صحافی ارشد شریف کو ‘باقاعدہ منصوبہ بندی’ کے تحت قتل کیا گیا، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ
👁️ 105 بار دیکھا گیا
صحافی ارشد شریف کو ‘باقاعدہ منصوبہ بندی’ کے تحت قتل کیا گیا، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی طرف سے سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس میں بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافی ارشد شریف کو ‘باقاعدہ منصوبہ بندی’ کے تحت قتل کیا گیا۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ کینیا میں ارشد شریف کے میزبانوں خرم اور وقار کا کردار اہم اور مزید تحقیق طلب ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے 23 اکتوبر کو ارشد شریف کے قتل سے پہلے اور اس کے بعد کینیا میں ہونے والے تمام واقعات، ان کا سفری ریکارڈ، موبائل فون ڈیٹا، ڈیوائسز، واٹس ایپ اور ای میل کے بارے میں بھی تمام معلومات رپورٹ میں شامل کی ہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی 592 صفحات پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارشد شریف کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ مقدمات کی وجہ سے صحافی کو پاکستان چھوڑنے اور پھر بعد میں دبئی سے بھی نکلنے پر مجبور کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے کینیا بھیجی گئی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور انٹیلی جنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد حامد شامل تھے۔ دونوں افسران نے کینیا میں ارشد شریف کے قتل کے محرکات اور اُن کے میزبانوں سے سوالات کے علاوہ کینین حکام سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق کینیا کے جنرل سروس یونٹ (جی ایس یو) کے چار پولیس افسران اور جی ایس یو ٹریننگ کیمپ کو کسی دباؤ یا پھر مالی معاونت کے تحت استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیا کی پولیس نے تحقیقات میں کوئی معاونت نہیں کی تاہم کیس میں کئی غیرملکی کرداروں کا کردار اہمیت کا حامل قرار دے دیا گیا۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کو ویزہ لیٹر بھجوانے والے وقار احمد، کمیٹی کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے جب کہ گاڑی چلانے والے وقار کے بھائی خرم اور کینیا کے پولیس افسران کے بیانات بھی تضاد سے بھرپور ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارشد شریف کو کمر پر بھی گولی ماری گئی تاہم سیٹ پر گولی کا کوئی نشان نہیں۔ یہ بات اس واقعہ کو مشتبہ بناتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ قتل سے پہلے ارشد شریف کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ارشد شریف کو دھمکیاں
فیکٹ فائنڈنگ میں بتایا گیا ہے کہ ارشد شریف کو کس نے دھکمیاں دیں اس بارے کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ ان کے خلاف پاکستان میں 16 مقدمات درج کیے گئے اور صرف تین مدعی ہی سامنے آ سکے۔
ایک ایک دن میں تین تین ایف آئی آر درج کی گئیں، خدشہ ہے کہ مقدمات کے اندراج میں قانونی طریقوں کو پورا نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کراچی میمن گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایس ایچ او نے ایس ایس پی ملیر کے کہنے پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے دفتر میں جاکر تین افسران سے ملاقات کی جن کے کہنے پر ارشد شریف، عماد یوسف اور سلمان اقبال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
فیکٹ فائنڈنگ کا زیادہ تر حصہ لوگوں سے کیے گئے انٹرویو پر مشتمل ہے جب کہ اس کیس میں زیرِ استعمال گاڑی، نقشہ جات، کرائم سین، قتل کیس میں استعمال اسلحہ، بیلسٹک رپورٹ، ارشد شریف کے موبائل فون، ڈیوائسز، واٹس ایپ اور ای میل کی جائزہ بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارشد شریف کو 20 جون 2022 کو متحدہ عرب امارات کا ویزہ ملا۔
