روس، یوکرین جنگ میں بھارتی ریکروٹس کے خوفناک تجربات
👁️ 72 بار دیکھا گیا
روس، یوکرین جنگ میں بھارتی ریکروٹس کے خوفناک تجربات
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) متعدد بھارتی شہریوں کا دعویٰ ہے کہ ان سے جھوٹے وعدے کرکے روس لے جایا گیا اور یوکرین میں جاری جنگی کارروائیوں میں شرکت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ڈی ڈبلیو نے واپس آنے والے کچھ افراد سے بات کی، جنہوں نے اپنے تجربات بیان کیے۔
کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رہائشی 32 سالہ آزاد یوسف کمار نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2023 میں بیرون ملک ملازمت کے مواقع کی تلاش میں ایک یوٹیوب چینل پر روس میں منافع بخش سکیورٹی پوزیشنز کا اشتہار دیکھا۔
کمار نے کہا کہ وہ ان وعدوں کے بہکاؤے میں آ گئے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کمپنی کو، جو اب بند ہو چکی ہے، سفر اور پروسیسنگ فیس کے طور پر تقریباً 130,000 روپے ادا کیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ یہ رقم اس لئے ادا کیے کیونکہ گریجویشن کرنے کے باوجود مقامی سطح پر انہیں روزگار نہیں مل رہا تھا۔
کمار نے وضاحت کی کہ تب انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ آخر میں روس-یوکرین سرحد پر دیگر درجنوں بھارتیوں کے ساتھ پھنس جائیں گے اور کئی مہینوں تک یوکرین میں روس کی جنگ میں حصہ لیں گے۔
کمار نےبھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی رہائش گاہ سے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’میں نے موت کو قریب سے دیکھا، عسکری تربیت کے دوران میں زخمی بھی ہوا۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انہیں جنگ زدہ یوکرینی شہر لوہانسک میں تعینات کیا گیا تو انہیں جنگ کی ہولناک حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور دیگر ساتھی توپ خانے کی گولہ باری اور لگاتار برستی شیلنگ کے دوران خندقیں کھودنے پر مجبور تھے، اور کئی بار گولے ان کی پوزیشن کے بالکل قریب آ کر گرتے تھے، جس سے ہر لمحہ موت کا خطرہ منڈلاتا رہتا تھا۔
کمار نے بتایا کہ تربیت کے چند ہفتے بعد ناتجربہ کاری کے باعث انہیں گولی لگ گئی، اور وہ دو ہفتے اسپتال میں رہے۔ ’’نو ماہ بعد گھر واپسی کسی معجزے سے کم نہیں تھی، میں بھی ایک بڑے فراڈ کا شکار ہوا، جیسے کئی اور بھارتی نوجوان ہوئے۔‘‘
بھارتی حکومت کے مطابق 126 شہری روسی فوج میں شامل ہوئے، جن میں سے 12 ہلاک، 16 لاپتہ اور 96 وطن واپس آ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ نے باقی افراد کی فوراﹰ واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمار جیسے کئی نوجوان سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے پرکشش آفرز کے جھانسے میں آ کر جنگ کا حصہ بن گئے۔
زندہ بچ جانے پر شکر گزار
23 سالہ سید الیاس حسینی، جو بھارت کی جنوب مغربی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھتے ہیں، نے اپنے دوستوں عبدالنعیم اور محمد سمیر احمد کے ساتھ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں روس میں منافع بخش سکیورٹی گارڈ کی ملازمتوں کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ماہانہ 70,000 سے 100,000 روپے تک تنخواہ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
حسینی نے کہا، ’’میں پہلے دبئی ایئرپورٹ پر ایک کیٹرنگ کمپنی میں ملازم تھا، لیکن پھر واپس بھارت آیا اور اپنے والد سید نواز علی کو روس میں ایک نئی نوکری کے بارے میں بتایا۔‘‘
تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی ملازمت کے بجائے انہیں ایک نجی فوجی کمپنی میں زبردستی بھرتی کر لیا گیا اور نیپال اور کیوبا کے افراد کے ساتھ روس-یوکرین سرحد پر تعینات کر دیا گیا۔
حسینی نے کہا، ’’ہمیں یہ خوف تھا کہ شاید ہم کبھی زندہ واپس نہ آ پائیں، اور جب ہمارے ساتھی، ہیمل منگوکیا جو گجرات کے شہر سورات سے تھے، ایک ڈرون حملے میں خندق کھودتے ہوئے ہلاک ہو گئے، تو مجھے لگا کہ میری باری بھی آ چکی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ کس طرح پچھلے سال مارچ میں ایک موبائل فون حاصل کر کے، دیگر بھارتی شہریوں کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا، جس میں انہوں نے اس انتہائی سنگین صورتحال کے بارے میں بتایا جس کا وہ سامنا کر رہے تھے۔ یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور اس کے بعد حکومت اور سیاستدانوں کو ہماری حالت کا احساس ہوا۔ اس کے بعد کئی مہینوں بعد ہمیں ماسکو واپس بھیجا گیا اور ستمبر میں ہم اپنے وطن واپس آ گئے۔
جولائی میں، بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ماسکو کے دو روزہ دورے کے دوران، روس نے وعدہ کیا کہ وہ ان بھارتی شہریوں کو واپس بھیجے گا جنہیں غلط طریقے سے اس کی فوج میں بھرتی کیا گیا تھا اور پھر یوکرین میں فعال جنگی کارروائیوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔
دھوکے سے میدان جنگ میں
بہت سے نوجوانوں نے کہا کہ انہیں جھوٹے وعدوں پر روس بلایا اور وہ محض اس لیے جنگ کے میدان میں پہنچے کیونکہ وہ روزگار کے لیے بے چین تھے اور بھارت میں کم یا بالکل بھی روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث بیرون ملک جانے زیادہ بہتر محسوس ہوا۔
تلنگانہ کے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے، محمد سفیان، دسمبر 2023 میں ماسکو کے دوموڈیوو ایئرپورٹ پر پہنچے تو ان کے ساتھ وہی بدقسمتی ہوئی جو دیگر نوجوانوں کے ساتھ بھی ہوئی تھی۔ ان کے دستاویزات ضبط کر لیے گئے اور انہیں ایک نجی فوجی کمپنی میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔
سفیان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جنگ کے محاذ پر یہ ایک دہشتناک تجربہ تھا، اور واپس آنے کے بعد بھی مجھے ڈرونز کے بم گراتے، گولیوں کی آوازیں اور لوگوں کی چیخیں سنائی دیتی رہیں ۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں یوکرین کے 50 کلومیٹر اندر روسی فوجیوں کے ساتھ ایک کیمپ میں رکھا گیا تھا، جہاں احتجاج کرنے پر افسران انہیں ڈرا کر خاموش کرنے کے لیے گولی چلاتے تھے۔ ’’یہ ایک معجزہ تھا کہ میں موت سے بچ گیا۔‘‘
ادارتی نوٹ: اس مضمون کے ساتھ شائع کردہ تصاویر انٹرویو دینے والوں نے فراہم کیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کراچی میں آپریشن، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 5 دہشت گرد گرفتار
17/June/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
ایران میں حکومتی تبدیلی کی کبھی پروا نہیں کی، امریکی صدر ٹرمپ
17/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
چارسدہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
17/June/2026 👁️ 134 بار دیکھا گیا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
17/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
پنجاب: اٹک میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ برآمد
16/June/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، ایران
16/June/2026 👁️ 138 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8830 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4562 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3273 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2452 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2094 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1898 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C