صحافیوں کا کام صحافت کرنا ہے، سیاست نہیں، سپریم کورٹ
👁️ 128 بار دیکھا گیا
صحافیوں کا کام صحافت کرنا ہے، سیاست نہیں، سپریم کورٹ
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) سپریم کورٹ میں صحافیوں کی طرف سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے پر چیف جسٹس نے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ درخواست گزار پریس ایسوسی ایشن کے علاوہ باقی صحافیوں نے درخواستیں واپس لے لیں۔
سماعت کے دوران کمرہٴ عدالت میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صحافیوں کا کام صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی ہدایت پر صحافیوں کی درخواست کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی بینچ قائم کیا گیا جس کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کر رہے تھے۔ جب کہ بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس قاضی امین اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
پیر کو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار صحافی کمرہٴ عدالت میں موجود تھے۔
درخواست گزار عبد القیوم صدیقی روسٹرم پر آئے تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عبد القیوم صدیقی آپ بھی درخواست گزار ہیں۔ اس پر صحافی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جو واقعات پیش آئے ان پر وہ بہت رنجیدہ ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی درخواست واپس لیے رہے ہیں۔
اس پر عدالت نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست ازخود نوٹس لینے کے لیے تھی اور جب ایک بار عدالت نے ازخود نوٹس لے لیا تو پھر درخواست گزار کا مقدمہ عدالت کا مقدمہ بن جاتا ہے۔ اب یہ کیس عدالت کا مقدمہ بن چکا ہے۔ بے شک عدالت میں کوئی بھی صحافی نہ ہو یہ کیس چلایا جائے گا اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
کیس کے دوسرے درخواست گزار پریس ایسوسی ایشن کے صدر امجد بھٹی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ وہ اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں۔
امجد بھٹی نے کہا کہ معاشرے میں تاثر پایا جاتا ہے کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے لیکن صحافیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ انہیں نوکریوں سے جبری طور پر نکال دیا جاتا ہے۔
اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ صحافی معاشرے کا ضمیر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور کسی طور اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اگر صحافی سچ بولیں گے تو کوئی ادارہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔
آخر میں جسٹس قاضی امین نے کہا کہ صحافیوں کا کام صحافت کرنا ہے جیسے بطور جج وہ سیاست نہیں کر سکتے۔ ایسے ہی صحافی سیاست نہیں کر سکتے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں صحافیوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں وہ بھارت یا پھر امریکہ کے آئین میں بھی حاصل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے پہلے ایک لہر میں درخواستیں دیں اور اب ایک لہر میں ہی واپس لے رہے ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد، چیئرمین پیمرا، اٹارنی جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام کو طلب کیا۔
صحافی عامر میر نے اپنی درخواست واپس لینے کے لیے لکھی گئی درخواست میں کہا کہ انہوں نے نادیدہ طاقتوں کی جانب سے ایف آئی اے کی آڑ میں خود سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف داد رسی کے لیے 20 اگست کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کی پیٹیشن کو فٹبال بنا کر اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کے بعد وہ شدید مایوس ہوئے ہیں اور انہیں عدالت سے انصاف کی کوئی امید نہیں۔ لہٰذا وہ اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں۔
عامر میر کا کہنا تھا کہ نظر نہ آنے والے جو عناصر انہیں ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کے ذریعے ڈرانے، دھمکانے اور گرفتار کرانے جیسے واقعات کے پیچھے ہیں۔ وہ انصاف دینے والوں سے زیادہ بااثر ہیں۔
صحافی قیوم صدیقی نے درخواست واپس لیتے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے واقعات پر میں وہ رنجیدہ ہیں اور انہیں انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ اس وجہ سے وہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ رہے ہیں۔
کمرہٴ عدالت میں موجود صحافی عمران وسیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں صحافی تقسیم نظر آئے۔ صحافی کی نصف تعداد ایسی تھی جو سپریم کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی تھی اور نصف تعداد اس کیس کو چلانا چاہتی تھی۔
بعض صحافیوں کا خیال تھا کہ صحافیوں کا صرف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتماد کرنا اور باقی ججز پر عدم اعتماد درست نہیں ہے۔ البتہ اس صورتِ حال پر صحافی آپس میں ہی ایک دوسرے سے تکرار کرتے رہے کہ ہونا کیا چاہیے۔
رواں ماہ 20 اگست کو سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کی عدالت میں ایک کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد صحافیوں نے جسٹس فائز عیسیٰ کو درخواستیں پیش کیں جن میں صحافیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔
عدالت نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکام کو طلب کیا تھا۔ البتہ بعد میں سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لینے کے معاملے پر پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا جس نے دو سماعتوں کے بعد فیصلہ دیا کہ ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ دوران سماعت کوئی اہم معاملہ سامنے آنے پر بھی چیف جسٹس کو ہی معاملہ بھجوایا جائے گا جو اس پر ازخود نوٹس لے سکتے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ کی عدالت کی طرف سے لیا گیا ازخود نوٹس واپس لے لیا گیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے صحافیوں کے تحفظات کے بارے میں ازخود نوٹس لیا اور تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔
اس بینچ کی پہلی سماعت کے دوران پانچ درخواست گزاروں میں سے چار نے اپنی درخواستیں واپس لے لیں اور اب پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواست پر سماعت جاری رہے گی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 297 بار دیکھا گیا
ایران نواز گروہوں سے عالمی خطرہ، امریکہ نے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا
20/July/2026 👁️ 150 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار
20/July/2026 👁️ 197 بار دیکھا گیا
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، کرم سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال
20/July/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 202 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4811 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3571 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3411 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2318 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C