روس نے یوکرین کیساتھ سرحد پر ٹینکوں، توپوں اور اسلحے سے لیس ایک لاکھ فوجی تعینات کر دیئے
👁️ 29 بار دیکھا گیا
روس نے یوکرین کیساتھ سرحد پر ٹینکوں، توپوں اور اسلحے سے لیس ایک لاکھ فوجی تعینات کر دیئے
ماسکو (ڈیلی اردو/بی بی سی) اس وقت ٹینکوں، توپوں اور اسلحے سے لیس تقریبا ایک لاکھ روسی فوجی یوکرین کی سرحد پر تعینات ہیں لیکن روس کا اصرار ہے کہ وہ حملے کی تیاری نہیں کر رہا۔
دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے متنبہ کیا ہے کہ یہ ’مخصوص امکان‘ موجود ہے کہ اگلے ماہ روس یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔
امریکی صدر نے جمعرات کو یہ بیان یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی سے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں دیا۔
امریکہ رد عمل کے لیے تیار
وائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترجمان ایمیلی ہورن کہتی ہیں کہ ’صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ایک مخصوص امکان موجود ہے کہ روسی فروری میں یوکرین پر حملہ کرسکتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق بات چیت کے دوران صدر بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین میں مداخلت کرتا ہے تو امریکہ، اس کے اتحادی اور شراکت دار بروقت ردعمل دیں گے۔
صدر زیلینسکی نے کہا کہ انھوں نے ’کشیدگی کم کرنے کے لیے حالیہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔‘
جنگی طیارے، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں۔۔۔ روس کی تیاریاں عروج پر
واضح رہے کہ عام حالات میں تقریباً 35000 روسی اہلکار مستقل بنیادوں پر یوکرین کی سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔
بدھ کے روز روسی وزارتِ دفاع نے چند تصاویر جاری کی ہیں جن میں روسی دستوں کو یوکرین کی سرحد کے قریب روستوو کے تربیتی مرکز کی جانب گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔
ان میں سے کچھ دستے ایسے بھی ہیں جو 4000 میل دور مشرقی روس سے آئے ہیں۔
بیشتر اندازوں کے مطابق یوکرین کے گرد شمال، مشرق، اور جنوب میں تعینات روسی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے سی این این پر نشر کیے جانے والے یوکرین کے اپنے اندازے کے مطابق، 106000 روسی فوجیوں کے ساتھ 21000 بحریہ اور فضائیہ کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
منگل کو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ ‘خفیہ اطلاعات میں یہ واضح ہے کہ 60 روسی جنگی گروپ یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں‘ جو روس کی کل فوج کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں۔
روایتی روسی فوجیوں کے ساتھ ساتھ خیال کیا جاتا ہے کہ 15000 روسی علیحدگی پسند یوکرین کے لوہانسک اور ڈونیٹسک علاقوں میں بھی موجود ہیں۔
تاہم مغربی تجریہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا روس نے زمینی حملے کے لیے درکار تمام تر تیاریاں کر لی ہیں۔
ان کا اشارہ موبائل فیلڈ ہسپتالوں کی عدم موجودگی کی طرف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیکل عملے کی آمد حملے کی مکمل تیاری کا عندیہ ہو سکتی ہے۔
خلا سے مناظر
سیٹلائٹ تصاویر اس حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتی ہیں۔
کبھی کبھی فوجیوں کی موجودگی خیموں کے رنگ سے پتا چل جاتی ہے۔ جن ٹینٹوں میں فوجی موجود ہوتے ہیں چونکہ انھیں گرم رکھا جاتا ہے اور ان کی چھتوں پر برف پگھل جاتی ہے، اسی لیے خلا سے دیکھنے پر ان کا رنگ زیادہ گہرا معلوم ہوتا ہے۔
بکتر بند گاڑیاں اپنی شکل سے پہچانی جاتی ہیں۔ ٹائروں کے نشانات یا کیچڑ سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ گاڑیوں کی آمد و رفت جاری ہے۔
دوسری جانب بیلاروس میں روس کے کئی ہزار فوجی بھیجے گئے ہیں جن کا مقصد مشترکہ عسکری مشقوں میں حصہ لینا بتایا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی تعداد 10 سے 20 فروری کے درمیان بڑھ جائے گی۔
بیلاروس کے رہنما ایلگزینڈر لوشنکو روسی صدر ولادمیر پوتن کے حمایتی ہیں۔ یوکرین کا دارالحکومت بیلاروس کی سرحد سے 100 میل سے کم فاصلے پر ہے۔
مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مشترکہ مشقیں یوکرین کے خلاف آپریشن کی تیاری میں مدد دیں گی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ آن لائن پوسٹ کردہ تصاویر میں بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں اور راکٹ سسٹمز سمیت فوجی سازو سامان کو سمندر کی جانب پیش قدمی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
Image of a likely Russian military camp in Belarus, geolocated by @danvan71 near Rechitsa, 200 km north of Kyiv, shows BM-27 Uragan multi-launching rocket system transloader vehicle https://t.co/RhD67zwl9b pic.twitter.com/p3C3of8hCI
— CIT (en) (@CITeam_en) January 19, 2022
ادھر روس نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے ایس یو 35 بیلاروس میں بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ روس نے بیلاروس میں فضائی دفاعی نظام، اور طبعی سپورٹ کا عملہ بھی بھیجا ہے۔
سمندر میں فوجی تیاری
روس دنیا بھر میں بحری مشقیں اسی ماہ سے شروع کر رہا ہے جو تقریباً فروری تک چلیں گی۔ ان میں 140 جنگی بحری جہاز اور سپورٹ کشتیاں، 60 طیارے، اور تقریباً 10000 فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔
جنگی ٹینک، افرادی قوت، اور بکتر بند گاڑیوں کو لے جانے کے قابل چھ روسی بحری جہاز انگلش چینل عبور کر کے عسکری مشقوں کے لیے بحیرہِ روم جا رہے ہیں۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ان کی منزل بحریہِ اسود ہے یا یوکرین کا ساحل۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کا بحری راستے سے آ کر زمینی حملہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا اور شاہد ان بحری فوجوں کا مقصد زیادہ اہم زمینی حملوں سے یوکرینی زمینی فوج کی توجہ ہٹانا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4599 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2118 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1915 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C