25/October/2019

سانحہ ساہیوال، عوامی جذبات اور حقائق (ساجد خان)

👁️ 108 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سانحہ ساہیوال، عوامی جذبات اور حقائق  (ساجد خان)

سانحہ ساہیوال، عوامی جذبات اور حقائق (ساجد خان)

اس سال کے آغاز میں جب سانحہ ساہیوال جیسا اندوہناک واقعہ پیش آیا تو پاکستانی قوم حقیقت میں انتہائی خوفزدہ نظر آئی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد یہ دوسرا واقعہ تھا،جس پر سخت عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے فوراً ہی جے آئی ٹی تشکیل دی، وزیراعظم عمران خان صاحب نے قطر کے دورے سے واپسی پر مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کا اعلان کیا جبکہ اس وقت کے وزیر داخلہ شہریار آفریدی پارلیمنٹ میں اللہ کو دینے کے ساتھ ساتھ سانحہ ساہیوال میں ملوث افراد کو نشان عبرت بنانے کا عہد کرتے نظر آئے لیکن کل اس واقعہ کے تمام ملزمان بری کر دیئے گئے، جس کے بعد عوام کے زخم ایک بار پھر تازہ ہو گئے۔

اس فیصلے کے بعد جہاں عدالتی فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے وہیں پولیس کے کمزور تفتیشی عمل پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں لیکن عوامی ردعمل کے باوجود مقتولین کے ورثاء اس فیصلے سے مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ مقتول خلیل کے بھائی جلیل احمد نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے ریاستی اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا،اس سب کے باوجود عوام میں بے چینی، خوف اور غصہ کم نہیں ہو رہا کیونکہ ان کے مطابق ریاستی ادارے بے لگام گھوڑے بن چکے ہیں اور اگر ان پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے ساتھ ساتھ سزا و جزا کا سخت قانون لاگو نا کیا گیا تو پھر مستقبل میں کسی بھی گھر کے اجڑنے کا واقعہ معمولی سمجھا جائے گا۔

سانحہ ساہیوال میں ہر ادارے یا اشخاص نے نا صرف کوتاہیاں کیں بلکہ اول تا آخر ملزمان کو بچانے کی پوری کوشش کی گئی۔

وقوعہ سے فرازنک ٹیم نے تاخیر سے ثبوت اکٹھے کئے جبکہ فرازنک لیبارٹری میں استعمال ہونے والے اسلحہ کے بجائے دوسرا اسلحہ بھیجا گیا جو گولیوں کے خول سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
جے آئی ٹی میں انہی اداروں کی نمائندگی شامل تھی، جن کی سی ٹی ڈی میں بھی نمائندگی شامل ہوتی ہے۔

سرائیکی کا ایک محاورہ ہے کہ منجھ، منجھ دی بھینڑ ہوندی اے یعنی بھینس،بھینس کی بہن ہوتی ہے۔

پولیس جتنا بھی کمزور ادارہ ہو لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جب بات اپنے پیٹی بھائی کی ہو تو ان کی حتی الامکان یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے پیٹی بھائی کی ہر طرح سے مدد کی جائے، اس بات سے بالانظر کہ اس نے کتنا سنگین جرم کیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس اہلکار کوئی بھی جرم کرنے سے اجتناب نہیں کرتے کیونکہ کہیں نا کہیں، کبھی نا کبھی وہ بیگناہ ثابت ہو کر دوبارہ ڈیوٹی دیتے نظر آئیں گے۔

عدالتی فیصلے پر اگر ہم بات کریں تو میں زیادہ قانون تو نہیں جانتا مگر اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر عدالتی فیصلوں کو دیکھ کر میں یہی سمجھا ہوں کہ نچلی سطح کی عدالتیں عموماً قتل و غارت کے فیصلوں میں مجرم کو شک کا فائدہ نہیں دیتیں، ایک ہی مجرم کو پانچ یا آٹھ مرتبہ سزائے موت کے فیصلے موجود ہیں اور پھر اعلیٰ عدالتوں میں جا کر بہت سے مقدمات میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے کر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا جاتا ہے۔

اب جہاں عدالتی فیصلہ افسوسناک ہے وہیں مجرموں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایف آئی آر میں انچاس گواہ بنانا بھی قابل غور عمل ہے کیونکہ کسی بھی مقدمے میں جتنے زیادہ گواہان موجود ہوں گے معاملہ اتنا ہی پیچیدہ ہو جائے گا اور اس کا فائدہ ہمیشہ ملزمان کو ہی ملتا ہے، کسی بھی ایک گواہ کا منحرف ہونا یا مختلف بیان بقیہ گواہان کی گواہی پر اپنا اثر لازمی طور پر چھوڑتا ہے اور یہی سب کچھ ہوا کہ انچاس گواہان میں سے چوبیس گواہان اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے اور یہ معاملہ انتہائی کمزور ہوتا چلا گیا جبکہ مدعی جلیل احمد اور خلیل احمد کے بچوں نے بھی ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کر دیا، اس کی ایک وجہ ملزمان کا کارروائی کے وقت نقاب پوش ہونا بھی تھا، جس سے شناخت کا عمل متاثر ہوا۔

