سعودی عرب نے 50 سے زائد شیعہ مسلمانوں کے سر قلم کرنے کی تیاری کرلی
👁️ 133 بار دیکھا گیا
سعودی عرب نے 50 سے زائد شیعہ مسلمانوں کے سر قلم کرنے کی تیاری کرلی
ریاض (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) سعودی عرب میں پچاس سے زائد موت کی سزا کے منتظر شیعہ قیدیوں کی آخری اپیلوں پر فیصلہ کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے۔ ان قیدیوں میں پانچ ایسے نوجوان بھی ہیں جنہوں نے جرائم اٹھارہ برس سے کم عمر میں سرزد کیے تھے۔
Mustafa al-Darwish is at risk of execution following a death sentence upheld.
Arrested in 2015 on charges relating to participating in Qatif protests when he may have been a minor, he is one of over 40 detainees in #SaudiArabia, including minors, at risk of the death penalty. pic.twitter.com/kMfuPOx4tq
— ALQST for Human Rights (@ALQST_En) June 8, 2021
یورپی سعودی تنظیم برائے انسانی حقوق (ESOHR) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی حکومت اس وقت شیعہ مسلک کے کئی افراد کو موت کی سزا دینے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اس کی اہم وجہ کئی موت کی سزا کے منتظر قیدیوں کی آخری اپیلوں پر حتمی فیصلے کسی بھی وقت پر سنائے جا سکتے ہیں۔
ایسے مقید افراد کی کم از کم تعداد ترپن ہے۔ ان میں سے تین افراد کی اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں اور ان میں ایک مصطفیٰ الدرویش بھی ہے۔ موت کی سزا کے منتظر ترپن میں سے پانچ قیدی ایسے ہیں جنہوں نے جرائم کا ارتکاب اُس وقت کیا تھا جب ان کی عمر اٹھارہ برس سے کم تھیں۔ الدرویش نے بھی جرم اٹھارہ برس سے کم عمر میں کیا تھا۔
شاہی دستخط ضروری
یورپی سعودی انسانی حقوق کی تنظیم کے قانونی مشیر طحہٰ الحاجی کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیدی کی موت سزا پر عمل درآمد کے اجازت نامے پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان کے دستخط لازمی ہیں۔ الحاجی کئی موت کی سزا کے قیدیوں کی پیروی کر چکے ہیں اور اب جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی اہم تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل، لندن میں قائم قانون حقوق کے ادارے ریپرائیو اور ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکومت سے درخواست کی ہے کہ مصطفیٰ الدرویش کی موت سزا پر نظرثانی کی جائے۔ الدرویش سن 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ الدرویش کو سن 2011/12 میں سعودی حکومت مخالف شیعہ اقلیت کے مظاہروں میں شریک ہونے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت اُس کی عمر سترہ یا اٹھارہ برس سے کم تھی۔
USCIRF Chair @CommrBhargava: "Saudi Arabia must cease its systematic persecution of Shi'a Muslims. Executing another young Shi’a man w/o proper trial & due process for alleged participation in the 2011 protests would be an egregious violation of intl law." https://t.co/hdbOjNnv0w
— USCIRF (@USCIRF) June 7, 2021
کثیر تعداد میں سزائے موت پر عمل درآمد کا امکان
حقوق کے کارکنوں کو اس بات کی تشویش لاحق ہے کہ وسیع پیمانے پر دی جانے والی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کرنے سے کئی ایسے افراد بھی زد میں آئں گے، جنہوں نے جرائم کم عمری یا ٹین ایج میں سرزد کیا ہو گا۔ اس وقت جیل حکام اور وزارتِ انصاف شاہ سلمان کے فیصلے کے منتظر ہیں۔
سن 2019 میں سعودی عرب میں ایک ساتھ سینتیس مردوں کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ ان میں دو وہ بھی تھے جنہوں نے کم عمری میں جرم کیا تھا۔ اس سے پہلے سن 2016 میں سعودی حکام نے ایک ساتھ سینتالیس قیدیوں کو سزائے موت دی تھی۔ سن 2019 میں اس عرب ملک میں ایک سو چوراسی قیدیوں کو موت کی سزا دی گئی تھی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گزشتہ برس ستائیس افراد کی سزائے موت پر عمل کیا گیا تھا۔
حکومت مخالفین کو خاموش کرنے کی سزا
سعودی عرب کے نظام انصاف کے بارے میں آگہی رکھنے والے مبصرین کا موقف ہے کہ سزائے موت اصل میں حکومت مخاف عناصر کو خاموش کرنے کا بھی ایک قانونی ہتھیار ہے۔ نوجوان مصطفیٰ الدرویش کا جرم بھی حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ہونا تھا۔ اس نے اپنے خاندان کو بتایا کہ شدید تشدد کے ساتھ اس سے اعترافات کرائے گئے۔
الدرویش پر دس مظاہروں میں شریک ہونے کے الزام کے علاوہ استغاثہ نے مسلح بغاوت اور دہشت گردانہ نیٹ ورک قائم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ اس کے خاندان کے مطابق عدالتی چارہ جوئی کے دوران مناسب وکیل کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔
بین الاقوامی اپیلوں کے تناظر میں الدرویش کا مقدمہ سعودی عرب کی اعلیٰ ترین عدالت میں اب منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابھی ریاستی سکیورٹی کی عدالت کا فیصلہ آنا باقی ہے۔
موت کی سزا کے منتظر بیشتر افراد شیعہ اقلیت سے
انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم کارکنوں کے مطابق سعودی عرب میں شیعہ اقلیت کو قریب قرب مرکزی دھارے سے علیحدہ کر کے کنارے لگا دیا گیا ہے۔ اس شیعہ کمیونٹی کی جانب سے آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے سنی اکثریت کی حکومت موت کی سزا کو اپنانے میں گریز نہیں کرتی۔ مصطفیٰ الدرویش کا تعلق بھی کتیف کی شیعہ اقلیت سے ہے۔ دوسری جانب موت کی سزا کے ترپن قیدیوں میں اکثریت کا تعلق اسی اقلیت سے ہے۔ سعودی عرب میں کتیف کا علاقہ شیعہ اقلیت کا گڑھ ہے۔
جرمن دارالحکومت برلن میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے نے اس مضمون کے مندرجات پر تبصرے کی ڈی ڈبلیو کی درخواست کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 124 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 158 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 211 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 119 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 130 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4602 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2467 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C