم کا آغاز ہوا تھا جس کے بعد سے یہ جھڑپیں چوتھے روز بھی جاری ہیں۔
واضح رہے کہ حماس ان گروپس میں شامل تھی جس نے طالبان کو دوبارہ برسرِ اقتدار آنے پر مبارک باد پیش کی تھی۔
ماضی میں حماس اور طالبان کے رہنماؤں میں کئی مرتبہ ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔
طالبان کے لیے مشکل پوزیشن
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم ’انسٹیٹیوٹ آف کرنٹ ورلڈ افیئرز‘ کے پروگرام ڈائریکٹر ہاشم وحدت نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی عملی حمایت سے متعلق پوسٹ کی تردید کرکے طالبان ایک مشکل پوزیشن میں آگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان حماس کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں اور مستقبل میں اسے سیاسی یا عسکری مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ ایسے کسی اقدام کی تشہیر نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان دوحہ معاہدے کے تحت پابند ہیں کہ اپنی سرزمین سے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے کسی بھی خطرے کی روک تھام کریں گے۔ اسرائیل امریکہ کا اتحادی ہے اس لیے طالبان کبھی حماس کے لیے اپنی حمایت کی تشہیر نہیں کریں گے۔
یونیورسٹی آف نبراسکا کے ’سینٹر فار افغانستان اسٹڈیز‘ کے ڈائریکٹر شیر جان احمد زئی کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں طالبان کی شرکت دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ طالبان مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے کسی تنازع میں براہِ راست شریک ہوئے ہوں۔
احمد زئی کا کہنا تھا کہ طالبان باقاعدہ طور پر اس تنازعے میں شریک نہیں ہوئے۔ لیکن ان کی صفوں میں ایسے جنگجو ہو سکتے ہیں جو عالمی جہاد کے تصور پر یقین رکھتے ہوں اور فلسطینیوں اور اسرائیل کے تنازع میں شرکت کو مذہبی فریضہ خیال کرتے ہوں۔
بیانات کی حد تک حمایت
افغان سیاسی تجزیہ کار واحد فقیری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان قیادت خود کو کسی بھی غیر ملکی تنازعے سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کے مطابق طالبان کو اندازہ ہے کہ اگر انہوں ایسا کرنے کی کوشش کی تو انہیں امریکہ کی جانب سے مزید معاشی پابندیوں اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کو اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے کیوں کہ اس کی دو تہائی آبادی کو بنیادی ضروریات کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔
کیلی فورنیا کے نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول کے نیشنل سیکیورٹی افیئرز ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ محقق پروفیسر تھامس جانسن کا کہنا ہے کہ طالبان کی پوزیشن انتہائی اسرائیل مخالف رہی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کے پاس ایسے وسائل ہیں کہ وہ سوائے بیانات کے حماس کی براہِ راست کسی قسم کی مدد کے قابل ہوں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 124 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 210 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 119 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 130 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4602 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2467 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C