19/November/2022

خیبر پختونخوا پولیس پر امریکی، نیٹو کے ہتھیاروں سے حملوں کی تحقیقات

👁️ 34 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا پولیس پر امریکی، نیٹو کے ہتھیاروں سے حملوں کی تحقیقات

خیبر پختونخوا پولیس پر امریکی، نیٹو کے ہتھیاروں سے حملوں کی تحقیقات

پشاور (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) رواں سال کے پہلے دس ماہ میں مختلف دہشت گردانہ حملوں میں ایک سو چھ سے زائد پولیس اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی پولیس جدید اسلحے سےخود پرکیے گئے حملوں کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گرد ی کی حالیہ کاروائیوں اور پولیس پر امریکی اور نیٹو فورسز کے جدید اسلحے کے ساتھ حملوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ صوبائی پولیس کی ایک خصوصی ٹیم اس بات کی تحقیقات کررہی ہےکہ یہ جدید اسلحہ ہمسایہ ملک افغانستان سے خیبر پختونخوا کیسے پہنچا۔ ان تحقیقات کا فیصلہ افغان سرحد کے قریب واقع پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ پولیس کی چوکیوں اور سرکاری تنصیبات کو رات کے اندھیرے میں نشانہ بنائے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد کیا گیا۔

اس ضمن میں تفتیشی ٹیم غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے زیر حراست افغان باشندوں اور سرحد پر پاکستانی علاقے میں تعینات مختلف سرکاری اداروں کے اہلکاروں سے بھی سے پوچھ گچھ کرے گی۔ خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ معظم جاہ انصاری نے پولیس کے خلاف حملوں میں تھرمل گن سمیت دیگر جدید ترین غیرملکی اسلحے کے استعمال کیے جانےکی تصدیق کرتے ہوئے کہا ،” افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیون کا چھوڑا ہوا اسلحہ خیبر پختونخوا میں استعمال ہورہا ہے۔ دہشت گرد پولیس کو اس لئے ٹارگٹ کررہے ہیں کہ تاکہ عوام کے دلوں میں خوف پیدا کرکے انہیں یہ تاثر دے سکیں کہ انکے تحفظ کرنے والے خود بھی محفوظ نہیں۔‘‘

صوبائی پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد رہا ہونے والے بعض دہشت گرد اب کے پی میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ تاہم معظم جاہ کے بقول ، ” ان دہشت گردوں کے خلاف کے پی پولیس نےکئی کامیاب آپریشن کیے ہیں۔ جنگ کے دوران نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ،جس کے لیے ہم تیار ہیں لیکن عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھائیں گے۔‘‘

ہتھیار برائے فروخت

افغانستان سے گزشتہ برس واپس لوٹنے والی امریکی اور نیٹو افواج کے کافی زیادہ ہتھیار افغان طالبان کے ہاتھ لگے تھے۔ اس بارے میں عالمی زرائع ابلاغ میں متعدد رپورٹس بھی شائع اور نشر کی جا چکی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند ماہ میں کے پی میں دہشت گردانہ کاروائیوں خاص طور پر پولیس کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافے کے بعد پاکستان میں سلامتی امور کے ماہرین نے متنبہ کیا تھاکہ اب یہی ہتھیار افغانستان سے اسمگل ہو کر آنے کے بعد پاکستانی پولیس کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اکتوبر کے مہینے تک مختلف دہشت گردانہ حملوں میں ایک سو چھ سے زائد پولیس اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ اس صورتحال کے حوالے سے جب ڈی ڈبلیو نے تجزیہ نگار اور قبائلی امور کے ماہر صفدر حیات داوڑ سے بات کی تو انکا کہنا تھا، ” افغانستان کی سابق حکومت کے زیر انتظام افغان نیشنل ارمی کو امریکہ اور اتحادیوں نے سالوں تک تربیت کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ بھی مہیا کیا تھا، لیکن پھر جب طالبان اقتدار میں آئے تو افغان آرمی کا اسلحہ بھی اس گروپ کے قبضے میں آگیا۔‘‘

صفدر داوڑ کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل آرمی سے وابستہ بعض اہلکاروں نے اپنی جانیں بچانے کی خاطر اپنے پاس موجود جدید اسلحہ طالبان کے حوالے کر دیا،”پاکستان اور افغانستان کے غیر روایتی راستوں کے زریعے اس اسلحے کی ایک بڑی کھیپ پاکستان بھی پہنچائی گئی جبکہ کچھ عرصہ قبل یہ جدید اسلحہ کھلے عام فروخت کے لیے بازار میں دستیاب تھا، جس میں سنائپر گن ، لیزر گن ، راکٹ لانچر اور دیگر جدید ہتھیار شامل تھے۔ ‘‘

پولیس کے پاس جدید سازوسامان کی کمی

انتہائی جدید اسلحے سے لیس دہشتگردں کے مقابلے میں کے پی پولیس کے پاس عملے، تربیت اور جدید اسلحے اور دیگر وسائل کی کمی ہے۔ اس صورتحال میں پولیس کو شہریوں اور اپنے دفاع میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دہشتگرد اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت والے نائٹ ویژن گاگلز کا استعمال کر کے لیزر گن کی مدد سے کافی فاصلے سے بیٹھ کر پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

افغان سرحد کے ساتھ متصل پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے قبل یہاں کا انتظام وفاقی حکومت کے پاس تھا اور امن و امان کی ذمہ داری نیم فوجی فورسز (فرنٹئیر کانسٹبلری اور فرنٹئیر کور) کے حوالے تھی۔ تاہم صوبائی پولیس کادائرہ کار ان علاقوں تک بڑھانے کے بعد ان کے لیے یہاں عارضی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، جو پولیس اہلکاروں کے تحفظ کیلئے کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کے پاس جدید اسلحے کا بھی فقدان ہے۔

تجزیہ نگار صفدر داوڑ کا کہنا ہے، ” پختونخوا پولیس کے پاس دہشت گردوں کی طرف سے جدید اسلحے کے ساتھ کیے جانے والے حملوں کا فی الحال کوئی توڑ نہیں ہے”

اسلحے کی اسمگلنگ کا روٹ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کے نام سے تقریباﹰ چوبیس سو کلو میٹر طویل سرحد قائم ہے۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے اس سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پاکستانی حکام اس باڑ کو سر حد پار سے لاحق سلامتی کے خطرات سے مقابلہ کرنے کی اپنی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتےہیں۔ تاہم افغان طالبان اس باڑ کی تنصیب کے خلاف ہیں اور حالیہ مہینوں میں سرحدی تنازعے پرافغان طالبان اور پاکستانی فوج کے درمیان خونریز جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

تاہم اس کے باوجود سرحد کے آرپار انسانوں اور دیگر سازوسامان کی غیر قانونی آمد ورفت کے بہت سے خفیہ روٹ موجود ہیں۔ انہی دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے زریعے ہی اسلحہ بھی اسمگل کر کے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں سے اسے صوبے اور ملک کے دیگر شہروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ تاہم سیکورٹی اداروں کی جانب سے اس معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد اب یہ اسمگلنگ شدہ اسلحہ کھلے عام تو فروخت نہیں کیا جا رہا تاہم اب اسے چند مخصوص مارکیٹوں اور بعض اسلحہ ڈیلرز خریدا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C