09/November/2019

قوم آج مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا 142واں یوم ولادت منارہی ہے

👁️ 20 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
قوم آج مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا 142واں یوم ولادت منارہی ہے

قوم آج مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا 142واں یوم ولادت منارہی ہے

لاہور + کراچی (ڈیلی اردو) مفکر پاکستان، شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 142واں یوم ولادت آج انتہائی عقیدت و احترام اور ملی جوش و جذبہ سے منایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔

علامہ اقبال نے متعدد کتابیں لکھیں، جن میں بال جبریل، بانگ درا، کلیات اقبال، مسجد قرطبہ، ذوق و شوق شامل ہیں۔

یوم اقبال کے سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے، جن کے دوران اقبال کی زندگی کے ہر پہلو اور سوچ و افکار پر روشنی ڈالی جائے گی۔

نو نومبر اٹھارہ سو ستتر کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا شمار برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ساز شخصیات میں ہوتا ہے۔ اقبال پہلے وہ مفکرِ عظیم ہیں جنھوں نے سب سے پہلے یہ محسوس کر لیا تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں اب مسلمان اور ہندو اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

آپ نے 1899ء میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1905ء میں وہ یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

وطن واپسی کے بعد آپ وکالت کے پیشے سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوئے، علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی ہی سے ہوچکا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے داغ دہلوی سے اصلاح لی۔

علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری و احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں مگر بدقسمتی سے وہ پاکستان کی صورت میں اپنے خواب کو حقیقت کے روپ میں ڈھلتا نہ دیکھ سکے اور 21 اپریل 1938 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انہیں لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ناصرف پاکستان بلکہ دیگر کئی اسلامی ممالک میں ان کے نام سے شاہرات موسوم کی گئی ہیں۔

علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، پس چے چہ باید کرد اے اقوام شرق اور ارمغان حجاز کے نام شامل ہیں۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر ملک بھر میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے سب اے اہم تقریب مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی تھی۔ پاک بحریہ کے کیڈٹس اور جوانوں نے پنجاب رینجرز کے جوانوں کی جگہ مزار اقبال پر اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے۔

تقریب میں اسٹیشن کمانڈر لاہور کموڈور ساجد محمود نے پریڈ کا معائنہ کیااور چیف آف نیول اسٹاف اور پاک بحریہ کے افسروں و جوانوں کی جانب سے علامہ اقبال کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال محض ایک فلسفی شاعر ہی نہیں بلکہ انسان کے انسان کے ہاتھوں استحصال کے بھی خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے انسان بلا تمیز رنگ و نسل اور مذہب ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رویہ روا رکھیں اور باہمی احترام و انسیت سے وابستہ رہیں کہ یہی منشا رب کائنات ہے۔پاکستانی کی نئی نسل بھی اقبال کی احترام آدمیت کی سوچ کو سراہتی ہے۔علامہ ایک طرف امت مرحوم کا نوحہ کہتے ہیں تو دوسری طرف وہ مسلم نوجوان کو ستاروں پر کمندڈالنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔ اقبال قوم کو خانقاہوں سے نکل کر میدان عمل میں اترنے پر ابھارتے ہیں وہ اسلامی دنیا میں روحانی جمہوریت کا نظام رائج کرنے کے داعی تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C