دوسری اہم وجہ مدعی جلیل احمد کی اندرون خانہ ڈیل بھی ہے، جس کا ذکر گزشتہ رات جیو نیوز کے نامور اینکر حامد میر نے اپنے پروگرام میں کیا، جس میں واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس مقدمے کے مدعی جلیل احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس چوبیس گھنٹے ہیں کہ آپ وضاحت کریں کہ آپ نے اس کیس کو کمزور کرنے میں کیا کردار ادا کیا ورنہ میں عوام کو بتاؤں گا کہ آپ نے کیا ڈیل کی اور جن اداروں کی آپ ویڈیو میں تعریف کرتے نظر آ رہے تھے، ان سے کتنی رقم وصول کی۔

اس چیلنج کے بعد اگر ہم عدالتی فیصلے کو دیکھیں تو ہمیں عدالت اتنی قصوروار نظر نہیں آتی کیونکہ جب ملزم اور مدعی ہی آپس میں ملے ہوئے ہوں تو عدالت اس کے علاوہ کیا فیصلہ دیتی البتہ ایک سوال ہمیشہ جواب طلب رہے گا کہ اگر نامور ملزمان نے قتل نہیں کیا تو وہ چار افراد کی موت کیسے ہوئی، ایکسیڈنٹ میں جانیں گئیں یا کسی نے ان کی جانیں لیں اور اگر کسی نے جانیں لیں تو ان کی نشاندہی یا ان کو سزا کون دے گا ؟

عدالت جہاں چھ ملزمان کو بری کر رہی تھی وہیں فیصلے میں یہ بھی حکم دیا جا سکتا تھا کہ اس کیس کی دوبارہ سے تفتیش کی جائے اور ان افراد کو ملزم نامزد کیا جائے جو واقعہ میں ملوث تھے کیونکہ چار پاکستانی شہری سرعام قتل ہوئے ہیں، یہ صرف چار افراد کے قتل کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس ریاستی ادارے کے ہاتھوں پاکستانی شہری قتل ہوئے ہیں جسے ان کی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا، ان کو شہریوں کی حفاظت کرنے کی تنخواہ دی جاتی تھی اور اگر نچلی سطح کی عدالت کے پاس ایسے حکم کا اختیار نہیں ہے تو اعلیٰ عدلیہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لے کر پوری قوم کو انصاف دلانے میں اہم کردار کرے کیونکہ چند سالوں میں دو ایسے بڑے واقعات پیش آئے ہیں جس سے عوام کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ دہشتگردوں اور اداروں میں سوائے وردی کے اور کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

جب شاہ رخ جتوئی کے قتل کیس میں شرعی اور آئینی طور پر دیت ادا کر کے صلح کو نوٹس لے کر اعلیٰ عدلیہ نامنظور کر سکتی ہے تو پھر یہ واقعہ کہیں زیادہ اہم ہے جس پر نوٹس لیا جائے۔

دہشتگرد بھی بسیں روک کر شناخت کر کے قتل کرتے رہیں اور ہمارے ریاستی ادارے وہی کام وردی میں کریں تو پاکستانی قوم کو عدم تحفظ کا احساس ہونا فطری عمل ہے۔

اس واقعہ میں اول تا آخر ہر شخص نے قومی سطح پر انصاف دلانے کی کوشش کے بجائے ذاتی مفادات کا دفاع کرتے نظر آئے۔

مقتولین کے ورثاء کو بھاری رقم وصول کرنے سے دلچسپی رہی جبکہ یہی افراد واقعہ کے فوری بعد اسے قومی سانحہ قرار دے کر عوام سے احتجاج کی اپیل کرتے نظر آئے مگر جب ذاتی مفادات کی بات آئی تو فوراً ہی عوام کے جذبات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ڈیل کرنے میں مصروف ہو گئے۔

بس یہی ہمارا قومی مسئلہ ہے کہ ہم قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی وجہ سے اس طرح کے اندوہناک واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے کیونکہ مجرموں کو سزا نہیں ملتی۔

پاکستان میں جہاں عدالتیں، ادارے اور قوانین کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں بھی اپنی سوچ بدلنا ہو گی کہ قومی مفادات پر سودا بازی سے پرہیز کرنا ہو گا۔ ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں گے تبھی ہمارا معاشرہ بہتر ہو سکے گا۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C