یہ ویزہ 18 اگست 2022 تک کے لیے تھا، دبئی سے ارشد شریف کینیا گئے تو ان کے ویزے میں 20 دن باقی تھے۔ارشد شریف نے نئے ویزے کے لیے 12 اکتوبر 2022 کو دوبارہ رجوع کیا تھا لیکن ان کی درخواست کو رد کردیا گیا۔
کمر پر گولی لگی، سیٹ پر کوئی نشان نہیں
رپورٹ میں فائر کی جانے والی گولیوں کی ٹریجکٹری (یعنی گولی کسی جانب سے آئی) کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے سینے میں لگنے والی گولی کی ٹریجکٹری فائرنگ پیٹرن سے نہیں ملتی۔
ارشد شریف کو ایک گولی کمر کے اوپری حصے میں لگی۔ گولی گردن سے تقریباً 6 سے 8 انچ نیچے لگی جو سینے کی جانب سے باہر نکلی، اس زخم سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ گولی قریب سے چلائی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جس زاویے سے گولی چلی اس کے نتیجے گاڑی کی سیٹ میں بھی سوراخ ہونا چاہیے تھا۔
وقار اور خرم کے انٹرویوز
رپورٹ کے مطابق ارشد شریف نے وقار احمد کے گیسٹ ہاؤس میں 2 ماہ 3 دن قیام کیا۔ وقار احمد کے مطابق وہ اپنے والد کے کنسٹرکشن کاروبار میں شامل تھے اور اس کے علاوہ ان کے کانٹریکٹس مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی تھے۔ وقار احمد کے کینین پولیس اور وہاں کی انٹیلی جنس ایجنسی بالخصوص نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی سے قریبی تعلقات ہیں۔
وقار کے مطابق حادثے کے بعد پولیس نے ارشد کا آئی فون، آئی پیڈ، بٹوہ، 2 یو ایس بیز حوالے کیں۔
وقار احمد نے آئی فون اور آئی پیڈ نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے افسر کو دے دیا،ایک دن بعد پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک افسر کو ارشد شریف کی چیزیں لینے کے لیے بھیجا۔
وقار کے مطابق اس نے این آئی ایس کے افسر کو کال کرکے بتایا، این آئی ایس کے افسر نے وقار کو پاکستانی ہائی کمیشن کو کسی بھی چیز کو تحویل میں لینے سے روکا، بعدازاں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر پوسٹ کا افسر بھیجا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیا میں پاکستان ہائی کمیشن کے افسروں کو اہم شواہد ملے، ہائی کمیشن افسروں کو 2 موبائل، ایک کمپیوٹر اور ارشد کی ایک ذاتی ڈائری ملی، ارشد شریف یہ چیزیں کینیا میں رہائش کے دوران استعمال کررہے تھے۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا تھا کہ کینیا میں وقار احمد سے پہلی 3 ملاقاتیں کافی مددگار ثابت ہوئیں، اس کیس میں وقار احمد نے پہلے سی سی ٹی وی فوٹیج دینے پر آمادگی ظاہر کی لیکن بعد میں فوٹیج دینے سے معذرت کرلی۔
وقار احمد نے کہا فوٹیج لوکل اتھارٹیز کے حوالے نہیں کی گئی اس کا کہنا تھا کہ وکیل اور بیوی نے فوٹیج نہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ میں وقار کے چھوٹے بھائی خرم کا بھی ذکر ہے۔
خرم کا کہنا تھا کہ وہ کھانے کے بعد ارشد شریف کو ساتھ لے کر نکلا، راستے میں انہیں سڑک پر پتھر نظر آئےجس پرخرم نے ارشد کو بتایا کہ یہ ڈاکو ہوں گے، جیسے ہی سڑک پر پڑے پتھروں کو پار کیا تو انہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی، گولیوں کی آواز سنتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گئے۔
خرم نے بتایا کہ میں نے محسوس کیا ارشد شریف کو گولی لگی ہے، خرم نے اپنے بھائی وقار کو فون کیا جس نے اسے فارم ہاؤس پر پہنچنے کا کہا جس فارم ہاؤس پر خرم کو آنے کا کہا گیا وہ جائے وقوعہ سے 18 کلو میٹر دور تھا۔
فارم ہاؤس پہنچ کر خرم نے گاڑی کو گیٹ پر ہی چھوڑ دیا اور اندر بھاگ گیا۔ خرم کا کہنا ہے ارشد کی ہلاکت فارم ہاؤس کے گیٹ پر ہوئی۔ وقوعہ کی جگہ سے فارم ہاؤس تک خرم کے علم میں نہیں تھا کہ ارشد زندہ ہے یا نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ایک عجیب بات ہے کیوں کہ ارشد کے سر میں گولی لگی تھی جس زاویے پر خرم بیٹھا تھا اسے نظر آنا چاہیے تھا کہ ارشد بری طرح زخمی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کینیا کے چار پولیس اہلکار اور ٹریننگ کیمپ کو بطور آلہ کار استعمال کیا گیا۔ واقعہ کے اہم کردار وقار احمد کےکینیا دیگر عالمی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ وقار احمد نے ارشد شریف کا فون پولیس کی بجائے کینیا کی انٹیلی جنس ایجنسی کو دے دیا۔
