23/November/2019

شام: تل ابیض میں خودکش کار بم دھماکا، 10 افراد شہید، 25 زخمی

👁️ 83 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام: تل ابیض میں خودکش کار بم دھماکا، 10 افراد شہید، 25 زخمی

شام: تل ابیض میں خودکش کار بم دھماکا، 10 افراد شہید، 25 زخمی

دمشق + انقرہ (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) شام کے سرحدی شہر تل ابیض میں ہفتے کے روز خودکش کار بم دھماکے میں 10 شہری شہید اور 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس وقت یہ سرحدی شہر پر ترکی کی فوج کا کنٹرول ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بم دھماکے میں زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے پیش نظر شہادتوں کی تعداد میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تل ابیض میں ہونے والے بم دھماکے میں بائیس زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق تل ابیض کا شہر ترک فورسز نے آپریشن کے بعد کرد ملیشیا سے لیا تھا، ترک فورسز کے آنے بعد سے شہر میں تیسرا دھماکا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق الرقہ سے شمال میں واقع قصبے عین عیسیٰ میں آج ترک فوج نے ایک حملہ بھی کیا ہے۔ حملے میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

الرقہ کے شمال میں واقع علاقوں پر اس وقت شامی فوج کا کنٹرول ہے اور وہاں گذشتہ چند روز کے دوران میں 9 بم دھماکے ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب ترک وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں حملے کی ذمہ داری کرد جنگجوؤں پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کار دھماکا صنعتی علاقے میں کیا گیا ہے، کرد باغی مسلسل امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تل ابیض میں یہ اس ماہ یہ تیسرا کار بم دھماکا ہے۔

شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کرد ملیشیا کے زیر قیادت خودمختار انتظامیہ نے فیس بُک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی فورسز اور اس کے اتحادی شامی باغی گروپوں نے جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ مزید علاقوں پر قبضے کررہے ہیں۔

اس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عینِ عیسیٰ پر ترک فوج کے حملے کے بعد ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور وہاں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے مگر ترک صدر رجب طیب ایردوآن شامی مہاجرین کے پتے کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

اس نے بیان میں یورپی یونین اور دوسرے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کی وضاحت کریں اور ترکی کے خلاف پابندیاں عاید کریں۔

واضح رہے کہ ترکی اور اس کے اتحادی شامی گروپوں نے تین فوجی کارروائیوں کے بعد جنگ زدہ ملک کے شمال مشرقی سرحدی علاقے میں تل ابیض اور راس العین سمیت متعدد شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ ترک فوج نے سن 2016، 2018 اور 2019ء میں تین مرتبہ شام کے شمال مشرقی اور شمال مغربی سرحدی علاقے میں کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس نے حالیہ کارروائی اکتوبر 2019 میں کی تھی اور پانچ روز کے بعد کرد ملیشیا اور ترک فوج کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔ ترکی کی اس فوجی دراندازی کا مقصد شام کے سرحدی علاقے میں ایک محفوظ زون کا قیام ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C