طالبان کے موجودہ دور اقتدار میں ہزار سے زائد شہری ہلاک
👁️ 38 بار دیکھا گیا
طالبان کے موجودہ دور اقتدار میں ہزار سے زائد شہری ہلاک
نیو یارک (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی) اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں اگست سن دو ہزار اکیس کے وسط میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک وہاں کیے گئے بہت سے خونریز حملوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی طرف سے منگل 27 جون کے روز کہا گیا کہ اگست 2021ء میں کابل میں افغان طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد سے ملک میں مختلف حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اس سے پہلے کے برسوں کے مقابلے میں واضح کمی ہوئی ہے۔ تاہم ایسی ہلاکتوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور ملک کے مختلف صوبوں میں کیے جانے والے مہلک حملے آج بھی عام شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔
عالمی ادارے کے افغانستان کے لیے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے لے کر اس سال مئی کے آخر تک وہاں ہونے والی خونریزی میں 1,095 عام شہری ہلاک اور 3,774 زخمی ہو چکے تھے۔
ان اعداد و شمار کے مقابلے میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل سال 2020ء میں ایسے حملوں میں مجموعی طور پر 3,035 افغان شہری ہلاک اور 8,820 زخمی ہوئے تھے۔
تین چوتھائی حملے دیسی ساخت کے بموں کی مدد سے
اقوام متحدہ کے مطابق اگست 2021ء سے لے کر مئی 2023ء تک افغانستان میں کیے گئے حملوں میں سے تین چوتھائی دیسی ساخت کے بموں سے کیے گئے۔
ان بم دھماکوں میں زیادہ تر عبادت گاہوں، کاروباری مراکز اور تعلیمی اداروں جیسی پرہجوم رہنے والی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان کے لیے عالمی ادارے کے امدادی مشن کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تقریباﹰ 21 ماہ پر محیط اس عرصے کے دوران کیے گئے خونریز حملوں میں جو افغان شہری ہلاک ہوئے، ان میں 92 خواتین اور 287 بچے بھی شامل تھے۔
تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ اس عرصے کے دوران یہ رجحان بھی دیکھا گیا کہ خاص طور پر عبادت گاہوں، بالخصوص اقلیتی شیعہ مسلمانوں کی مساجد پر کیے جانے والے دیسی ساخت کے بموں سے حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اسکولوں پر حملوں میں بھی سو کے قریب ہلاکتیں
یو این اے ایم اے کی اس رپورٹ کے اجرا کے ساتھ ہی افغانستان میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا۔ اس بیان کے مطابق تقریباﹰ 1100 شہری ہلاکتوں میں سے کم از کم 95 افراد اس وقت ہلاک ہوئے، جب مختلف اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ تعلیمی ادارے بھی زیادہ تر شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے والی ہزارہ نسلی اقلیتی برادری کے تھے۔
افغانستان میں طالبان کے دوسرے دور اقتدار میں کیے جانے والے ان خونریز حملوں میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری داعش یا ‘اسلامک اسٹیٹ‘ کی اس مقامی عسکریت پسند شاخ نے قبول کر لی تھی، جو ‘اسلامک اسٹیٹ خراسان‘ کہلاتی ہے۔
موجودہ افغانستان میں داعش کی یہی علاقائی شاخ ایک ایسی عسکریت پسند سنی مسلم تنظیم ہے، جو طالبان کی سب سے بڑی حریف شدت پسند تنظیم ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 189 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 317 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 165 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4603 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2120 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C