28/July/2025

سرینگر: آپریشن مہادیو میں 3 عسکریت پسند ہلاک، بھارت کا پہلگام حملے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ

👁️ 235 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سرینگر: آپریشن مہادیو میں 3 عسکریت پسند ہلاک، بھارت کا پہلگام حملے کے منصوبہ  ساز کی ہلاکت کا دعویٰ

سرینگر: آپریشن مہادیو میں 3 عسکریت پسند ہلاک، بھارت کا پہلگام حملے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ

سرینگر (ڈیلی اردو) انڈین فوج نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ سری نگر کے نواحی ہارون پہاڑی علاقے میں جاری "آپریشن مہادیو" کے دوران تین مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق، کارروائی گھنے جنگلات میں کی گئی جہاں عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈیا نے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کا الزام پاکستان میں موجود مسلح گروپوں پر عائد کیا تھا، اور کہا تھا کہ ان گروپوں کو پاکستانی ریاست کی پشت پناہی حاصل ہے۔

 

آنڈین حکومت کے مطابق، اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستان کے اندر کی گئی تھی، جس کے ردعمل میں چھ اور سات مئی کی درمیانی شب "آپریشن سندور" کے تحت نو مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

 

پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انڈیا کے چھ جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم نئی دہلی نے اس کی سختی سے تردید کی۔ پیر کے روز آپریشن مہادیو میں جس شخص کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، اُسے پہلگام حملے کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ اعلان وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بیان سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا۔

 

دریں اثنا، انڈین نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے تحقیقات کا دائرہ بائی سرن کے گرد 12 کلومیٹر سے بڑھا دیا ہے۔ این آئی اے اب تک دو ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں سے پوچھ گچھ کر چکی ہے، جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ ماضی میں عسکریت پسندوں کے بالائے زمین کارکن (اوور گراؤنڈ ورکرز) رہے ہیں۔

 

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، حملے میں شامل افراد کی شناخت ہاشم موسیٰ عرف سلیمان، علی بھائی عرف طلحہ بھائی (دونوں مبینہ طور پر پاکستانی شہری)، اور عادل حسین ٹھوکر (کشمیری باشندہ) کے طور پر کی گئی۔ بعد میں ایک چوتھے شخص، فاروق احمد عرف فاروق ٹیڑوا کا نام بھی سامنے آیا، جو مبینہ طور پر لائن آف کنٹرول کے پار سے حملے کی نگرانی کر رہا تھا۔

 

این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ فاروق نے حملہ آوروں کو کشمیر میں موجود اپنے نیٹ ورک کے ذریعے مقامی او جی ڈبلیو (اوور گراؤنڈ ورکرز) سے رابطہ کرایا۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق، حملہ آوروں کے پاس جدید اینکرپٹڈ موبائل فونز تھے، جن کے ذریعے انھوں نے حملے کے بعد مبینہ پاکستانی ہینڈلرز سے رابطہ بھی کیا۔

 

بعض عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آوروں نے باڈی کیمرے پہن رکھے تھے اور فائرنگ کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ بھی کر رہے تھے۔ تاہم این آئی اے کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

بعد ازاں این آئی اے نے واضح کیا کہ کشمیر پولیس کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دکھائے گئے افراد حملے میں ملوث نہیں تھے۔

 

عسکریت پسندوں کے جن گھروں کو مسمار کیا گیا، ان میں عادل حسین ٹھوکر اور فاروق ٹیڑوا کے مکانات بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران ان گھروں میں بارودی سرنگیں برآمد ہوئیں، جنھیں ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں عمارتیں منہدم ہو گئیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C