سول نیوکلیئر انرجی ترک کرنا یورپ کی ’اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی، ارزولا فان ڈئر لاین
👁️ 190 بار دیکھا گیا
سول نیوکلیئر انرجی ترک کرنا یورپ کی ’اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی، ارزولا فان ڈئر لاین
برسلز (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) ستائیس رکنی یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون صدر ارزولا فان ڈئر لاین کے مطابق ماضی میں توانائی کے شعبے میں جوہری خطرات کے مقابلے میں قدرے ماحول دوست ذرائع کو ترجیح دیتے ہوئے یورپ نے شہری مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا استعمال ترک کر دینے کا جو فیصلہ کیا تھا، وہ ایک 'اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی۔
انہوں نے کہا کہ یورپی بلاک کو اب اپنے ہاں نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کو ترقی دینے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے یورپی کمیشن زیادہ جدت پسندانہ راستوں کی تلاش کے لیے 200 ملین یورو مختص کرے گا۔
جوہری توانائی سے متعلق سمٹ فان ڈئر لاین نے منگل 10 مارچ کے روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے نواح میں جوہری توانائی سے متعلق ایک سمٹ کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا، ''یہ یورپ کی ایک اسٹریٹیجک غلطی تھی کہ اس نے سبز مکانی گیسوں کے کم اخراج کا سبب بننے والی اور اپنی لاگت کے لحاظ سے قابل برداشت اس جوہری توانائی کے سویلین مقاصد کے لیے استعمال سے منہ موڑ لیا، جو توانائی کی ایک قابل اعتماد شکل ہے۔‘‘
ساتھ ہی یورپی کمیشن کی صدر نے یہ اعلان بھی کیا کہ یورپی کمیشن 200 ملین یورو کی ایک ایسی مالیاتی گارنٹی بھی مہیا کرے گا، جس کے ساتھ جدت پسندانہ جوہری ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری میں ہاتھ بٹایا جا سکے گا۔
یورپی یونین کے جرمنی سمیت کئی رکن ممالک ماضی میں اپنے ہاں شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال ترک کر چکے ہیں۔ جرمنی میں سویلین نیوکلیئر انرجی کے ذریعے کے طور پر کام کرنے والا آخری پاور پلانٹ بھی 2024ء میں بند کر دیا گیا تھا۔
موجودہ جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے ماضی میں جرمنی بھی سول نیوکلیئر انرجی کا استعمال ترک کیے جانے کو ایک غلطی قرار دیا تھا، تاہم وہ بھی اب یہ کہتے ہیں کہ جرمنی میں سول مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کی طرف واپسی کا امکان بہت کم ہے۔
ادھر یورپی یونین کے رکن کل 27 ممالک میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں، جو ابھی تک نہ صرف شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال کرتے ہیں، بلکہ اسے مزید ترقی دینے کے خواہش مند بھی ہیں۔
ان ممالک میں سرفہرست فرانس ہے، جو اپنی توانائی کی موجودہ پیداوار کا 65 فیصد سے زائد ابھی تک ایٹمی بجلی گھروں سے حاصل کرتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ یونین کے رکن 15 ممالک ایسے ہیں، جو جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق اس یورپی اتحاد میں شامل ہیں، جو اس بلاک کے اندر فرانس کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔
اسی دوران یونین کے رکن آسٹریا اور ڈنمارک جیسے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں، جو تاحال اپنے ہاں ایٹمی توانائی کے سویلین استعمال کو سرے سے مسترد کرتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 198 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 251 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 158 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 135 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 246 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 295 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8969 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4828 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3608 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3580 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2570 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2323 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C