‘آئی ایس پی آر ارشد کا دوسرا گھر تھا’
رپورٹ میں ارشد شریف کے وکیل بیرسٹر شعیب کا انٹرویو بھی کیا گیا جنہوں نے بتایا کہ پاکستان فوج کا ترجمان ادارہ آئی ایس پی آر ارشد کا دوسرا گھر تھا۔ ارشد شریف آئی ایس پی آر میں کام کرنے والے بریگیڈیئر شفیق کے بہت قریب تھے، حکومت کی تبدیلی کے بعد ارشد شریف کے بریگیڈیئر شفیق سے اختلافات ہوگئے۔
وکیل نے بتایا کہ ارشد شریف کے خلاف کچھ مقدمات بریگیڈیئر شفیق کے کہنے پر درج ہوئے، ان کے مطابق ارشد شریف کے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل آصف غفور کے ساتھ بھی بہترین تعلقات تھے۔
فیصل واوڈا نے بیان نہیں دیا
پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا مختلف پریس کانفرنسز اور شو ٹی وی شوز میں بیانات دیتے رہے لیکن فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو انہوں نے نہ تو کوئی شواہد دیے اور نہ ہی اپنا بیان جمع کرایا۔
رپورٹ کے مطابق ارشد کے قتل بارے فیصل واوڈاکی پریس کانفرنس پر ان سے 15 نومبر کو رابطہ کیا گیا، فیصل واوڈ اسے ارشد شریف کے قتل سے متعلق شواہد طلب کیے گئے۔ اُن کی درخواست پر ٹیم نے انہیں7 سوال تحریری طور پر دیے۔ جواب کے لیے دوبارہ رابطے کی کوشش پر انہوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضاد
رپورٹ میں پوسٹ مارٹم کا زکر بھی کیا گیا اور بتایا گیا کہ ارشد شریف پر تشدد کے ٹھوس شواہد نہیں مل سکے۔ پاکستان اور کینیا کی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تضاد ہے۔
کینیا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کا ناخن ڈی این اے کے لیے لیا گیا۔ لیکن کینیا کے حکام نے نہیں بتایا کہ کتنے ناخن بطور سیمپل لیے گئے۔
دوسری جانب پاکستانی ڈاکٹرز کے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ارشد شریف پر تشدد کے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔ پاکستانی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے چار ناخن نہیں تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالات کے مطابق خرم احمد کا مؤقف درست نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ ممکنہ طور پر ارشد شریف کو کھڑی گاڑی میں نشانہ لے کر مارا گیا۔
ارشد شریف کی کمر میں لگنے والی گولی پولیس اور خرم کے مؤقف سے متضاد ہے، ارشد شریف کی کمر میں گولی قریب سے یا ممکنہ طور پر گاڑی کے اندر سے ماری گئی۔
رپورٹ کے مطابق فائرنگ کرنے والے ایک پولیس اہلکار سے کینیا کے پولیس احکام نے ملنے نہیں دیا، اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کے فائرنگ کرنے والا شخص پولیس والا ہے یا نہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے رپورٹ میں ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ ایف آئی اے میں انسداد دہشت گردی ونگ میں درج کرنے کی سفارش کی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
03/June/2026 👁️ 285 بار دیکھا گیا
امریکی طیاروں نے ایک بار پھر ایران میں فضائی حملے کیے، پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائیاں
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
ٹانک میں دہشت گردوں کی فائرنگ، چھٹی پر آیا پولیس اہلکار ہلاک
03/June/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
جزوی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری
03/June/2026 👁️ 326 بار دیکھا گیا
بنوں: دہشت گردوں نے گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی، پشاور میں دھماکا
03/June/2026 👁️ 276 بار دیکھا گیا
لبنان میں طویل المدتی اسرائیلی قبضہ ناقابلِ قبول ہے، فرانس
03/June/2026 👁️ 481 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3190 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C