غزہ میں متعدد امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر اسرائیلی پابندیاں
👁️ 371 بار دیکھا گیا
غزہ میں متعدد امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر اسرائیلی پابندیاں
یروشلم (ڈیلی اردو، ڈی ڈبلیو، روئٹرز، اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے) اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں نئے سال 2026ء میں کئی بین الاقوامی ہیومینیٹیرین تنظیموں کی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔
متعدد معروف انٹرنیشنل اداروں سمیت متاثرہ تنظیموں کی تعداد دو درجن سے زائد بنتی ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں نئے سال 2026ء میں کئی بین الاقوامی ہیومینیٹیرین تنظیموں کی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔ متعدد معروف انٹرنیشنل اداروں سمیت متاثرہ تنظیموں کی تعداد دو درجن سے زائد بنتی ہے۔
یروشلم سے بدھ 31 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ پٹی کے جنگ سے تباہ شدہ علاقے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کاموں میں مصروف دو درجن سے زائد ایسے بین الاقوامی اداروں کی کارروائیاں معطل کر دی گئی ہیں، جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور کیئر (CARE) جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ان ہیومینیٹیرین اداروں کی سرگرمیاں اس لیے معطل کی گئیں کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی رجسٹریشن سے متعلق نئے اسرائیلی قوانین پر عمل درآمد میں ناکام رہے۔
سرگرمیوں کی معطلی کا پس منظر
اسرائیل کی طرف سے ماضی میں بار بار الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروپ غزہ پٹی میں پہنچنے والی امداد تک اس لیے رسائی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کے ارکان امدادی تنظیموں کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسا الزام ہے، جس کی اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کی طرف سے تردید کی جاتی ہے۔
دوسری طرف غیر حکومتی تنظیموں (این جی اوز) کی رجسٹریشن سے متعلق نئے اسرائیلی قوانین کے حوالے سے ایسی تنظیموں کی اکثریت کی شکایت یہ ہے کہ وہ من مانے طریقے سے بنائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نئی پابندیوں سے جنگ سے تباہ شدہ غزہ پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاکھوں انسانوں تک امداد کی ترسیل کا عمل بھی متاثر ہو گا، حالانکہ غزہ کی شہری آبادی کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔
نئے اسرائیلی ضابطوں میں ہے کیا؟
یروشلم سے نیوز ایجنسی اے پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ نئے اسرائیلی ضابطوں میں این جی اوز سے ان کی رجسٹریشن کے عمل میں کئی نظریاتی مطالبات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
مثال کے طور پر ایسی تمام امدادی تنظیموں کو ان کی رجسٹریشن اور اس کے بعد غزہ پٹی میں امدادی سرگرمیوں کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، جنہوں نے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہو، سات اکتوبر 2023ء کے اسرائیل میں حماس کے حملے کی نفی کی ہو، یا بین الاقوامی عدالت انصاف میں دائر کردہ ایسے مقدمات میں سے کسی کی کسی بھی طرح حمایت کی ہو، جو اسرائیلی فوجیوں یا رہنماؤں کے خلاف دائر کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیل کی طرف سے اسی سال اعلان کردہ ان نئے ضابطوں میں یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اپنی رجسٹریشن کے لیے تمام امدادی تنظیموں کو اپنے تمام کارکنوں کے نام رجسٹر کرانا ہوں گے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا ہو گا کہ انہیں کن سرگرمیوں کے لیے کتنے مالی وسائل کہاں سے ملتے ہیں۔
نئے ضوابط کے تحت یہ سب شرائط پوری کرنے کے بعد ہی غیر حکومتی امدادی تنظیمیں غزہ پٹی میں آئندہ اپنا کام جاری رکھ سکیں گی۔
ڈایاسپورا افیئرز کی اسرائیلی وزارت کا موقف
اسرائیلی کی ڈایاسپورا افیئرز کی وزارت کے مطابق 30 سے زائد امدادی تنظیمیں اور گروپ اب تک اپنی رجسٹریشن کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ تعداد غزہ پٹی میں کام کرنے والی ہیومینیٹیرین تنظیموں کی تعداد کا 15 فیصد بنتی ہے۔
اس وزارت کے مطابق نئے قوانین پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد غزہ پٹی میں ان تنظیموں کی امدادی سرگرمیاں نئے سال سے معطل کر دی جائیں گی۔
ان تنظیموں میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نامی وہ تنظیم بھی شامل ہے، جو غزہ پٹی میں سرگرم سب سے بڑی اور معروف ترین امدادی تنظیموں میں سے ایک ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ تنظیم اسرائیل کے ان دعوؤں پر کوئی بھی ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہی، جن کے مطابق اس کے کچھ کارکنوں کا تعلق حماس اور جہاد اسلامی نامی فلسطینی عسکریت پسند تنظیموں سے ہے۔
اسرائیل پر ’امداد کی فراہمی کو سیاسی طور پر استعمال کرنے‘ کا الزام
بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی امدادی تنظیم آکسفیم کی یروشلم میں پالیسی چیف بشریٰ خالدی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں الزام لگایا کہ اسرائیل کی طرف سے این جی اوز سے کیے جانے والے مطالبات سے نئے سال 2026ء کے آغاز سے غزہ پٹی میں امدادی سرگرمیوں کے بڑی حد تک معطل ہو جانے کا خطرہ ہے۔
ساتھ ہی بشریٰ خالدی نے یہ الزام بھی لگایا کہ نئے قوانین ’’امداد کی فراہمی کو سیاسی طور پر استعمال کرنے‘‘ کے مترادف بھی ہیں۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو ٹی وی کو بتایا، ’’رجسٹریشن کے لیے اسرائیلی مطالبات پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ’’ہم اپنے کارکنوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے خود پر عائد ہونے والے فرائض کی خلاف ورزی‘‘ کے مرتکب ہوں گے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 8 مبینہ دہشتگرد گرفتار، دھماکہ خیز مواد اور دستی بم برآمد
17/October/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا، تین مسافر اور ڈرائیور رہا
17/October/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد نے پنکئی پولیس چوکی کی عمارت گرا دی
17/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے قریب فائرنگ، 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک
17/October/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر راکٹ حملہ، ایک ہی علاقے میں دو واقعات رپورٹ
17/October/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
ایران سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازع کے سیاسی حل میں تعاون کے لیے تیار
17/October/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15616 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11912 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9261 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7518 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5466 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C