10/February/2020

قطر: دوحہ میں افغان طالبان وفد کی زلمے خلیل زاد اور قطری وزیر خارجہ سے ملاقات

👁️ 72 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
قطر: دوحہ میں افغان طالبان وفد کی زلمے خلیل زاد اور قطری وزیر خارجہ سے ملاقات

قطر: دوحہ میں افغان طالبان وفد کی زلمے خلیل زاد اور قطری وزیر خارجہ سے ملاقات

دوحہ (ڈیلی اردو) قطر میں طالبان نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور قطری وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں امن مذاکرات پر تبادلہ خیال ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر میں طالبان سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ملا برادر کی قیادت میں قطر دفتر کے طالبان وفد نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور قطر کے وزیر خارجہ سے دوحہ میں ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں امن مذاکرات اور اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان نیوز ایجنسی خامہ پریس کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ‘ملا محمد فاضل، ملا خیراللہ خیرخوا اور مولوی امیر خان متقی سمیت طالبان کی دیگر سینئر قیادت ملاقات میں موجود تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے سے ملاقات کے دوران قطر کے وزیرخارجہ بھی موجود تھے۔

سہیل شاہین کے مطابق اجلاس کے شرکا نے امن عمل سمیت مستقبل میں لیے جانے والے اہم اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان 2018 میں براہ راست مذاکرات شروع ہوگئے تھے اور اب تک امن مذاکرات کے 11 دور ہوچکے ہیں۔

قطر میں امریکی نمائندے سے ملاقات کے حوالے سے ٹویٹر میں اپنے بیان میں طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ شام کو امارت اسلامی افغانستان کے نائب سیاسی امور ملا برادر اخوند، ملا محمد فضل، ملا خیراللہ خیرخوا اور مولوی امیر خان متقی کی قطر کے وزیرخارجہ اور زلمے خلیل زاد سے ملاقات ہوئی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مذاکرات کے نتائج اور اس کے بعد کارروائیوں کے حوالے سے چند اہم امور پر بات کی گئی’۔

یاد رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد امن مذاکرات اور معاہدوں کے لیے 2 فروری کو کابل پہنچے تھے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی نمائندے نے اشرف غنی کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی مگر وہ طالبان سے تنازع کو کم کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے پر پہنچ جائیں گے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔

زلمے خلیل زاد نے دورہ افغانستان سے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت متعدد حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

پاکستان میں امریکی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ ‘زلمے خلیل زاد نے تشدد کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جس کے ذریعے امریکا-طالبان معاہدے، انٹرا افغان مذاکرات اور مستحکم امن کے لیے جامع اور مستقل جنگ بندی کی راہیں کھلیں گی’۔

امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد طالبان کو حملے کم کرنے کے لیے معاہدے پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آئے تھے جو 18 سال سے افغانستان میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کی جانب پہلا قدم ہے۔

پاکستان کے وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ فوری امن معاہدے کی حمایت کی ہے اور تشدد کو کم کرنے کی واشنگٹن کے مطالبے کو دوہرایا ہے تاہم افغان فوج اور اس کے امریکی اتحادیوں کی جانب سے تشدد نے تشویش پیدا کردی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان تقریباً ایک سال سے جاری مذاکرات ستمبر 2019 میں اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوگئے تھے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی جانب سے مبینہ تشدد کو جواز بناتے ہوئے اس عمل کو ‘مردہ’ قرار دے دیا تھا۔

گزشتہ ماہ طالبان ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے 7 سے 10 روز کے مختصر سیز فائر کی پیشکش کی ہے تاکہ معاہدہ کیا جاسکے تاہم اس پیشکش کی تفصیلات کے حوالے سے دونوں جانب سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C