16/December/2019

روح اور انسانی حیات…! قسط نمبر 8 (میر افضل خان طوری)

👁️ 148 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روح اور انسانی حیات…! قسط نمبر 8 (میر افضل خان طوری)

روح اور انسانی حیات…! قسط نمبر 8 (میر افضل خان طوری)

عالم انسانیت پر یہ حقیقت مکمل طور پر عیاں ہے کہ زندگی ایک سفر ہے۔ یہ سفر آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہی ہے اور موت ایک حقیقت ابدی ہے جس سے انکار ناممکن ہے۔ اس دنیا میں انسان کی اپنی ملکیت کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس کا اپنا جسم بھی اس کی ملکیت نہیں ہے۔ یعنی انسان اس دنیا میں کسی بھی چیز کا حقیقی مالک نہیں ہے۔ اس کو یہ سمجھ جانا چاہئے کہ اس کو کسی عالم الغیب نے یہ وجود بخشی ہے۔ وہی اس کا اور ساری کائنات اصل مالک حقیقی ہے۔ مگر پھر بھی انسان ساری زندگی “میں” “میں” اور “میرا” “میرا” کرتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد حیات سے غافل رہا ہے۔ وہ اپنے ہر ایک دن اور لمحےکی قدر و قیمت سے ناواقف ہے۔

کسی سکالر نے کیا خوب فرمایا ہے کہ “اپنی زندگی کے ہر دن کو آخری سمجھو، ایک دن یہ سچ ہو جائے گا”۔ بہت سے رموز کو انسان سے مخفی رکھا گیا ہے۔ انسان ان کی معرفت حاصل کرنے کیلئے ساری زندگی سرگرداں رہتا ہے۔ یہی وہ راز حیات ہے جس کی معرفت حاصل کرنا انسان کی سرشت میں رکھا گیا ہے۔

زندگی کیا ہے۔ کب سے ہے؟ کب تک رہے گی؟ دنیا میں انسان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات انسان اپنی زندگی میں تلاش کرنے کوشش کرتا ہے۔

حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ” انسان کی دو پیدائشیں ہیں۔ ایک وہ جس دن انسان پیدا ہوتا ہے، دوسری وہ جس دن انسان کو زندگی کا مقصد سمجھ میں آجاتا ہے”۔

اب کونسا انسان اس راز حیات کو پا سکتا ہے؟ یہ حقیقت کس انسان پر منکشف ہوسکتی ہے؟ یہ حقیقت کب منکشف ہوسکتی ہے؟ ہم ان سوالات کے جوابات تب ڈھونڈ سکتے ہیں جب ہمیں اپنے نفس کی معرفت حاصل ہو جائے گی۔ حدیث بنوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ “جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا”
ہم نے قرآن مجید کی رو سے اب تک نفس کے دو رجات پر بحث کی ہے۔ نفس امار اور نفس لوامہ۔ نفس امارہ روح کے اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جب انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں رہتا۔ یعنی اس کو برا کام کرنے پر کوئی ندامت کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی عمل کر رہا ہے وہ سب ٹھیک اور درست ہے۔
دوسری حالت نفس لوامہ کی ہے۔ اس حالت پر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں قسم کھائی ہے۔ یہ نفس انسانی کی وہ کیفیت ہے کہ انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز کرنا آجاتا ہے۔ ہر اچھے عمل پر اس کو اطمنان حاصل ہوتا ہے اور ہر برے عمل پر اس کو شدید ندامت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ یہ ندامت کا احساس انسان کو بلندی کی طرف لیجانے کا اہم ذریعہ ہے۔ یعنی یہیں سے تزکیہ نفس کی ابتداء ہوتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ندامت اور شرمندگی کا احساس انسان کو برے عمل کو ترک کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس طرح وہ اس برائی کو چھوڑنے پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ روح کا تعلق جب مادی جسم کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے تو روح کی اس کیفیت یا حالت کو نفس کہا جاتا ہے۔ اب گناہ کے ترک کرنے اور گناہ پر ندامت کے احساس سے انسانی روح کو تقویت ملتی ہے۔ قلب کو سکون ملتا ہے۔ انسان کا جسمانی وجود بھی تر و تازہ رہتا ہے۔

آیت اللہ دستیغیب رحمہ اللہ علیہ اپنی کتاب نفس مطمعنہ میں “نفس لوامہ” کو یوں بیان فرماتا ہے کہ” نفس لوامہ وہ ہے جو اپنی انانیت اور خود سری سے باز رکھتا ہے۔ اپنی عیوب پر نظر رکھتا اور اس کی تنبیہ اور سرزنش کرتا ہے”۔

یہ وہ کیفیت ہے کہ انسان اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے اور اپنے آپ کو برائیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کرتا ہے۔ نفس لوامہ کی کیفیت کا تعلق انسان کی پرورش اور ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ مشہو ناول نگار ( Jean Jacques Rousseau ) روسو کہتا ہے کہ” ایک ایسا نوجوان جس کی پرورش اچھی اور پاکیزہ ماحول میں ہوئی ہو فطرتا نرم و نازک احساسات اور پسندیدہ صفات کی جانب مائل ہوتا ہے۔اس کا قلب اپنے ہم نوعوں کے دکھ درد پر رقت بار ہوجاتا ہے، اپنے دوست و احباب سے میل ملاقات پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتا ہے اور کسی صورت اس بات پر آمادہ نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھوں دوسروں کو دکھ پہنچے۔ ممکن ہے کبھی اسے غصہ آجائے لیکن یہ غصہ جلد ہی ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور وہ فوری طور پر اس کی تلافی کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے۔ جیسے اپنی غلطیوں کی تلافی میں سرگرمی دکھاتا ہے، بالکل اسی طرح دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے میں تاخیر نہیں کرتا”۔

ماحول کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے حادثات اور واقعات بھی انسان کو نفس لوامہ کی جانب مائل کرسکتے ہیں۔ جن کی وجہ سے اس کو اپنی باطنی قوتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح انکے احساس اور عمل میں توازن پیدا ہوجاتا ہے۔

انسان کی بہت سی خواہشیں اور لذتیں ایسی ہیں کہ وہ ان کو پانے میں حد اعتدال قائم کرنے کیلئے بہت کم غیر جانبدار رہتا ہے۔ نفس لوامہ اس حد اعتدال کو قائم رکھنے میں معاونت کرتی ہے۔ اس طرح انسان ان مصیبتوں سے بچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو اس کی زندگی کو تباہی سے دوچار کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ نفس کی وہ کیفیت ہے جو غفلت کی زندگی کو شعور کی زندگی میں تبدیل کر دیتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C