11/March/2026

سول نیوکلیئر انرجی ترک کرنا یورپ کی ’اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی، ارزولا فان ڈئر لاین

👁️ 163 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سول نیوکلیئر انرجی ترک کرنا یورپ کی ’اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی، ارزولا فان ڈئر لاین

سول نیوکلیئر انرجی ترک کرنا یورپ کی ’اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی، ارزولا فان ڈئر لاین

برسلز (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) ستائیس رکنی یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون صدر ارزولا فان ڈئر لاین کے مطابق ماضی میں توانائی کے شعبے میں جوہری خطرات کے مقابلے میں قدرے ماحول دوست ذرائع کو ترجیح دیتے ہوئے یورپ نے شہری مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا استعمال ترک کر دینے کا جو فیصلہ کیا تھا، وہ ایک 'اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ یورپی بلاک کو اب اپنے ہاں نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کو ترقی دینے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے یورپی کمیشن زیادہ جدت پسندانہ راستوں کی تلاش کے لیے 200 ملین یورو مختص کرے گا۔

 

جوہری توانائی سے متعلق سمٹ فان ڈئر لاین نے منگل 10 مارچ کے روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے نواح میں جوہری توانائی سے متعلق ایک سمٹ کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا، ''یہ یورپ کی ایک اسٹریٹیجک غلطی تھی کہ اس نے سبز مکانی گیسوں کے کم اخراج کا سبب بننے والی اور اپنی لاگت کے لحاظ سے قابل برداشت اس جوہری توانائی کے سویلین مقاصد کے لیے استعمال سے منہ موڑ لیا، جو توانائی کی ایک قابل اعتماد شکل ہے۔‘‘

 

ساتھ ہی یورپی کمیشن کی صدر نے یہ اعلان بھی کیا کہ یورپی کمیشن 200 ملین یورو کی ایک ایسی مالیاتی گارنٹی بھی مہیا کرے گا، جس کے ساتھ جدت پسندانہ جوہری ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری میں ہاتھ بٹایا جا سکے گا۔

 

یورپی یونین کے جرمنی سمیت کئی رکن ممالک ماضی میں اپنے ہاں شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال ترک کر چکے ہیں۔ جرمنی میں سویلین نیوکلیئر انرجی کے ذریعے کے طور پر کام کرنے والا آخری پاور پلانٹ بھی 2024ء میں بند کر دیا گیا تھا۔

 

موجودہ جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے ماضی میں جرمنی بھی سول نیوکلیئر انرجی کا استعمال ترک کیے جانے کو ایک غلطی قرار دیا تھا، تاہم وہ بھی اب یہ کہتے ہیں کہ جرمنی میں سول مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کی طرف واپسی کا امکان بہت کم ہے۔

 

ادھر یورپی یونین کے رکن کل 27 ممالک میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں، جو ابھی تک نہ صرف شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال کرتے ہیں، بلکہ اسے مزید ترقی دینے کے خواہش مند بھی ہیں۔

 

ان ممالک میں سرفہرست فرانس ہے، جو اپنی توانائی کی موجودہ پیداوار کا 65 فیصد سے زائد ابھی تک ایٹمی بجلی گھروں سے حاصل کرتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ یونین کے رکن 15 ممالک ایسے ہیں، جو جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق اس یورپی اتحاد میں شامل ہیں، جو اس بلاک کے اندر فرانس کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔

 

اسی دوران یونین کے رکن آسٹریا اور ڈنمارک جیسے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں، جو تاحال اپنے ہاں ایٹمی توانائی کے سویلین استعمال کو سرے سے مسترد کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C