31/May/2025

دو ماہ میں طالبان نے 204 افراد کو عوام کے سامنے کوڑے مارے ،انسانی حقوق کی تنظیوں کا اظہار تشویش

👁️ 132 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دو ماہ میں طالبان نے 204 افراد کو عوام کے سامنے کوڑے مارے  ،انسانی حقوق کی تنظیوں کا اظہار تشویش

دو ماہ میں طالبان نے 204 افراد کو عوام کے سامنے کوڑے مارے ،انسانی حقوق کی تنظیوں کا اظہار تشویش

کابل (ڈیلی اردو ) افغانستان میں طالبان نے گزشتہ دو مہینوں کے دوران مجموعی طور پر 204 افراد کو عوامی مقامات پر کوڑے مارنے کی سزائیں دیں۔ یہ کارروائیاں مختلف الزامات پر کی گئیں جن میں غیر شرعی تعلقات، ہم جنس پرستی، چوری، خواتین سے رابطہ، اور منشیات سے وابستگی شامل ہیں۔

یہ سزائیں 23 مختلف صوبوں میں نافذ کی گئیں اور متاثرہ افراد میں 174 مرد اور 30 خواتین شامل تھیں۔ انسانی حقوق کے اداروں نے اس طرز عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ سزائیں بغیر عدالتی شفافیت، وکیل کی عدم موجودگی اور ملزم کے دفاع کے بغیر سنائی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، طالبان کی جانب سے کابل، ننگرہار، بلخ، غزنی، خوست، فاریاب اور دیگر صوبوں میں شہریوں کو بغیر کسی منصفانہ سماعت کے سزائیں دی گئی ہیں۔ تنظیمیں خبردار کر چکی ہیں کہ ان کارروائیوں سے معاشرے میں خوف، بےچینی اور سیاسی جبر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کئی افغان شہری اور سماجی کارکنوں نے بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ طالبان کو کھلی چھوٹ دینے کے نتیجے میں یہ گروہ مزید جری ہوتا جا رہا ہے۔

طالبان کے رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی تنقید کو اہمیت نہیں دیتے اور اپنی مذہبی تشریحات پر کاربند رہیں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ان کی باتوں کو اب محض فتوے نہیں بلکہ لازمی احکامات کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق طالبان نے کئی افراد کو ایسی سخت سزائیں بھی دی ہیں جو ممکنہ طور پر بےگناہ تھے۔ انہوں نے خواتین کی آزادیوں کو بھی شدید پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے رچرڈ بینٹ نے طالبان کی صحرائی عدالتی کارروائیوں کو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کی “امر بالمعروف” پالیسی خواتین کی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ لباس، نقل و حرکت، میل جول اور ذاتی خودمختاری پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو صنفی امتیاز کی ایک منظم شکل ہے۔

یوناما اور ہیومن رائٹس واچ سمیت عالمی تنظیموں نے ان سزاؤں کو غیر انسانی، ظالمانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C