23/December/2022

سی ٹی ڈی مرکز بنوں پر حملے میں ہلاک 24 عسکریت پسندوں کی فہرست جاری

👁️ 28 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سی ٹی ڈی مرکز  بنوں پر حملے میں ہلاک 24 عسکریت پسندوں کی فہرست جاری

سی ٹی ڈی مرکز بنوں پر حملے میں ہلاک 24 عسکریت پسندوں کی فہرست جاری

پشاور (ڈیلی اردو) خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر بنوں میں انسداد دہشت گردی کے پولیس تھانے میں ہونے والی فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے 24 مبینہ عسکریت پسندوں کی فہرست جمعرات کی شام شائع کر دی گئی ہے۔

فہرست میں شامل ابراہیم عرف ضرار نامی مبینہ عسکریت پسند کا تعلق بنوں سے ہے اور اس کا علاقہ مٹاخیل بتایا جاتا ہے۔ بدھ کی صبح سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام کے مطابق ضرار نے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک نامعلوم کمانڈر کے ساتھ اتوار کے روز از خود ایک سیکیورٹی اہل کار کو قابو کر کے ان سے سرکاری بندوقیں چھین لیں اور پہلے انہیں اور بعد میں دیگر اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

دستیاب معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ابراہیم عرف ضرار ولد ظاہر شاہ مٹھا خیل بنوں،سلمان عرف اسد عرف غالب ولد سلطان سکنہ مٹھا خیل بنوں، عالم زیب عرف حقیار سکنہ داودخیل ککی بنوں، طاہر عرف درویش ولد فرہاد مٹھا خیل بنوں،قیوم عرف بدری غورہ بکا خیل بنوں،امان اللہ عرف مخلص سکنہ غورہ بکاخیل، مش دین شکنہ میر علی شمالی وزیرستان، نور محمد سکنہ اسپن وام شمالی وزیرستان، عزیز الرحمن سکنہ خدری محمد خیل، شبیل احمد سکنہ کرم گڑھی بنوں، مصطفی ولد سلمان سکنہ دیپا کلی بنوں، ابوبکر ولد عمر زمان بایزید مچن خیل بنوں،جنید سکنہ ممہ خیل سرائے نورنگ، صاحبزادہ عرف محمد سکنہ دبک خیل ڈومیل بنوں، زاہد ولد سردار خان سکنہ لنڈیواہ لکی مروت، صابر سکنہ ککی بنوں، عدنان سکنہ تترخیل بنوں، جنید عرف ڈبل وزیر سکنہ آدم زئی سرائے نورنگ لکی مروت، فاروق سکنہ دوسلی شمالی وزیرستان، اکبر عرف بمبار سکنہ میرعلی شمالی وزیرستان، محمد منیر سکنہ تترخیل بنوں، محمد عارف عرف ہیٹی سکنہ نصرخیل سرائے نورنگ لکی مروت، دلاور ولد فضل الرحمن سکنہ سرائے نورنگ لکی مروت، اور شادمان ولد معراج سکنہ خدری محمد خیل بنوں شامل ہیں۔

سرکاری طور پر جاری کردی فہرست میں شامل تمام 24 مبینہ عسکریت پسندوں کا تعلق بنوں کے علاوہ ملحقہ لکی مروت، شمالی اور جنوبی وزیرستان سے ہے۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں بنوں کے انسداد دہشت گردی پولیس تھانے میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں 19 دہشت گردوں کو ہلاک اور 12 کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر تین سیکورٹی فورسز اور چار انسداد دہشت گردی پولیس کے اہل کاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ جمعرات کے روز فوج کے ایک اہل کار نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ ڈالا اور یوں اب سیکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہل کاروں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بنوں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 7 دہشت گردوں نے ہتھیار پھینکے اور تین کو گرفتار کیا گیا، جب کہ 3 اہل کار ہلاک ہوئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ 18 دسمبر کو بنوں کینٹ کے اندر قائم سی ٹی ڈی کمپلیکس میں زیر حراست دہشت گردوں نے ڈیوٹی کانسٹیبل کو قابو میں کیا اور اسلحہ چھیننے کے بعد دیگر زیر حراست 34 ساتھیوں کو آزاد کرایا، جس کے بعد تمام دہشت گرد باہر نکلے اور مال خانے سے مزید اسلحہ حاصل کر کے فائرنگ کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے 18 دسمبر کو کمپاؤنڈ پر قبضے کے فوری بعد ایک سی ٹی ڈی کانسٹیبل کو شہید جب کہ دوسرے کو زخمی کیا جو دوران علاج جانبر نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ جونیئر کمیشنڈ افسر کو یرغمال بنا کر افغانستان تک محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کمپاؤنڈ پہنچی جہاں 18 دسمبر کو ہی دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک اور تین کو گرفتار کیا گیا۔ علاوہ ازیں سیکیورٹی فورسز کے دو اہل کار زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہتھیار نہ پھینکنے پر 20 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز نے طوفانی ایکشن کیا جس کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک جب کہ مجموعی طور پر 10 گرفتار ہوئے۔

ترجمان کے مطابق آپریشن میں صوبیدار میجر خورشید اکرم، سپاہی سعید، سپاہی بابر ہلاک ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسران سمیت 10 سپاہی زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ پر باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ سے فرار ہونے کی کوشش کی جس کو بروقت ایکشن سے ناکام بنایا گیا اور اُن کے افغانستان محفوظ طریقے سے پہنچانے کے مطالبے کو رد کردیا گیا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے کینٹ ایریا میں قائم سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران اہل کار کی رائفل چھین کر فائرنگ کی اور عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

دہشت گردوں نے مغوی اہل کاروں کے ساتھ ویڈیو بناکر جاری کی جس میں انہوں نے رہائی کے عوض مختلف مطالبات پیش کیے جس میں افغانستان کی طرف محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ حکام نے مغوی اہل کاروں کی بازیابی کے لیے مذاکرات کیے جو ناکام ہوگئے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے کمپاؤنڈ سے دہشت گردوں کا قبضہ ختم کرایا اور تمام اہل کاروں کو بازیاب کرایا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C